اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جمہوریت کا انتقام

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج غیر متوقع نہیں۔ حکمران ریپبلکن پارٹی کو ان انتخابات میں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے امریکہ میں رائے عامہ کے جائزے بہت پہلے سے اس کی نشاندہی کر رہے تھے۔ وسط مدتی انتخابات میں سات ریاستیں ریپبلکن پارٹی کے ہاتھ سے نکل کر اپوزیشن‘ ڈیموکریٹ پارٹی کے پاس چلی گئی ہیں۔ ڈیمو کریٹس نے ان انتخابات میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں؛ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں نمایاں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پارٹی کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ اور بڑھتی مہنگائی ریپبلکن پارٹی کی شکست کا سبب بنی۔ دیکھا جائے تو مہنگائی کا معاملہ بھی امریکہ کی شروع کی ہوئی اسی محاذ آرائی کا شاخسانہ ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ایران جنگ وسط مدتی انتخابات میں امریکی حکمران جماعت کی شکست کا بنیادی محرک ثابت ہوئی اور امریکی عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ یہ انتخابی نتائج امریکی عوام کی جانب سے واشنگٹن کے جنگجویانہ عزائم اور جارحانہ بیانیے کیخلاف ریفرنڈم ثابت ہوئے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جس طرح دوسرے ممالک میں جارحانہ مداخلت کی‘ جنگوں کو بھڑکایا اور دفاعی بجٹ کو عوامی فلاحی منصوبوں پر ترجیح دی اس نے عام امریکی شہری کو عدم تحفظ اور معاشی دباؤ کا شکار بنایا‘ جس کی وجہ سے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی لٹیا ڈوب گئی۔

ان انتخابات کے غیرمعمولی نتائج کے باوجود اگرچہ امریکہ کی پالیسیوں میں کسی جوہری تبدیلی کی توقع عبث ہے تاہم اتنا ضرور ہو گا کہ ریپبلکنز کے جنگجویانہ پالیسیوں اور جارحانہ عزائم کو حکمتِ عملی بننے میں نمایاں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری بڑی اور اہم تبدیلی یہ آ سکتی ہے کہ امریکی حکومت میں شامل وہ سمجھدار لوگ جو جنگوں کو خیرباد کہنے کی سوچ رکھتے ہیں انکی بات میں وزن پیدا ہو گا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے جس دوٹوک انداز سے کہا ہے کہ ’’ہماری ہار کی وجہ ایران جنگ ہے‘‘ یہ ریپبلکنز کے داخلی تاثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نتائج دنیا بھر کیلئے اس امید کا پیغام ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے اندر اب امن پسند آوازیں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں جنگوں اور خون خرابے کیخلاف جس طرح رائے عامہ بنی اس کی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے۔ صرف امریکہ نہیں اسرائیل میں بھی اس تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں جہاں نیتن یاہو کی پارٹی کو حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ یہ صورتحال جارحانہ سوچ رکھنے والے حکمرانوں کیلئے تنبیہ ہے اور یہ شکست خود پسند رہنماؤں کو یہ سوچنے پر مجبور کرنے کو کافی ہونی چاہیے کہ جبر اور طاقت کے زور پر وہ زیادہ دیر عوامی بیداری اور اجتماعی شعور کو دبا نہیں سکتے۔ ان انتخابات کا ایک اہم پہلو امریکی مقننہ میں عبدالرحمن محمد السید کی صورت میں پہلے مسلم سینیٹر کا داخلہ اور رشیدہ طلیب‘ الہان عمر اور ڈاکٹر آدم ہماوی جیسے مسلم امیدواروں کا امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونا ہے۔

یہ امریکی سماج میں مسلم رہنماؤں کے بڑھتے ہوئے کردار‘ حیثیت اور اعتبار کا ثبوت ہے۔ اس سے امریکہ کی مسلم ورلڈ پالیسیوں‘ اسلامو فوبیا اور مغرب و اسلام کے درمیان موجود ثقافتی و مذہبی خلیج جیسے دیرینہ مسائل سے نمٹنے میں آسانی میسر آ سکتی ہے۔ اس انتخابی معرکے نے جمہوری فلسفے کو بھی تقویت بخشی ہے۔ ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں آمریت‘ پاپولزم اور فاشزم کے عروج کے باعث جمہوریت کے مستقبل پر سوالیہ نشانات لگائے جا رہے تھے‘ امریکی وسط مدتی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوام ہی اصل میں بااختیار ہیں اور وہی حکمرانوں کی جوابدہی کا حتمی حق رکھتے ہیں۔ ووٹ کا یہ پُرامن استعمال اس بات کی دلیل ہے کہ جمہوریت کا تسلسل ہی تمام سیاسی اور سماجی برائیوں کا علاج ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں