ٹیکس چھوٹ
وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مختلف طبقات کو 11ہزار ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دی ۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت ہر سال ٹیکس وصولی کے اہداف میں اضافہ کرتے ہوئے پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ صرف مالی سال 2024-25ء میں سیلز ٹیکس کی مد میں 1274 ارب روپے‘ کسٹم ڈیوٹی میں 499 ارب اور انکم ٹیکس کی مد میں تقریباً 580 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی۔ ٹیکس رعایتیں اگر کسی واضح معاشی یا عوامی ضرورت کے تحت محدود مدت اور قابلِ پیمائش فوائد کے ساتھ دی جائیں تو ان کا جواز موجود ہو سکتا ہے لیکن جب اربوں روپے کی چھوٹ کے باوجود یہ واضح نہ ہو کہ اس سے معیشت‘ سرمایہ کاری‘ روزگار یا عام شہری کو کتنا فائدہ پہنچا تو ایسی رعایتوں پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

ٹیکس چھوٹ کے علاوہ ملک کے غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی سب سے بڑی خامی محدود ٹیکس نیٹ ہے۔ محصولات بڑھانے کیلئے پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد اور دستاویزی کاروباروں پر مزید ٹیکس عائد کرنا آسان راستہ ضرور ہے‘ مگر یہ منصفانہ اور پائیدار حل نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بلاجواز ٹیکس چھوٹ ختم کرے‘ موجودہ رعایتوں کا شفاف جائزہ لے اور قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والے تمام طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔