بدر دفاعی معاہدہ
پاکستان‘ ترکیہ‘ قطر اور انڈونیشیا نے دوحہ میں ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کیے ہیں‘ اس معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانا‘ مشترکہ طور پر دفاعی ساز و سامان تیار کرنا اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے میں شامل چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہی فرق اس تعاون کو اہم بناتا ہے۔ ترکیہ نے ڈرونز‘ جنگی جہازوں‘ بکتر بند گاڑیوں اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان کے پاس دفاعی ساز و سامان تیار کرنے‘ فوجی تربیت اور مختلف نوعیت کے دفاعی منصوبوں کا گراں قدر تجربہ موجود ہے۔ قطر کے پاس سرمایہ کاری کیلئے مالی وسائل دستیاب ہیں جبکہ انڈونیشیا ترکیہ کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے مقامی دفاعی پیداوار بڑھا رہا ہے۔ اگر یہ ممالک اپنی صلاحیتوں کو یکجا کریں تو سب کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کیلئے اس معاہدے کا سب سے اہم فائدہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور دفاعی صنعت کی ترقی ہو سکتا ہے۔ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پاکستان کو نئے دفاعی نظام تیار کرنے‘ مقامی پیداوار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے تجربے کو بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس سے دفاعی ساز و سامان کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور برآمدات بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کو اس معاہدے سے زیادہ سے زیادہ عملی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔