نئے صوبے، وقت کا ناگزیر تقاضا
اسلام آباد میں ’’پاکستان کی انتظامی تشکیلِ نو اور نئے صوبوں کا قیام‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی مباحثے میں ملک کی سیاسی قیادت اورآئینی و قانونی ماہرین نے ملک کے فرسودہ ہو چکے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ملک میں انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافے کو ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک حقیقت پسندانہ نکتہ اٹھایا کہ انتظامی مسائل کو حل کرنے کیلئے ہی بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر 12کی گئی ہے۔ اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو 1973ء میں آئین کی تشکیل کے وقت پنجاب کے اضلاع 19 تھے جو اَب بڑھ کر 41 ہو چکے ہیں۔ سندھ کے 11 اضلاع بڑھ کر 30 ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے 10 اضلاع اب 36 (بشمول فاٹا ) جبکہ بلوچستان کے چھ اضلاع تقریباً 40ہو چکے ہیں۔ یہ ضلعی تقسیم اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ تمام صوبے اور ان کی قیادتیں اس بات پہ یقین رکھتی ہیں کہ آبادی ایک خاص حد سے زیادہ ہو جانے پر انتظامی تقسیم ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جب صوبے اپنی انتظامی استعداد بڑھانے کیلئے ایک ضلع کو تین سے چار اضلاع میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ اور کرتے آئے ہیں تو پھر نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ہچکچاہٹ کیوں؟

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے پاکستان میں عوامی نمائندگی کے سنگین بحران کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 25کروڑ آبادی کیلئے محض 859 نمائندے (ایوانِ زیریں اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان) ہیں۔ اگر ہم دیگر جمہوری ملکوں کی روایات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا حسن بلدیاتی اداروں کی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ بلدیاتی نمائندگی میں فرانس دنیا میں سب سے آگے ہے‘ جہاں مقامی کونسلوں میں اوسطاً 118 شہریوں پر ایک کونسلر ہوتا ہے۔ آسٹریا میں اوسطاً 209 افراد اور سویڈن میں 256 افراد پر ایک منتخب کونسلر ہوتا ہے۔ اگر برطانیہ کی بات کی جائے تو وہاں اوسطاً 2600 اور امریکہ میں اوسطاً 1500 سے 2500 شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے ایک مقامی منتخب نمائندہ ہوتا ہے۔ ان ممالک میں بلدیاتی ادارے ہی سکولوں سے لے کر ہسپتالوں اور صفائی سے لے کر پولیس تک کے نظام کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں سب سے بڑے صوبے (پنجاب) میں بلدیاتی نظام گزشتہ پانچ سال سے معطل ہے اور انتظامی مسائل ہیں کہ مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق اور بسا اوقات معمولی مسائل کے حل کیلئے بھی سینکڑوں میل دور صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اگر انتظامی اکائیوں یعنی اضلاع‘ ڈویژنز اور صوبوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے‘ اور بلدیاتی اداروں کو ان کی روح کے مطابق فعال اور مؤثر بنایا جائے تو نہ صرف اختیارات اور وسائل نچلی سطح پر منتقل ہوں گے بلکہ اس سے پبلک سروس ڈلیوری کا معیار بھی بہتر ہوگا اور بیورو کریٹک رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ پاکستان کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے۔ یہ تاثر سراسر گمراہ کن ہے کہ نئی انتظامی ترتیب صوبوں کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے سے عوامی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری آئے گی اور عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی آنے سے ریاست سے اس کا رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔ ہر گزرتا دن اس پہ مہرِ تصدیق ثبت کر رہا ہے کہ پاکستان کی 26 کروڑ آبادی اب محض چار صوبوں کیساتھ نہیں چل سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور بلدیاتی اداروں کی مؤثر بحالی کیلئے کام کیا جائے تاکہ جمہوریت کا ثمر حقیقتاً عوام کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کیلئے نئے صوبوں کے قیام کے سوا اب کوئی چارہ نہیں۔