تازہ اسپیشل فیچر

فضول خرچی شیطانی روش

لاہور: (مفتی محمد وقاص رفیع) جس جگہ شرعاً، عادۃً یا مروۃً خرچ کرنا منع ہو وہاں خرچ کرنا مثلاً فسق و فجور و گناہ والی جگہوں پر خرچ کرنا، اجنبی لوگوں پر اس طرح خرچ کرنا کہ اپنے اہل وعیال کو بے یارو مددگار چھوڑ دینا فضول خرچی کہلاتا ہے۔

فضول خرچی ویسے تو اپنے وسیع ترین معنی کے لحاظ سے زندگی کے ہر قسم کے معاملے میں مقررہ حد سے تجاوز کرنے اور مخصوص دائرہ کار سے آگے بڑھنے کا وسیع مفہوم رکھتا ہے، لیکن عام طور پر اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں حد سے تجاوز کرنے پر کیا جاتا ہے۔

فضول خرچی صرف مال میں نہیں بہت سی چیزوں میں ہوتی ہے، جیسے ضرورت سے زیادہ کھانا پینا یا پہننا، جو دل چاہے وہ کھا پی لینا، پہن لینا وغیرہ، فضول خرچ کرنا ہلاکت والا کام ہے۔

اسلام دُنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو انسان کی ہر شعبہ زندگی میں سادگی، اعتدال اور میانہ روی کو پسند کرتا ہے، اُس کے مقابلے میں فضول خرچی، عیش و عشرت اور نام و نمود سے نہ صرف یہ کہ منع کرتا ہے بلکہ اس کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت بھی کرتا ہے، قرآنِ کریم اور احادیث نبویہ میں فضول خرچی کی انتہائی سخت ممانعت اور مذمت بیان کی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں انسانوں کی معاشرت اور اُن کی اجتماعی زندگی پر رُونما ہونے والے بھیانک اثرات اور برے نتائج کو بیان کیا گیا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ پاک فضول خرچی کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اور رشتہ دار کو اُس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو (اُن کا حق) اور اپنے مال کو بے ہودہ کاموں میں نہ اُڑاؤ! یقین جانو کہ جو لوگ بیہودہ کاموں میں مال اُڑاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں (سورہ بنی اسرائیل: 26تا27)۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے فضول خرچی کرنے والے کو شیطان کا بھائی کہا ہے کیونکہ یہ لوگ اس کے راستے پر چلتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے اس لئے اس کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’اور فضول خرچی نہ کرو! یاد رکھو وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا‘‘(سورۃ الانعام: 141)۔

اِس کے برعکس خرچ کرنے کے صحیح اور جائز موقعوں اور جگہوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: ’’اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابل ملامت و قلاش ہو کر بیٹھنا پڑے (سورہ بنی اسرائیل: 29)، بلکہ افراط و تفریط کے اِن دونوں راستوں سے ہٹ کر اعتدال و میانہ روی سے خرچ کرنے والے نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور ( رحمن کے بندے ) وہ (ہیں) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں، نہ تنگی کرتے ہیں، بلکہ اُن کا طریقہ اِس (افراط و تفریط) کے درمیان اعتدال کا طریقہ ہے (سورۃ الفرقان: 67)۔

آیاتِ مذکورہ میں ’’اسراف‘‘ یعنی فضول خرچی کا مفہوم بتانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے الفاظ بیان فرمائے ہیں، ایک ’’اسراف ‘‘ دوسرا ’’تبذیر‘‘ بعض علماء کے نزدیک دونوں الفاظ کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی فضول خرچی، البتہ بعض دوسرے علماء کے نزدیک ’’اسراف‘‘ اور’’ تبذیر‘‘ میں فرق ہے، اُن کے نزدیک ’’اسراف‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ جائز اور مباح کاموں میں ضرورت سے بڑھ کر نامناسب اور غلط طریقے سے خرچ کرنا ’’اسراف‘‘ کہلاتا ہے، اور’’ تبذیر‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہنا جائز اور گناہ کے کاموں میں مال خرچ کرنا ’’تبذیر‘‘ ہے۔

اسی طرح احادیث شریف میں آنحضرتﷺ نے بھی فضول خرچی سے منع فرمایا ہے، آپﷺ فرماتے ہیں: ’’کھاؤ، پیؤ، صدقہ کرو اور اور پہنو لیکن فضول خرچی اور تکبر سے بچو!‘‘ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب قول اللہ تعالیٰ: قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ، ج 7، ص140،ابن ماجہ: 3605)، یہ حدیث کھانے، پینے اور لباس میں اسراف کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور بغیر دکھاوے اور شہرت کے صدقہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔

اسراف کا حقیقی معنی ہے ہر فعل و قول میں حد سے تجاوز کرنا، تاہم خرچ کرنے کے معاملے میں حد سے گزرنے میں اسراف کے لفظ کا استعمال زیادہ مشہور ہے، یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ماخوذ ہے کہ: ’’کھاؤ اور پیو لیکن اسراف نہ کرو‘‘ (سورۃ الاعراف: 31) اس میں بڑائی اور تکبر کی حرمت کا بھی بیان ہے، نیز اس میں انسان کے اپنے نفس کے تئیں بہتر تدبیر اختیار کرنے کے فضائل اور دنیا و آخرت کے لحاظ سے روحانی اور جسمانی مصالح کا بیان ہے۔

کسی بھی شے میں اسراف جسم اور معیشت دونوں کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے اور زیاں کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی روح کو ضرر پہنچتا ہے، کیونکہ یہ عموماً جسم کے تابع ہوتی ہے، تکبر سے بھی روح کو ضرر لاحق ہوتا ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے اس میں خود پسندی آتی ہے اور آخرت کیلئے بھی یہ نقصان دہ ہے، امام بخاریؒ نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ: ’’جو چاہو، کھاؤ اور جو چاہو، پیو، جب تک کہ دو باتیں تم میں نہ آئیں: اسراف اور تکبر‘‘۔

ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کا حضرت سعدؓ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ وضو کر رہے تھے تو آپﷺ نے دیکھا اور ارشاد فرمایا: ’’یہ اسراف کیسا؟‘‘ تو اُنہوں نے عرض کیا: ’’کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں! اگرچہ تم بہتے ہوئے دریا پر ہو‘‘(سنن ابن ماجہ: 425، مسند احمد: ج2ص221)، ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میری اُمت میں سے کچھ لوگ طہارت کی بابت حد سے تجاوز کریں گے‘‘ (ابو داؤد: 96)۔

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’وضو کیلئے ایک شیطان ہے جسے ’’ولہان‘‘ کہا جاتا ہے، لہٰذا تم پانی کے بارے میں وسوسوں سے بچو‘‘ (جامع ترمذی: 57، سنن ابن ماجہ: 421)

بہرحال ہمارے معاشرے میں مال خرچ کرنے کے حوالے سے عموماً تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں، ایک وہ لوگ جو مال سمیٹ کر رکھتے ہیں کہ جہاں خرچ کرنا ضروری ہو وہاں بھی بخل اور کنجوسی سے کام لیتے ہیں، دوسرے وہ لوگ جو اپنی عیش و عشرت کی خاطر مال کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، تیسرے وہ لوگ جو اپنی ضرورت کے مطابق اعتدال اور میانہ روی سے کام لیتے ہیں اور فضول ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتے، ان تینوں قسم کے لوگوں میں سے تیسری قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اسی کے منشا و مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں ہم لوگ بہت سارے مواقع پر اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں کا انتہائی بے دردی سے استعمال کرتے ہیں، چنانچہ الیکشنوں کے موقع پر امیدوار بے تحاشہ دولت لٹاتے ہیں، سرکاری دوروں کے مواقع پر مقتدر طبقہ فضول مال خرچ کرتا ہے، ملکی تقریبات کے ایام انتہائی دھوم دھام اور سج دھج سے منائے جاتے ہیں، ذاتی فنکشنوں پر فنکاروں اور گلوکاروں وغیرہ کو محض تفریح خاطر کیلئے مدعو کر کے اُن پر دولت کے دریا بہائے جاتے ہیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اور اُس کے عطا کردہ رزق کو بے جا اور بے موقع فضول خرچ کرنے کے زُمرے میں آتا ہے جس سے توبہ ضروری اور احتراز لازمی ہے۔

مفتی محمد وقاص رفیع بطور اسلامک ریسرچ سکالر ’الندوہ‘ ایجوکیشنل ٹرسٹ اسلام آباد سے وابستہ ہیں۔