ورلڈ بائیسکل ڈے
لاہور: (اظہر عبادت) 3 جون کو دنیا بھر میں ورلڈ بائیسکل ڈے منایا جاتا ہے، اقوامِ متحدہ نے 2018ء میں اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا تاکہ سائیکل کی اہمیت، افادیت اور پائیدار نقل و حمل کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔
بائیسکل صرف ایک سواری نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی بچت کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں سائیکل کے استعمال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، یہ نہ صرف صحت کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ اس کا کم خرچ ہونا ایک الگ خصوصیت ہے۔
سائیکل انسانی تاریخ کی سب سے کامیاب اور ماحول دوست ایجادات میں شمار ہوتی ہے، دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً نیدرلینڈز، ڈنمارک اور جرمنی میں لاکھوں افراد روزانہ دفتر، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات تک پہنچنے کیلئے آج بھی سائیکل استعمال کرتے ہیں، پاکستان میں بھی چند دہائیاں قبل سائیکل عام سواری سمجھی جاتی تھی اور طلبہ، مزدور، کسان اور سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں سائیکل پر سفر کیا کرتے تھے، پھر ہمارے ہاں موٹر سائیکل انقلاب آیا اور سائیکل قصہ پارینہ بن گئی، آج ورلڈ بائیسکل ڈے ہمیں اس مفید روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
صحت مند زندگی کیلئے بہترین انتخاب
جدید دور میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث موٹاپا، دل کے امراض، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، سائیکل چلانا ایک مکمل جسمانی ورزش ہے جو جسم کے مختلف حصوں کو متحرک کرتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق روزانہ 30 سے 45 منٹ سائیکل چلانے سے دل مضبوط ہوتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور جسمانی وزن متوازن رہتا ہے، سائیکلنگ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے، ورزش کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ، بے چینی اور تھکن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے ماہرین سائیکلنگ کو ایک آسان اور مؤثر ورزش قرار دیتے ہیں، ہمارے ہاں نوجوان نسل کا زیادہ وقت موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں گزرتا ہے، اگر بچے اور نوجوان روزانہ کچھ وقت سائیکل چلانے کیلئے مختص کریں تو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ذریعہ
دنیا اس وقت ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والی گیسیں فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، بڑے شہروں میں دھواں، شور اور ٹریفک جام روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، سائیکل ایک ماحول دوست سواری ہے جو کسی طرح بھی ماحول پر منفی اثر نہیں ڈالتی، اگر شہری علاقوں میں مختصر فاصلے طے کرنے کے لئے سائیکل کے استعمال کو فروغ دیا جائے تو فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا اور ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے گی، ہمارے ملک کے بڑے شہروں جیسا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کو فضائی آلودگی کے مسائل کا سامنا ہے، ایسے حالات میں سائیکلنگ کلچر کو فروغ دینا ماحول دوست مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
سائیکل کلچر کے فروغ کی ضرورت
اگرچہ سائیکل کے بے شمار فوائد موجود ہیں لیکن اس کے استعمال میں کئی رکاوٹیں بھی ہیں، مثال کے طور پر شہروں میں سائیکل سواروں کے لئے مخصوص لینز کی کمی، سڑکوں کی نامناسب حالت اور ٹریفک کے مسائل لوگوں کو سائیکل استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور مقامی ادارے سائیکل دوست پالیسیاں متعارف کرائیں، تعلیمی اداروں، پارکوں اور عوامی مقامات پر سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے، شہری منصوبہ بندی میں سائیکل ٹریکس شامل کیے جائیں تاکہ لوگ محفوظ انداز میں سفر کر سکیں، اس کے ساتھ ساتھ والدین بھی اپنے بچوں کو سائیکلنگ کی طرف راغب کریں، سکولوں میں سائیکلنگ کے مقابلے، آگاہی مہمات اور کھیلوں کی سرگرمیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ورلڈ بائیسکل ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک سادہ سی سائیکل صحت مند زندگی، صاف ماحول اور معاشی بچت کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے، بڑھتی ہوئی آلودگی، ٹریفک کے مسائل اور صحت کے چیلنجز کے پیش نظر سائیکلنگ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور عوام مل کر سائیکل کے استعمال کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف انفرادی صحت بہتر ہوگی بلکہ ایک صاف، صحت مند اور پائیدار معاشرہ بھی تشکیل پائے گا، یہی ورلڈ بائیسکل ڈے کا اصل پیغام ہے۔
اظہر عبادت نوجوان لکھاری ہیں، ان کے مضامین مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔