ٹیکس سے گریزاں کیوں؟
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت کی آسان ٹیکس سکیم کے تحت 20 فیصد دکاندار بھی رجسٹرڈ نہیں ہو ئے۔ ملک بھر میں ڈسکوز کے کمرشل بجلی میٹرز کے ڈیٹا کی بنیاد پر 35 لاکھ دکانداروں کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن اب تک سات لاکھ سے بھی کم دکانداروں نے آسان ٹیکس سکیم میں رجسٹریشن کرائی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2026ء کے مطابق ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کا حجم ملکی جی ڈی پی کے 17.8 فیصد کے برابرہے۔ اس کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اس شعبے سے صرف 18ارب 40کروڑ روپے وِدہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول ہوئے‘ جبکہ اسی عرصے میں تنخواہ دار طبقے نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

محدود اور مقررہ آمدن رکھنے والا تنخواہ دار طبقہ تو اپنی تنخواہ ملنے سے پہلے ہی ٹیکس ادا کر دیتا ہے لیکن کاروبار کرنے والے ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے وہ ٹیکس ادائیگی سے گریزاں کیوں ہیں؟ حکومت نے تاجروں کے دیرینہ مطالبے پر آسان ٹیکس سکیم متعارف کرائی تاکہ چھوٹے دکانداروں کو پیچیدہ ٹیکس قوانین‘ طویل گوشواروں اور آڈٹ کے مسائل سے نجات دلا کر ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس کے باوجود رجسٹریشن کا انتہائی کم تناسب لمحہ فکریہ ہے۔معیشت کے مختلف شعبوں کو ان کی استعداد کے مطابق ٹیکس نظام میں شامل کیے بغیر محاصل میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے عملی اقدامات تیز کرے۔