بچوں کی ڈیجیٹل ہراسانی
کراچی میں ایک 13سالہ بچی کے ڈارک ویب پر ایک خطرناک آن لائن نیٹ ورک کے ہتھے چڑھنے کا واقعہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے استحصال کی ایک چونکا دینے والی مثال ہے۔ بچوں کی زندگی میں انٹرنیٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تعلیم اور تفریح کیلئے یہ آج کے دور کی ایک لازمی ضرورت بن چکا ہے‘لیکن اس سہولت کیساتھ ایک ایسی ذمہ داری بھی وابستہ ہے جسے نظرانداز کرنے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر والدین بچوں کو ڈیجیٹل دنیا تک رسائی تو دے دیتے ہیں مگر انہیں اس دنیا کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار کرنا بھول جاتے ہیں‘ اور انکی آن لائن سرگرمیوں پر بھی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھتے۔

نتیجتاً سوشل میڈیا‘ آن لائن گیمز اور میسجنگ ایپس پر بعض افراد بچوں سے دوستی کرکے انکا اعتماد حاصل کرتے اور رفتہ رفتہ انکی کمزوریوں سے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ یونیسیف کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو ڈیجیٹل ہراسانی یا جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ریاست اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مشترکہ طور پر ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں خطرناک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی ہو‘ شکایات پر مؤثر کارروائی کی جائے اور متاثرہ بچوں کو فوری مدد میسر ہو۔