اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور سیاسی مفاہمت

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے بنکاک میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات میں پاکستان میں معاشی استحکام اور اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کے بعد سٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور پائیدار ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کیلئے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد اور بجٹ میں مقرر کردہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب یہ ہدایات ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی ادارہ گلوبل معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن متاثر ہونے کا سنگین خدشہ ظاہر کر رہا ہے۔ ایک طرف ملکی معیشت کو بیرونی محاذ پر منڈلاتے خطرات کا سامنا ہے اور دوسری طرف اندرونی ساختی مسائل ہیں‘ جن کے حل اوراصلاحات میں اب کسی سستی‘ تاخیر یا کوتاہی کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔اس وقت ایک بڑا معاشی چیلنج ملک کے ٹیکس نظام کی اصلاح اور مقررہ اہداف کا حصول ہے۔ رواں مالی سال کیلئے 15ہزار 264 ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے سترہ فیصد زیادہ ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہمیشہ رجسٹرڈ مینوفیکچرنگ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا رہا جبکہ ریٹیل‘ ہول سیل‘ زراعت اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبے غیر دستاویزی اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہے۔

ایسے میں محصولات کے ہدف کے حصول کیلئے حکومتوں کا زور بالواسطہ ٹیکسوں کی پالیسی پر رہا ہے جس کا سب سے ہولناک اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے‘ جس کی تصدیق ورلڈ بینک اور یو این ڈی پی کے بعد اب حالیہ گلوبل ہنگر انڈیکس رپورٹ سے بھی ہوتی ہے‘ جس کے مطابق پاکستان میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ اس تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ہنگر انڈیکس سکور 25.5 ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ عالمی سکور 18.1 فیصد اور جنوبی ایشیا کا علاقائی سکور 23.5 فیصد ہے۔ 122 ممالک میں پاکستان 106ویں نمبر پر ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھارت‘ بنگلہ دیش اور ایران سے بہت پیچھے ہے۔ مسلسل معاشی عدم استحکام‘ ریکارڈ مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ملک کی بڑی آبادی کو بنیادی غذائی ضروریات سے محروم کر دیا ہے‘ خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت اور سٹنٹنگ کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار ملک کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اب محض خوش کن اعداد وشمار کے گورکھ دھندے سے باہر نکل کر ٹھوس فیصلے کیے جائیں۔ آئی ایم ایف کے اہداف کا حصول اور ٹیکس نیٹ میں وسعت ناگزیر سہی مگر بڑھتی ہوئے غربت کے سنگین اشاریوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

عوام پر معاشی اصلاحات کا بوجھ اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ وہ متوسط اور نچلے طبقے کو بھوک اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیں۔ ورلڈ بینک ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں 39.6 فیصد کثیر جہتی غربت کے علاوہ تقریباً 13 فیصد ایسے افراد کی بھی نشاندہی کر چکا ہے جو بمشکل اپنا سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس مشکل وقت میں عوام کا معاشی تحفظ از حد ضروری ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ پاکستان میں معاشی بحران کا معاملہ بہت حد تک سیاسی عدم استحکام کیساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو حل کیے بغیر پائیدار معاشی استحکام ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ چار پانچ برس کے تجزیے سے یہ بات بہ آسانی ثابت کی جا سکتی کہ جب بھی سیاسی عدم استحکام کا معاملہ سنگین ہوا‘ معیشت بھی لرزنے لگی۔ لہٰذا اب حکمت عملی میں سدھار لانے کی ضرورت ہے۔ معاشی استحکام کے تقاضے کے طور پر ہی سہی‘ سیاسی مفاہمت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں