المناک بس حادثہ
گزشتہ روز کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی ایک بس راجن پور کے قریب تیز رفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہو گئی‘ جس کے نتیجے میں 10افراد جاں بحق اور تقریباً 40زخمی ہو گئے۔ بس ڈرائیور صرف اپنی جان کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے ہاتھ میں درجنوں افراد کی زندگیاں ہوتی ہیں‘ اسکے باوجود بعض ڈرائیور تیز رفتاری‘ لاپروائی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے گریز نہیں کرتے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ چند منٹ پہلے منزل پر پہنچنے سے زیادہ اہم مسافروں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچانا ہے۔ اس ضمن میں اُن ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتاجن کی ترجیح مسافروں کو محفوظ سفر فراہم کرنے کے بجائے کم وقت میں زیادہ چکر مکمل کرنا ہوتی ہے۔

اس دباؤ میں ڈرائیور رفتار کی مقررہ حد اور حفاظتی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اس سوچ سے باہر نکلنا ہو گا۔ علاوہ ازیں لانگ روٹس پر ڈرائیور کی تھکن بھی حادثات کا سبب بنتی ہے۔ مسلسل کئی گھنٹے گاڑی چلانے سے توجہ متاثر ہوتی ہے اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو طویل روٹس پر متبادل ڈرائیوروں کا بندوبست بھی کرنا چاہیے۔ حادثات کے بعد افسوس کرنے کے بجائے اصل ضرورت ایسے مؤثر اقدامات کی ہے جو قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا سکیں۔