سیکرٹری جنرل کا دورہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد میں موجود ہیں۔اس دورے کا مقصد پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیرینہ تعاون کو مزید اجاگر کرنا‘ علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال‘ عالمی امن و سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو نمایاں کرنا ہے۔ تاہم اس دورے کا سب سے اہم پہلو اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کی امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے اور متحارب فریقوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا اعتراف ہے۔ گزشتہ روز نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے دو شدید ترین تنازعات‘ خلیج و مشرق وسطیٰ اور یوکرین جنگ کے حوالے سے اہم ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی دہائیوں پر محیط میزبانی کو بھی خراج تحسین پیش کیا‘ جس پر اسحاق ڈار نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گرد حملوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ اگر افغانستان میں امن‘ استحکام اور انسانی تحفظ عالمی برادری کی ترجیح ہے تو افغان سرزمین سے دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کا راستہ روکنا بھی اسی عالمی ذمہ داری کا حصہ ہونا چاہیے۔