پاکستان کا خلائی مشن
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو چین کے خلائی مرکز سے خلا میں جائے گا اور پاکستان کا ہدف 2035ء تک چاند پر لینڈنگ ہے۔ پہلے پاکستانی خلا باز کی آئندہ ماہ خلا میں روانگی نہ صرف خلائی شعبے میں طویل ملکی جمود توڑنے کا سبب بنے گی بلکہ یہ نئی نسل کیلئے بھی ایک تحریک ثابت ہو گی۔ 1961ء میں پورے براعظم ایشیا میں سب سے پہلے پاکستان نے سپارکو کے نام سے خودمختار اور باقاعدہ خلائی ادارے کی بنیاد رکھی تھی مگر پینسٹھ برس کے بعد بھی پاکستان خلا میں سیٹیلائٹ اور خلاباز کو بھیجنے کیلئے دوست ملک چین کی مدد کا محتاج ہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت کا خلائی ادارہ سپارکو کے آٹھ برس بعد قائم ہوا تھا اور وہ 2014ء میں مریخ کے مدار اور 2023ء میں چاند کے جنوبی قطب تک پہنچنے والے پہلے ملک کا اعزاز حاصل کر چکا۔ آج دفاع سے لیکر انٹرنیٹ‘ موسمیاتی تغیرات اور زراعت تک ہر شے سیٹیلائٹس کی محتاج ہے۔ اگر ہماری حکومتیں اپنے خلائی ادارے کو ضروری سہولتیں فراہم کرتیں اور خلا کی تسخیر کو اہم قومی مقاصد میں شامل کرتیں تو یقینا سپارکو آج اس میدان میں سرخیل ہوتا۔ دیر آید درست آید! ماضی کی اس غفلت کو اب مستقبل کے اہداف کیلئے ایک سبق بنانے کی ضرورت ہے اور یاد رکھنا چاہیے کہ مربوط سرمایہ کاری اور ٹھوس لگن کے بغیر اس میدان میں ہم اپنی صلاحیتیں نہیں منوا سکتے۔