بجلی مزید مہنگی ؟
نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے 2027ء میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں آٹھ فیصد اضافے کی تجویز پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سی پی پی اے نے مجوزہ اضافے کا جواز عالمی منڈی میں تیل‘ ایل این جی اور کوئلے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ‘ درآمدی ایندھن کی غیر یقینی دستیابی اور بجلی کی طلب میں اضافے کو قرار دیا ہے۔بلاشبہ علاقائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ہر بیرونی مشکل کا حل عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنا نہیں ہے۔ آخر کب تک توانائی کے شعبے کی ناقص منصوبہ بندی‘ مہنگے پیداواری معاہدوں اور انتظامی خامیوں کی قیمت عام صارف ادا کرتا رہے گا؟ عوام پہلے ہی مہنگی پٹرولیم مصنوعات اور بھاری یوٹیلیٹی بلوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

ایسے حالات میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو مزید محدود اور معاشی مشکلات کو سنگین بنا سکتا ہے۔نیپرا کو چاہیے کہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ منتقل ہونے سے روکے۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بجلی مہنگی کرتے رہنے سے توانائی کے شعبے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرکے مقامی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار بڑھائے۔ اسی طرح آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کرے تاکہ بجلی کی قیمت میں کمی آ سکے۔