مذاکرات ‘سفارت کاری اور امن
پاکستان سمیت چار علاقائی اور تین یورپی ممالک کی جانب سے تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات‘ سفارتکاری اور کشیدگی میں کمی پر زور اور امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں علاقائی و عالمی مشترکہ مؤقف کی ایک بڑی مثال ہے۔ استنبول میں ہونے والے R4 E3وزرائے خارجہ اجلاس میں چار علاقائی ممالک (پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ مصر) اور تین یورپی ممالک (برطانیہ‘ فرانس‘ اٹلی) نے جاری تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل تلاش کرنے پر زور دیا اور خطے میں امن و استحکام کے مقصد سے اس فارمیٹ میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم سمندری راستوں کو لاحق خطرات اس خدشے کو واضح کرتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ پھیلنے سے پوری دنیا کا امن‘ معیشت اور تجارتی مفادات خطرے میں ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان سمیت اس خطے کے چار اہم مسلم ممالک اور تین یورپی طاقتوں کی جانب سے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دینے کیلئے اتفاقِ رائے خوش آئند ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی صرف علاقائی ممالک کیلئے نہیں پوری دنیا کے امن اور معاشی استحکام کیلئے خطرہ ثابت ہو رہی ہے۔

توانائی کی عالمی منڈیوں کا رجحان امریکہ ایران تنازعے کی نوعیت سے طے ہو رہا ہے۔ فریقین میں سفارتی پیش رفت توانائی کی قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہی ہے اور کشیدگی میں اضافے کا عندیہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے‘ جیسا کہ حالیہ دنوں امریکہ کی جانب سے تازہ حملوں کے خدشات کے ساتھ تیل کی عالمی منڈی ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال کے جو اثرات یورپی ممالک میں ہیں ان کی سنگینی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ دنوں فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں مہنگائی کی وجہ سے عوام کے پُر تشدد مظاہروں کے محرکات مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ہی میں ہیں ۔ خود امریکہ ان حالات سے شدید متاثر ہے جہاںتیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں غیر معمولی اضافے کا سبب بن رہی ہیں؛ چنانچہ یہ صورتحال اس وقت پوری دنیا کیلئے مشترکہ تشویش کا موجب ہے اور اس سے نکلنے کی تدابیر کیلئے اگر مشترکہ کوششیں ہوں تو یہ صائب ہے۔ R4 E3 کے مشترکہ علامیے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یورپ اور ایشیا کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اس مقصد کیلئے مزید کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکہ تنازعے کے خدشات ایک بار پھر بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور دونوں جانب سے کشیدگی کو ہوا دینے کے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں حملوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی گزرگاہ میں رکاوٹ کے خدشات علاقائی اور عالمی امن کیلئے نئی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اس صورتحال کے علاقائی اور عالمی اثرات کی منفیت معمولی نہیں؛ چنانچہ ضروری ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے مؤثر کوششیں شروع کی جائیں۔ امریکہ ایران تنازعے کے خاتمے کیلئے اسلام آباد معاہدے کی صورت میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور امید کی جا رہی تھی کہ اس راستے سے فریقین آگے بڑھیں گے مگر یہ تنازع اب نویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور ابھی تک اس میں کمی کے بجائے اضافے کے اشارے زیادہ ہیں۔
دنیا نے اس صورتحال کی جو قیمت ادا کی ہے اس سلسلے کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے ضروری ہے کہ علاقائی ممالک اور اس کے ساتھ یورپ بھی سفارتی اور پُر امن حل اور کشیدگی کے خاتمے کے مؤقف کے ساتھ اکٹھے ہوں۔ آبنائے ہرمز‘ باب المندب اور بحیرہ اسود میں بحری آمدورفت کی سلامتی عالمی معیشت کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے‘ لہٰذا متعلقہ ممالک کو چاہیے کہ سمندری راستوں کی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔