بھارتی فالس فلیگ
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کا کچا چٹھا کھول دیا۔ کچھ روز پہلے بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرکے علاقے میں ایک آپریشن کے دوران آصف عرف ہاشم موسیٰ نامی شخص کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس سلسلے میں پاک فوج کے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کی شناختی دستاویزات پیش کیں ۔ مگر بھارت کے اس الزام کو جھٹلانے کیلئے ایس ایس جی کے سابق حوالدارمحمد آصف ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بذاتِ خود موجود تھے۔ بھارت کی جانب سے ایک پاکستانی کے کوائف کو پراپیگنڈے کیلئے استعمال کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں مگر بھارتی جھوٹ کے اس پلندے کا انجام بھی وہی ہوا جو اس سے پہلے اس طرح کی رام کہانیوں کاہوتا رہا ہے۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے چنانچہ بھارتی پراپیگنڈے کی رائی کا پہاڑ بھی حقیقت کے سامنے لمحہ بھر کو ٹک نہ سکا۔ یہ سچ ہے کہ یہ میڈیا اور پراپیگنڈا وار فیئر کا زمانہ ہے مگر بھارتی پراپیگنڈے کو دھول چاٹنی پڑی اور ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔ ہندوستان بلا شبہ الزامستان بن چکا ہے اور یہ کیفیت اس کی اسٹیبلشمنٹ کی نفسیاتی شکست و ریخت کو واضح کرتی ہے۔

بھارت کے کھوکھلے دعوؤں کی وجہ سے دنیا میں کوئی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ دہائیوں تک بھارت مغرب کو چین کا خوف اور پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات بیچتا رہا اور خود کو اس خطے میں ’’ نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر‘‘ بنا کر پیش کیا‘مگر معرکۂ حق نے بھارت کی فوجی صلاحیت کا بھانڈا پھوڑ دیا جبکہ بھارتی دہشت گردی اور تخریب کاری‘ جس کا سلسلہ پاکستان اورجنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے مغرب تک پھیل چکا ہے‘ نے بھارت کے دہشت گردی سے متعلق الزامات کی قلعی کھول دی ؛چنانچہ اس حال میں جب بھارت کی نہ کوئی دفاعی حیثیت ہے اور نہ علاقائی اثر و رسوخ ‘ کھوکھلے پراپیگنڈے کے زور پر بھارت اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی سر توڑ کوشش کررہا ہے ۔آج جب دنیا پاکستان کو حقیقی معنوں میں علاقائی عسکری اور سفارتی قوت کے طور پر دیکھتی ہے تو بھارت کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں اور پراپیگنڈے کی فریب کاریوں سے وہ پاکستان کے امیج کو گہنانے کی فکر میں رہتاہے۔پاک فوج کے سابق حوالدار کے کوائف کو پراپیگنڈے کیلئے استعمال کرنے کی دوسری کوئی وجہ نہیں۔ ہم بھارت کے اس گھناؤنے چہرے اور مجرمانہ کردار کو فراموش نہیں کر سکتے جو بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
بھارت کی افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ دوسری جانب سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر قانونی مداخلت سے بھارت خطے میں تناؤ کا خواہش مند ہے۔ اس صورتحال میں افواجِ پاکستان اور ریاست کے دیگر اداروں کی جانب سے بھارتی ریشہ دوانیوں کے توڑ کیلئے مؤثر اقدامات خوش آئند ہیں کہ نہ بھارتی پراپیگنڈے کی دال گلنے دی جاتی ہے اور نہ میدان جنگ میں بھارت پاکستان کی عسکری قوت کا سامنا کرنے کے قابل ہے‘ تاہم ایک میدان جس میں ہمیں بھارتی چال بازیوں کا توڑ کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے وہ انسداد دہشت گردی ہے۔ اس کے باوجود کہ سکیورٹی فورسز بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کی بیخ کنی میں دن رات مصروف ہیں اور اس میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں ‘اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمیں داخلی اور عوامی سطح پر مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد اکثر و بیشتر سماج کے اندر اپنے رابطے قائم کرتے اور اپنے لیے سہولت کاری کے مواقع بناتے ہیں‘ اس لیے دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی‘ سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی ساتھ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔