ایل پی جی مزید مہنگی
حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں 20روپے 68پیسے فی کلو کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ایل پی جی کی نئی سرکاری قیمت 279روپے 32پیسے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ زمینی صورتحال یہ ہے کہ بازاروں میں گیس پہلے ہی ساڑھے چار سو سے پانچ سو روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے ملک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا جو طوفان اٹھا ‘ اس کی گرد تاحال بیٹھتی نظر نہیں آ رہی‘ جس کی بڑی مثال ایل پی جی کی ہوشربا قیمتوں کی ہے ۔ صارفین گزشتہ تقریباً سات ماہ سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نام پر ناجائز منافع خوروں کے نرغے میں ہیں مگر حکومتی اور انتظامی رِٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔

ایل پی جی گھریلو استعمال کے علاوہ تنوروں‘ ریستورانوں‘ چھوٹی صنعتوں اور رکشہ وغیرہ میں بھی بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے مگر سرکار اور بازار کی قیمتوں میں اس قدر تفاوت نے صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ حکومت کو ایل پی جی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخ مقرر کرنے تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے‘ بلکہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ملک میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ہر ممکن ریلیف پہنچائے اور توانائی و اشیائے خورونوش کی مارکیٹ میں نظم و ضبط قائم کرے تاکہ کسی بحران کی صورت میں بھی عوام کو اضافی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔