غذائی برآمدات اور چیلنجز
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں خام غذائی برآمدات کا حجم 25 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 38 کروڑ ڈالر تک پہنچنا ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ اس اضافے کا 83 فیصد حصہ چاول پر مبنی ہے جس نے نہ صرف قومی معیشت کو ایک سہارا فراہم کیا بلکہ گزشتہ برسوں کے منفی رجحان کا بھی خاتمہ کیا۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ برآمدات میں اضافے کے باوجودجولائی تا ستمبر غذائی درآمدات کا حجم دو ارب 33 کروڑ ڈالر رہا۔ اگرچہ پام آئل اور دالوں کی درآمد میں کمی آئی مگر چائے (25 فیصد اضافہ)اور ڈیری مصنوعات نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ بدلتے عالمی حالات اور تجارتی بندشیں اس معاملے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

جغرافیائی طور پر پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں جنوبی ایشیا سے وسطی ایشیا تک زمینی تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن سیاسی تنائو اور سکیورٹی مسائل کے سبب سرحدی راستوں کی بندش اور سمگلنگ نے علاقائی تجارت کو مفلوج کر دیا ہے۔ بھارت اور افغانستان کے بعد اب ایران کے ساتھ تجارتی بارڈر بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف سستی اشیا کی درآمد مشکل ہو گئی ہے بلکہ پاکستانی برآمدات کی وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی بھی محدود ہو گئی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے چند منڈیوں اور چند ایک اجناس پر انحصار کافی نہیں‘ وقت کا تقاضا ہے کہ برآمدات کو متنوع اور علاقائی تجارتی سفارتکاری کو فعال بنایا جائے۔ نیز زراعت کو جدید خطوط پر استوار کر کے زرعی اجناس میں خود کفالت حاصل کی جائے۔