غریبوں کی حق تلفی
وزارتِ تخفیفِ غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2019ء سے 2025ء تک ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے تقریباً 24 ارب روپے وصول کیے۔بی آئی ایس پی کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کیا جائے‘ مگر اس پروگرام کے حوالے سے سامنے آنے والے ہوشربا انکشافات نے اسکے انتظامی ڈھانچے‘ نگرانی کے نظام اور حکومتی احتساب کی قلعی کھول دی ہے۔ اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 2019ء میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے باوجود چھ سال تک ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان حقائق کو محض انتظامی غفلت قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں‘ پنشن اور دیگر مالیاتی ریکارڈ تک ریاستی اداروں کی رسائی کے باوجود غیر مستحق افراد کی شناخت نہ ہونا اس پروگرام کے نگرانی کے نظام کی سنگین ناکامی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غریبوں کی حق تلفی کر کے خورد برد کی گئی اس رقم کی واپسی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔قومی وسائل لوٹنے والوں کیلئے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ان محروم خاندانوں کی امانت ہے جنہیں دو وقت کی روٹی کیلئے بھی ریاست کی مدد درکار ہے۔