اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی میں کمی اور پائیدار امن

سکیورٹی سے متعلق ایک ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں 66 فیصد کمی آئی ۔ ہفتہ وار بنیادوں پر بھی دہشتگردی کے حملوں میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنز شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں انتہائی کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔ انتظامی سطح پر سخت فیصلوں اور دہشتگردی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد دہشتگردی میں کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بسا اوقات انتظامی فیصلوں میں تاخیر اور تساہل اور کوآرڈی نیشن کا فقدان بھی دہشتگردی کو بڑھاوا دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب جیسے ہی اس خلا کو پُر کیا گیا‘ فورسز کے آپریشنز کے مثبت اثرات نظر آنے لگ گئے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کو مستقل طور پر ختم کرنے کیلئے اس کے مالیاتی ذرائع‘ سہولت کاروں اور بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔

انٹیلی جنس آپریشنز کیساتھ ساتھ پسماندہ علاقوں کی بحالی‘ محروم طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اس عسکری کامیابی کو پائیدار بنانے کے تقاضے ہیں۔ عسکریت پسندی کی جڑوں کو کاٹنے کیلئے سیاسی‘ سماجی اور اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بلاشبہ موجودہ کامیابی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ثمر ہے لیکن اسے پائیدار امن میں بدلنے کیلئے طویل مدتی اور جامع تزویراتی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں