اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف سیاسی تعاون

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے ۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کا المیہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ملک کا مغربی نصف کئی سال سے خونریزی کا سامنا کر رہا ہے ۔ یہ صورتحال جہاں شہریوں کی جان و مال کیلئے سنگین خطرہ ہے وہیں معاشی ترقی کے امکانات کیلئے بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ جب دہشتگردی زدہ علاقوں میں جان ومال کے خطرات اس قدر ہوں گے تو معمول کے مطابق اقتصادی سرگرمیوں کا جاری رہنا ممکن نہیں۔ ملک کے ان حصوں کو اس خوفناک صورتحال سے نکالنا قومی ذ مہ داری ہے‘ مگر بدقسمتی سے جب بھی اس مسئلے کی جانب توجہ دی جاتی ہے تو سیاسی اور قبائلی سطح پر کئی طرح کی رکاوٹیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ اس رویے نے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے حالات اس حوالے سے زیادہ تشویش کا باعث ہیں جہاں صوبائی اور وفاقی حکومت کے سیاسی اختلافات میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر پوری توجہ نہیں دی جا سکی‘نتیجتاً دہشت گردوں کو پھیلنے اور خونریزی کے واقعات کو بڑھنے کا موقع ملا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور  ایمر جنسی لگانے کے فیصلے کا یہی جواز پیش کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت سے مطلوبہ تعاون نہیں مل سکا۔ ان باتو ں کو محض سیاسی دعوے کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت اور وفاق میں اختلافات سیاسی تھے مگر اس کا اثر صوبے کے انتظامی معاملات خاص طور پر دہشتگردی کی صورتحال پر بھی پڑا۔ دہشت گردی کے خطرات بلوچستان میں بھی ہیں مگر حکومت بلوچستان نے وفاق کے ساتھ مفاہمت اور تعلق کار کو بنا کر رکھا ہے؛ چنانچہ فنڈز سے لے کر عملی کارروائیوں تک بلوچستان میں دہشت گردی کے مقابلے میں وہ رکاوٹیں سامنے نہیں آئیں‘ نہ ہی قبائلی اور سیاسی سطح پر ایسے اختلافات پیدا ہوئے جن کا سامنا خیبر پختونخوا میں کرنا پڑا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بجا کہا ہے کہ جب تک دہشتگردی کا مقابلہ مل کر نہیں کریں گے کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ الفاظ سیاسی قیادت کیلئے دعوتِ فکر ہیں جو آج بھی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی رنگ دینے سے باز نہیں آ رہی۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے نت نئی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں‘ جن کا مقصد بظاہر عوام میں شبہات پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

لیکن اس صورتحال کا فائدہ دہشت گردوں کو ملے گا اور نقصان پاکستان کا ہو گا۔ ملک کی سیاسی قیادت کو حالات کے آئینے سے واقعات کو دیکھنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔ سیاسی قیادت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت اہم فریق ہے‘ مگر اصل مسئلہ سیاسی جماعتوں کی کیمسٹری میں دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں پارلیمانی منزل کی ہم سفر ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں یکجہتی کے جذبے کا فقدان قومی مفاہمت میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس کیفیت سے نکلنے کی ضرورت ہے تا کہ قومی ہم آہنگی کا ماحول بن سکے جو دہشت گردی کے انسداد اور قومی ترقی کے فیصلوں میں سیاسی شراکت داری کیلئے بے حد اہم ہے۔ ملک کے اہم فیصلوں پر سیاسی تصدیق کی مہر ہونی چاہیے مگر یہ اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کریں‘ خود اعتمادی کا ثبوت دیں اور قومی فیصلوں میں شامل ہونے کی اہمیت کو سمجھیں۔ صرف الزام در الزام اور شکوہ و شکایات سے تو کوئی قومی خدمت انجام نہیں دی جا سکتی‘ نہ ہی خطرات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں