اوزون آلودگی
یورپی یونین کے فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والے ادارے کوپرنیکس ایٹماسفیئر مانیٹرنگ سروس کے مطابق لاہور دنیا کے ان چند شہروں میں شامل ہو چکا ہے جہاں زمین کی سطح پر اوزون آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔فضا کی بلندیوں پر اوزون کی تہہ زمین کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتی ہے ‘ تاہم زمین کی سطح کے قریب اوزون کی زیادہ مقدار انسانی صحت ‘ ماحولیاتی نظام اور زرعی پیداوار کیلئے انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ یہ آلودگی گاڑیوں اورکارخانوں کے دھوئیں اور فصلوں کی باقیات کے جلائے جانے اور دیگر گیسوں کے تیز دھوپ اور گرمی میں کیمیائی ردِعمل سے بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور صنعتی اخراج سمیت مختلف عوامل اس آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ سموگ کی طرح دیگر بڑے شہروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ماحولیاتی اداروں کو اوزون آلودگی کے تدارک کیلئے بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ آلودگی کی یہ قسم چونکہ مختلف گیسوں کے باہمی ردِعمل سے بنتی ہے‘ اس لیے اس پر قابو پانے کیلئے ان گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہوگا۔ اس کیلئے گاڑیوں کے دھویں کی مؤثر جانچ‘ صنعتی اخراج کی سخت نگرانی‘ صاف ایندھن کا فروغ‘ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام اور فضائی آلودگی کی مسلسل نگرانی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔