پشاور سکول سانحہ
پشاور میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 33معصوم طلبہ اور دو اساتذہ کے جاں بحق ہونے کے دلخراش سانحے نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس سانحے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران ملک میں تعلیمی اداروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے کم از کم 19 حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں سے 12حادثات پنجاب‘ چار سندھ اور تین خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ مجموعی طور پر ان حادثات میں 77 افراد جاں بحق ہوئے‘ جن میں اکثریت چھوٹے بچوں کی ہے۔ ان مسلسل حادثات کے باوجود اگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کیلئے کوئی مؤثر‘ مستقل اور ملک گیر نظام قائم نہیں ہو سکا تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات‘ ناقص منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام کی سنگین ناکامی ہے۔ جون میں لاہور میں کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے بعد خستہ حال عمارتوں میں قائم سکولوں اور ٹیوشن سنٹروں کے خلاف ملک گیر سطح پر کارروائی کی ضرورت محسوس کی گئی لیکن پشاور میں پیش آنے والا یہ حادثہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے صوبوں نے کاہنہ سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

ہماری حکومتیں ایسے افسوسناک سانحات رونما ہونے کے بعد ہی کیوں متحرک ہوتی ہیں۔ سکول کی عمارت کی حفاظت محض مالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کی نگرانی اور ضابطہ کاری سے بھی براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نجی سکولوں کو این او سی جاری کرنے سے پہلے عمارت کی بنیادوں‘ ستونوں‘ چھتوں‘ دیواروں‘ تعمیراتی مواد اور مجموعی ساخت کی جانچ پڑتال مستند سول انجینئرز سے کرانی چاہیے۔ صرف کاغذی کارروائی یا رسمی معائنے کی بنیاد پر کسی عمارت کو تدریسی سرگرمیوں کیلئے محفوظ قرار دینا بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح نئے سکولوں کے علاوہ پہلے سے قائم شدہ تعلیمی اداروں کی بھی مرحلہ وار جانچ ضروری ہے‘ خصوصاً ان عمارتوں کی جو پرانی‘ خستہ حال یا غیر منظور شدہ اضافی تعمیرات کی حامل ہوں۔ مستقبل میں ایسے سانحات کیلئے تدارک کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت تمام سرکاری و نجی سکولوں‘ مدارس اور ٹیوشن سنٹروں کا جامع سروے کرانا چاہیے۔ ہر ضلع میں مستقل انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں‘ جو مقررہ مدت میں عمارتوں کا معائنہ کریں اور اپنی رپورٹ متعلقہ تعلیمی و تعمیراتی حکام کو جمع کرائیں۔ اگر ایسا کوئی نظام پہلے سے موجود ہے تو اسے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ پشاور سانحے کی تحقیقات کیلئے کمیٹیاں ضرور تشکیل دی جائیں مگر اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے نتائج کی بنیاد پر ملک بھر میں حفاظتی نظام کی اصلاح کی جاتی ہے یا یہ معاملہ بھی چند روزہ خبروں اور سرکاری بیانات کے بعد فراموش کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کی جان کسی بھی انتظامی غفلت‘ مالی مفاد یا ادارہ جاتی بے حسی سے زیادہ قیمتی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو اب یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سانحات پر محض افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے ان کی روک تھام کا عزم اور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔