گیس بحران
ملک میں ایل پی جی کا بحران ہر گزرتے دن کیساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے عوام پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کی وجہ سے پریشان تھے‘ اب کھانا پکانے کا ایندھن بھی ان کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکا ہے۔ خبروں کے مطابق لاہور میں ایل پی جی کے نرخ 650 سے 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں نرخ اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اس بحران کے دوران حکومت کی جانب سے سردیوں میں گھریلو صارفین کو روزانہ صرف آٹھ گھنٹے گیس فراہمی کے عندیے نے عوامی مشکلات میں اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سردیوں کی ضروریات کا بروقت تخمینہ لگائے اور ملکی ضروریات کے مطابق گیس کی دستیابی یقینی بنائے۔ رسد میں مشکلات اپنی جگہ مگر پیشگی منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامات کے ذریعے عوام کو ممکنہ بحران سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو صرف درآمدی مشکلات یا رسد میں کمی کا نتیجہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ پیداوار اور درآمد سے لے کر ڈسٹری بیوشن پلانٹس‘ ہول سیل اور ریٹیل فروخت تک پوری سپلائی چین کی نگرانی کرے۔ محض فلنگ سٹیشز پر چھاپے مارنا کافی نہیں؛ اصل توجہ ان عناصر پر ہونی چاہیے جو رسد اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔