آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا
اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) امریکا اور ایران میں سیز فائر تو جاری ہے مگر غیر یقینی صورتحال دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ بندی کے اثرات عالمی مارکیٹس تک پہنچنے نہیں دیئے۔
ایران آبنائے ہرمز پر اپنی پوزیشن پر قائم ہے تو دوسری جانب امریکی ناکہ بندی بھی جاری ہے، امریکا ایران معاہدہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، متحدہ عرب امارات کی جانب سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس کے شدید اثرات رونما ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ سے قبل ہفتے کا آئل امپورٹ بل 300 ملین ڈالر ہوا کرتا تھا وہ اب 800 ملین ڈالرتک پہنچ چکا ہے۔
ورلڈ بینک جنگ کے بعد کی صورتحال میں توانائی کی قیمتوں میں 16 سے 24 فیصد اضافے کے خدشے کا اظہار کر رہا ہے جس سے دنیا بھر میں مہنگائی میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ عالمی معیشتوں پر شدید دباؤ سے روزگار اور ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک کے مطابق امریکا ایران جنگ طویل ہوئی تو تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قیمت اس حد سے بھی زیادہ جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
کل بروز جمعہ حکومت تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کرنا ہے؟ادھر آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق 53 روپے تک مزید لیوی لگانے پر اصرار کیا جا رہا ہے مگر حکومت کی جانب سے ابھی یہ بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا گیا، اگر لیوی لگائی گئی اور عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق فیصلہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوگا۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث عالمی تیل سپلائی میں ایک کروڑ بیرل کی کمی آئی ہے مگر دنیا کے کئی ممالک کے برعکس پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اراکین کو بتایا کہ صورتحال بہت چیلنجنگ ہے، جسے پاکستان نے مینج کرنے کی کوشش کی ہے، روزانہ کی بنیاد پر کمیٹی پٹرولیم سٹاک کا جائزہ لے رہی ہے اور پاکستان میں تیل کی دستیابی کی پریشان کن صورتحال پیدا نہیں ہونے دی گئی۔
تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ اسی صورت ہوگا جب آبنائے ہرمز کھلے گی جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے سے متعلق ایرانی تجاویز امریکی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہیں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا مگر تاحال امریکا نے ان تجاویز سے اتفاق نہیں کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اعلیٰ سطح اجلاس میں ان تجاویز کا جائزہ لیا تھا، تہران یہ چاہتا ہے کہ نیوکلیئر معاملے پر بات چیت اگلے مرحلے میں رکھ کر پہلے آبنائے ہرمز کھول دی جائے لیکن صدر ٹرمپ ایرانی افزودہ یورینیم کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہٹانے کے لئے تیار نظر نہیں آتے۔
موجودہ صورتحال میں افزودہ یورینیم ہی وہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جو ڈیڈ لاک کا موجب ہے، اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سہ ملکی دورے کے دوران سب سے پہلے پاکستان آئے، امریکی مذاکراتی ٹیم نے بھی اسلام آباد اڑان بھرنے کے لئے تیار ی کرلی مگر ایران کی جانب سے امریکی وفد کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا گیا کیونکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایرانی پورٹس پر قدغنیں عائد کر رکھی ہیں، امریکا یہ ناکہ بندی اس وقت تک ہٹانے کے لئے تیار نہیں جب تک افزودہ یورینیم سے متعلق فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
اسی ڈیڈ لاک کو دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم کا دورہ اسلام آباد منسوخ کروایا، صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر کئے گئے اعلان میں دو باتیں اہم تھیں، ایک یہ کہ ایران براہ راست بھی امریکا سے رابطہ کر سکتا ہے، دوسرا یہ کہ جنگ بندی جاری رہے گی، امریکی میڈیا کے مطابق اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست سفارتی رابطے بھی شروع ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ایران اس وقت اپنی قیادت کے مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے۔
دوسری جانب پاکستان بھی ایران امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس کی تصدیق بھی کہ امن کیلئے کاوشیں جاری ہیں اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی، انہوں نے آنے والے دنوں میں اچھی امید کا اظہار بھی کیا، دراصل پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر کروا دیا اور اس کے بعد ڈیڈ لاک والے ایشوز کے حل کے لئے امریکا اور ایران کے درمیان دوریاں ختم کرانے کے لئے سازگار ماحول بنا دیا۔
مستقل جنگ بندی تو ایران اور امریکا دونوں ہی چاہتے ہیں اور دونوں ہی اس جنگ کو آگے بڑھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے مگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنے والا وہ اقدام ہے جس سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس بندش سے ایران تیل کی ایکسپورٹ نہیں کر سکتا، ایرانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر گر چکی ہے۔
امریکا اگرچہ آبنائے ہرمز پر براہ راست انحصار تو نہیں کرتا مگر ہرمز کی بندش کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی عالمی قیمتوں پر براہ راست مرتب ہو رہے ہیں، ادھر امریکا میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے، وہ بھی اس مسئلے سے جلد نکلنا چاہتے ہیں مگر امریکا یہ انتظار کر رہا ہے کہ ایران کب معاشی طور پر مجبور ہو کر ایک ایسے معاہدے کے لئے تیار ہو جائے جس میں ایران کی افزودہ یورینیم اس سے لی جا سکے۔