مکہ دفاعی معاہدے کا نفاذ
سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدے کی سٹرٹیجک پولیٹکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں حرمین شریفین کے تحفظ اور خلیج کی خودمختاری کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر معاہدے کو فوری طور پر آپریشنل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دفاعی اتحاد کے تحت پاکستان اور ترکیہ کی افواج کو فوری طور پر سعودی عرب میں تعینات کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ یہ فیصلہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ مسلم امہ کے مجموعی سکیورٹی ڈھانچے میں ایک نئے عہد کا آغاز ہے‘ جو روایتی دفاعی حکمتِ عملیوں کو یکسر بدل دے گا۔ سعودی عرب کی سرزمین پر ترک اور پاکستانی افواج کی تعیناتی عسکری نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ تزویراتی اقدام تینوں برادر ممالک کے مابین اعلیٰ ترین سطح کی جنگی تیاریوں‘ فوجی انضمام اور عصرِ حاضر کے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ جب مسلم دنیا کے تین مختلف جغرافیائی اور تزویراتی پسِ منظر رکھنے والی افواج ایک مشترکہ کمانڈ کے تحت یکجا ہوں گی تو ان کی آپریشنل صلاحیتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔

پاکستان کی روایتی جنگی مہارت اور دہشت گردی کے خلاف طویل تجربہ اور ترکیہ کی جدید نیٹو طرز کی عسکری صلاحیتیں سعودی عرب کے دفاعی وسائل کے ساتھ یکجا ہوں گی تو ایک ناقابلِ تسخیر حصار قائم ہو گا۔ یہ فوجی انضمام مشترکہ فضائی مشقوں‘ انٹیلی جنس شیئرنگ اور جدید جنگی ہتھیاروں کے باہمی تبادلے کو بھی فروغ دے گا جس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ مکہ معاہدے کو عملی شکل دینا سہ ملکی اجتماعی دفاع کے عزم کی ساکھ اور اثر انگیزی میں بے پناہ اضافے کا باعث بنا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں معاہدے تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن ان کی اصل طاقت ان کے عملی نفاذ میں پنہاں ہوتی ہے۔ رواں سال اگست میں مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد محض دو ماہ میں اسے عملی طور پر نافذ کر دینا دنیا بھر بالخصوص دشمن قوتوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ اسلام آباد‘ ریاض اور انقرہ کے مابین جو سکیورٹی اتحاد قائم ہوا تھا‘ وہ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی ایک حقیقی اور پختہ کاوش ہے۔
اس فیصلے کے بعد کوئی بھی مخالف قوت خلیجی ممالک کی سلامتی پر نظر ڈالنے سے پہلے سو بار سوچے گی۔ سعودی عرب کی سرزمین پر پاکستانی اور ترک افواج کی باقاعدہ تعیناتی سے نہ صرف علاقائی دفاع مضبوط ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ گزشتہ چند دہائیوں سے یہ خطہ پراکسی جنگوں اور غیر ریاستی عناصر کی مہم جوئی کا نشانہ بنا رہا ہے اور اب بیرونی مداخلت اور مسلط کی گئی جنگوں سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی معیشت اور انرجی سکیورٹی بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔ ایسے میں دو بڑی اور منظم مسلم عسکری قوتوں کی سعودی عرب میں موجودگی ایک سکیورٹی بفر کا کام کرے گی جو خطے میں طاقت کے خلا کو پُر کرے گی۔ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور یہ معاہدہ پاکستان کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ دوسری جانب حالیہ تجربات سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی کہ خلیجی ممالک کے دفاع کیلئے اٹلانٹک پار کی طاقتوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی اس خطے پر کوئی افتاد پڑی‘ مغربی طاقتوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دی ۔ پاکستان اور ترکیہ کی فوجوں کی تعیناتی خطے میں جنگوں کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کا سبب بنے گی کیونکہ مضبوط دفاع ہی جارحیت کا سب سے بڑا سدباب ہوتا ہے۔ مکہ معاہدے کا نفاذ مسلم امہ کی خود انحصاری کی طرف ایک بڑی جست ہے۔ مسلم دنیا کے تین بڑے ممالک کا یہ اتحاد اس بات کا اعلان ہے کہ خلیج کا دفاع اب کسی بیرونی بیساکھی کا محتاج نہیں‘ یہ خطہ اپنی حفاظت خود کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔