مہنگائی کا تازیانہ
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.85فیصد تک پہنچ گئی۔ اس عرصہ کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 107فیصد‘ بجلی 59 فیصد‘ پیاز 73 فیصد‘ آٹا 37 فیصد‘پٹرول 44فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔ موجودہ صورتحال میں توانائی کی عالمی قیمتیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں تاہم ملک میں مہنگائی کے اسباب میں عوام کی کم ترین معاشی سکت‘ بیروزگاری‘ منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی اور ٹیکسوں کی بھرمار کا کردار بھی بہت نمایاں ہے۔ موجودہ حکومت اپنے دورِ اقتدار میں عوام کی معاشی سکت میں اضافہ تو کجا‘ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ بھی یقینی نہیں بنا سکی ہے۔

صرف ایل پی جی کی مثال لی جائے تو اسکی سرکاری قیمت 280روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 500سے 600روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح رواں سال ملک میں 29ملین ٹن سے زائد گندم پیدا ہوئی جبکہ ایک ملین ٹن گندم بیرونِ ملک سے بھی درآمد کی جا رہی‘ اور یہ تمام ذخائر ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی ہیں اسکے باوجود عوام کو آٹا بحران کا سامنا ہے۔ بھاری پٹرولیم لیوی چارجز نے بھی مشکلات کو دوچند کیا ہے۔ یہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی معاشی سکت میں اضافے کے ساتھ ساتھ لیوی میں کمی اور منافع خوری کا خاتمہ بھی یقینی بنائے تاکہ عوام مہنگائی کے تازیانوں سے محفوظ رہ سکیں۔