اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بلوچستان میں امن اور استحکام کا راستہ

سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 70 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ کارروائیاں ناگزیر ہیں کیونکہ کسی بھی معاشرے میں مسلح گروہوں کو عوامی زندگی‘ ریاستی اداروں اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عزمِ استحکام کے ویژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا تسلسل اس قومی ضرورت کا تقاضا ہے۔ بلوچستان کے سکیورٹی مسائل کی بات کی جائے تو وہاں بیک وقت دو طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایک تو فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی ہے جس سے نمٹنا ناگزیر ہے جبکہ دوسری جانب بلوچ عوام کی محرومیوں کا خاتمہ کر کے انہیں دہشت گردوں اور عوامی حقوق کو پامال کرنے والوں کے چنگل سے چھڑانے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔ یہ ایک پیچیدہ سیاسی‘ معاشی اور سماجی چیلنج ہے جس کے پائیدار حل کیلئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ان حالات کو بھی تبدیل کرنا ہوگا جو محرومی‘ پسماندگی اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ بلوچستان میں عوامی محرومی کی صورتحال تشویشناک ہے۔

گزشتہ برس اسلام آباد میں منعقدہ ایک سمپوزیم میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں کثیر جہتی غربت کے حوالے سے تشویشناک اعداد وشمار پیش کیے تھے۔ بقول ان کے صوبے میں 51 فیصد گھرانے آمدنی کے لحاظ سے غربت کے دائرے میں آتے ہیں جبکہ 71 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت میں مبتلا ہے۔ اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں غربت کی شرح تقریباً 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ صوبے میں 46.6 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں جبکہ 35 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ شرحِ خواندگی ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔صرف25 فیصدآبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن کیلئے سماجی ترقی ایک بنیادی تقاضا ہے۔ اس لیے ضرورت ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ہے جس میں سکیورٹی‘ معیشت‘ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور بنیادی شہری سہولتوں کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی و معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ اس کے پاس معدنیات‘ ساحلی پٹی اور وسیع رقبے کی صورت میں ترقی کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان امکانات کو عوامی خوشحالی میں پوری طرح تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ طویل فاصلے‘ بنیادی ڈھانچے کی کمی‘ انتظامی مسائل‘ سرمایہ کاری کی رکاوٹیں اور سکیورٹی کے چیلنجز اس عمل میں حائل ہیں۔

اس لیے بلوچستان کیلئے قومی پالیسی کا بنیادی مقصد انسداد دہشتگردی کے ساتھ ساتھ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے جس میں عام شہریوں کو تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ صاف پانی‘ سڑک‘ بجلی اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ جب لوگوں کو اپنے علاقوں میں ترقی‘ روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع میسر آئیں گے تو دہشت گرد گروہوں کیلئے نوجوانوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔ بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے ایک طرف ریاستی قوت اور دوسرے طرف عوامی فلاح کا عزم ضروری ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں مگر اس کے ساتھ تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ بنیادی سہولیات اور معاشی مواقع میں حقیقی بہتری لانا ہوگی۔ بلوچستان میں پائیدار امن سکیورٹی اور ترقی کے اشتراک سے مشروط ہے۔ جب ریاستی رٹ مضبوط ہو گی‘ عوامی اعتماد بحال ہو گا اور ترقی کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچیں گے تو شدت پسندی کی گنجائش خود بخود کم ہو گی۔ یہی وہ جامع حکمت عملی ہے جو بلوچستان کو بدامنی کے اس منحوس چکر سے نکال کر امن‘ استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں