اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی کے نظام کی اصلاح ناگزیر

گزشتہ روزپنجاب اسمبلی میں اراکین نے اوور بلنگ‘ لٹکتی تاروں اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں عوامی مسائل اور شکایات کے انبار لگا دیے۔ اراکین اسمبلی نے گلیوں اور بازاروں میں لٹکتی تاروں کو موت کا سامان قرار دیتے ہوئے انکے فوری تدارک کا مطالبہ کیا جبکہ بجلی چوری کے نقصانات کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ شکایات کسی ایک علاقے یا طبقے کا مسئلہ نہیں ‘ بجلی کے پورے نظام میں موجود ان خامیوں کی عکاسی کرتی ہیں جن کا خمیازہ عام صارف برسوں سے بھگت رہا ہے۔ 

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اپنی انتظامی کمزوریوں اور بجلی چوری سے ہونے والے نقصانات کی تلافی اوور بلنگ کے ذریعے کرنے کے بجائے چوری کی روک تھام‘ میٹرنگ کے مؤثر نظام اور ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب پر توجہ دینی چاہیے۔ اسی طرح گلیوں‘ بازاروں اور رہائشی علاقوں میں لٹکتی بجلی کی تاریں انسانی جانوں کیلئے مستقل خطرہ ہیں۔ حکومت اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اس معاملے میں حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت‘ نیپرا اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو اوور بلنگ‘ بجلی چوری‘ شکایات کے پیچیدہ نظام‘ لوڈشیڈنگ اور لٹکتی تاروں جیسے مسائل کے مستقل حل کیلئے واضح ٹائم لائن کیساتھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں