اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئی زری پالیسی اور خدشات

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں نصف فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ملکی معیشت مہنگائی اور مندی کا شکار ہے تو دوسری طرف علاقائی حالات کی سنگینی سے بے یقینی بڑھ رہی ہے‘ تاہم سٹیٹ بینک کے اس فیصلے کوافراطِ زر کے بڑھتے خدشات کا سدباب کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو کی گئی ہدایات کے تناظر میں بھی دیکھنا ہو گا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے ابھرتے معاشی خدشات خاص طور پر سپلائی چین کے مسائل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مہنگائی کو دنیا بھر کی معیشتوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ اگر مرکزی بینکوں نے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش کو کم نہ کیا تو افراطِ زر قابو سے باہر ہو جائے گا جو طویل مدتی معاشی تباہی کا سبب بنے گا۔ تاہم یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ترقی یافتہ اور مستحکم معیشتوں کے مقابلے میں ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشتوں پر یکساں فیصلوں کے نتائج مختلف اور بسا اوقات بالکل الٹ نکلتے ہیں‘ لہٰذا عالمی حالات کا مقابلہ کرنے کیساتھ ساتھ عوامی تحفظ کا تصور بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ شرح سود میں اضافے کا ایک بڑا اور فوری اثر حکومتی مالیات پر پڑتا ہے۔

مالیاتی ماہرین کے ایک محتاط اندازے کے مطابق شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹ اضافے کا مطلب یہ ہے کہ قومی خزانے پر ڈھائی سو ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہو جائے گا۔ پاکستان کا بجٹ پہلے ہی خسارے کا شکار ہے اور ہماری آمدن کا تقریباً نصف پرانے قرضوں اور انکے سود کو چکانے میں چلا جاتا ہے۔ شرح سود میں اس تازہ اضافے سے حکومت کو مزید نئے قرضے لینے پڑسکتے ہیں اور ہم ایک لامتناہی معاشی چکر میں پھنسے رہیں گے۔ بلند شرح سود کا دوسرا بڑا اثر کاروباری طبقے اور نجی شعبے پر پڑتا ہے۔ جب بینکوں سے قرض ملنا مہنگا ہو جاتا ہے تو نجی شعبہ نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری روکنے پر مجبور ہو جاتا ہے یا اس کو کم کر دیتا ہے۔ قرضے مہنگے ہونے کا اثر کارخانوں اور صنعتوں کی پیداواری لاگت پر بھی پڑتا ہے جسکے نتیجے میں ملکی اور عالمی سطح پر ان کی مسابقتی صلاحیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔

اس کا نتیجہ صنعتی پہیے کی سست روی‘ بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور عوام کی قوتِ خرید کے مزید کم ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ جب کاروباری سرگرمیاں سکڑ جائیں تو لامحالہ محصولات کا ہدف بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا‘ جس سے مالیاتی خسارہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر ہم علاقائی سطح پر شرح سود اور افراطِ زر کا موازنہ کریں تو حیران کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ بھارت نے چار سال کے بعد‘ رواں ماہ شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 5.50 فیصد کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں شرح سود 9.50 فیصد اور سری لنکا میں 8.75 فیصد ہے۔ ان ممالک میں افراطِ زر کی شرح بالترتیب 5.54 فیصد‘ 8.34 فیصد اور 8 فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 10.30 فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی حالات و اثرات افراطِ زر کا موجب ہیں تو علاقائی ممالک کی نسبت پاکستان میں افراطِ زر کی شرح نمایاں طور پر زیادہ کیوں ہے؟ مطلب خرابی ہمارے داخلی نظام میں ہے۔

پالیسی سازوں کو عوامی تحفظ اور شہریوں کی فلاح وبہبود کو بھی اولین ترجیحات میں رکھنا چاہیے۔ محض مانیٹری پالیسی سے افراطِ زر کا مقابلہ نہیں ہو سکتا اس کے لیے رسد کی خرابیوں‘ ذخیرہ اندوزی اور انتظامی کمزوریوں کا بھی تدارک کرنا ہو گا ۔ گھریلو سطح پر مہنگائی سے متعلق عوام کے بڑھتے ہوئے خدشات اس بات کے متقاضی ہیں کہ مارکیٹ پر حکومتی گرفت مضبوط کی جائے۔ حکومت عوام کو عالمی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر نہیں بیٹھ سکتی‘ اسے داخلی پالیسیوں کی صورت میں ایسے بفر قائم کرنا ہوں گے جو عالمی حالات کے دباؤ کا سامناکر سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں