تازہ اسپیشل فیچر

تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی سے پیار کریں

صحت

لاہور: (دنیا نیوز) سگریٹ نوشی منشیات میں سب سے سستا، آسانی سے دستیاب ہونیوالا نشہ ہے۔ سب سے بڑی بات اسے قابل سزا نشہ نہیں سمجھا جاتا جیسے شراب، افیون، ہیروئن، چرس، وغیرہ کی قانونی طور پر ممانت ہے۔

سگریٹ پینا قانوناً جرم نہیں ہے۔ وزارت صحت کی صرف اتنی سی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر سگریٹ کی ڈبی پر یہ تحریر کروا دیتی ہے ’’ تمباکو نوشی مضر صحت ہے‘‘ اس کا انجام منہ کا کینسر ہے اس کے بعد وزارت صحت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 31 مئی کو انسدادِ تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اس دن کو منانے کیلئے تمباکو نوشی کی تمام اقسام سے 24 گھنٹے کیلئے علامتی طور پر اجتناب کیا جاتاہے ۔اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر کے انسانوں کو یہ پیغام دینا کہ سگریٹ نوشی انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو کا استعمال کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد1 ارب سے زائد ہے ۔یعنی ہر پانچواں فرد سگریٹ نوش ہے ۔ایک اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً 60لاکھ افراد اس شوق کی نذر ہو جاتے ہیں۔2 کروڑ افراد سالانہ 20ارب روپے دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں۔پاکستان میں ہر تیسرا شخص سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے، ہمارے ملک میں ایسے بھی ہیں، جن کے پاس تین وقت کا کھانا کھانے کی اسطاعت نہیں ہوتی،لیکن وہ سگریٹ ضرور پیتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 16فیصد خواتین تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہو چکی ہیں۔سگر یٹ نوشی انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے ہر 8سکینڈ میں ایک شخص کی موت کا سبب بن رہی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہو گیا ہے کہ9 فیصد سرطان کی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ سگریٹ نوشی کے بے شمار نقصانات ہیں ،جن سے سگریٹ پینے والے بھی آگاہ ہیں ۔مثلاََبھوک کا گھٹنا، تھکاوٹ کا بڑھنا،دماغی صلاحیتوں کا منشر ہونا،سانس آلودہ ہونا،چہرہ پھیکا ،دانت و ہونٹ کاسیاہ ہوجانا ۔ڈپریشن،السر،جگر ،پھیپھٹرے ،گلے اور جبڑے کا کینسر،دل کے دورے ،بلڈپریشر جیسی بیماریوں اورتنگ دستی ،بے روزگاری اور افلاس و محتاجی ،سماجی و معاشرتی انتشار و بد نظمی ،وغیرہ سگریٹ نوشی قوت ارادی کو ختم کر دیتی ہے۔

ہم سگریٹ کے عادی کیوں ہو جاتے ہیں۔ بڑی وجہ تجسس ہے ،پھر فلمی ستاروں اور اشتہارات کے دلفریب نظارے،بہت سی غلط فہمیاں مثلاً غم کو بھلانے کیلئے وہ غم جاناں ہو یا غم جہاں سگریٹ پینا شروع کی جاتی ہے ۔بیشتر سگریٹ نوش اسے تناؤ میں کمی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

سگریٹ چھوڑنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا بتایا جاتا ہے۔ دراصل ہم اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں تو ترک سگریٹ نوشی مشکل نہیں ہے۔زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں جو سگریٹ نہیں پیتے۔

جب سگریٹ کی طلب ہو تو خود سے عہد کریں میں قوت ارادی کا مضبوط ہوں ،میرا فیصلہ ہے میں سگریٹ نہیں پیوں گا ۔اس کے ساتھ خود ترغیبی کے ذریعے خود کو ہی سگریٹ کے خلاف لیکچر دیں۔مراقبہ ، یوگا اور پابندی سے ورزش کرنے سے سگریٹ نوشی سے نجات مل جاتی ہے کیونکہ نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے ۔لیکن سب سے اہم آپ کی قوت ارادی ہی ہے ،آٹو سجیشن ہی ہے ،خود کو سمجھانا ترغیب دینا، اپنی صحت کے لیے ہے ۔خاندان کے لیے۔بچوں کے لیے ۔آپ نے خود فیصلہ کرنا ہے اور اس پر ڈٹ جانا ہے ۔

رمضان المبارک میں افطاری کے فوری بعد سگریٹ نوشی کرنے سے امراض قلب کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔افطار ی کے فوری بعد جو لوگ سگریٹ پیتے ہیں انہیں جسمانی جھٹکوں اور ہاتھ اور پاؤں میں کپکپاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے علاوہ چکر بھی آتے ہیں۔ اس لیے کہ طویل وقفے کے بعد سگریٹ پینے سے جسم کا تمام مدافعتی نظام درہم برہم ہوتا ہے ،جب کہ تھوڑے وقفے سے سگریٹ پینے پر ایسا نہیں ہوتا، رمضان کے مہینے سے فائدہ اٹھا کر سگریٹ نوشی ترک کرنے کا آغاز کیا جانا چاہیے اور روزے کے طویل اوقات کے دوران جسم کے تمباکو کے عدم استعمال کی عادت سے مستفید ہونا چاہیے۔

ایک تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق سے تمباکو نوشی کے عادی افراد کیلئے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ چاہے آپ اسے چھوڑنے کی کوشش نہ بھی کر رہے ہو۔ جو افراد آغاز پر سگریٹ نوشی سے گریز کرنے کی کوشش شروع کرتے ہیں ان کی کامیابی کا کافی زیادہ امکان ہوتا ہے۔نکوٹین کی طلب میں اس وقت کمی آجاتی ہے جب ورزش کی جا رہی ہوتی ہے کیونکہ جسمانی مشقت کے دوران دماغ سیروٹینین اور ڈوپامائن جیسے کیمیکل خارج کرتا ہے جو خوشی اور راحت کے احساس کو بڑھاتے ہیں۔سگریٹ کی کشش اس وقت دم توڑ جاتی ہے جب ہمارا دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے، ایک اور حالیہ تحقیق کے مطابق دماغ کے روئیے میں یہ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب ہم سو رہے ہوتے ہیں۔

پھلوں اور سبزیوں کا استعمال تمباکو نوش افراد کو سگریٹ سے پاک طرز زندگی بسر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جو لوگ 12ہفتے تک ویٹ لفٹنگ کے پروگرام کا حصہ بنتے ہیں ان کے تمباکو نوشی چھوڑنے کے امکانات دوگنا زیادہ ہوتے ہیں خاص طور پر ان افراد کے مقابلے میں جو ڈمبلز سے دور بھاگتے ہیں۔کئی بار جب آپ سگریٹ خریدنے باہر نکلیں تو اپنے کسی پالتو جانور کو بھی ساتھ لے لیں، ایک محقق کے مطابق تمباکو نوشی سے آپ اپنے ان بے زبان ساتھیوں کی زندگیوں کو بھی خطرے کا شکار بنا دیتے ہیں اور ان سے محبت کرنے والے ان کا خیال رکھتے ہوئے تمباکو نوشی ترک کرنے کے عزم پر عملدرآمد کرنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔پُرجوش سرگرمیوں کا حصہ بننا بھی دماغ کے سکون کا باعث بنتا ہے جیسے نکوٹین، کسی نئے مشغلے کو اپنانے سے سگریٹ کی خواہش میں کمی آتی ہے اس لت سے چھڑانے کی سوچ جلد دم توڑ جاتی ہے لہٰذا اس کیلئے مختلف اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔

تحریر: اختر سردار چودھری