بڑی کامیابیاں مگر سیاسی تبدیلیوں کی بازگشت
اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں اس کی پارلیمانی منظوری بھی ہو جائے گی مگر بجٹ کے فوری بعد وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں، پارلیمنٹ کی راہداریوں اور سیاسی بیٹھکوں میں چہ میگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ بجٹ کی منظوری کے بعد ملک میں کسی نہ کسی نوعیت کی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے، بعض حلقے حکومتی سیٹ اَپ میں ردوبدل کی بات کر رہے ہیں، کچھ لوگ کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، مگر حقیقت کیا ہے اس پر بات کریں گے، تاہم اس وقت پاکستان نے دنیا کو امن کا جو تحفہ دیا ہے دنیا بھر کی نظریں اس پر ہیں، ایران امریکہ جنگ بندی اور امن معاہدے کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر برگن سٹاک میں جمعہ 19 جون کے روز ایک تاریخی تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے خاتمے سے متعلق ایک اہم معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی، اگر یہ عمل طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو گزشتہ چار ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال، جنگی خدشات اور عالمی بے چینی کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس پیش رفت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی معیشت پہلے ہی اس کے مثبت اثرات محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے، عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پیدا ہو چکا ہے، برینٹ کروڈ جو چند ہفتے قبل تیزی سے اوپر جا رہا تھا اب تقریباً 77 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ چکا ہے، عالمی سٹاک مارکیٹوں میں بھی اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا ہے اور سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت دکھائی دے رہا ہے، جہاں امریکہ نے یہ یقین دہائی حاصل کر لی ہے کہ ایران اب جوہری طاقت حاصل نہیں کر سکے گا وہیں ایران سے بہت سی معاشی پابندیوں کا خاتمہ ایران کیلئے معاشی مشکلات کا خاتمہ کر دے گا جبکہ آبنائے ہرمز کھلنے سے دنیا میں معاشی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگا۔
اس تاریخی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر حکام کی شرکت متوقع ہے، عالمی سفارتی حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ اس پورے عمل میں پاکستان نے ایک کلیدی اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، اگرچہ پاکستان نے اس حوالے سے کبھی نمایاں تشہیر یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش نہیں کی تاہم پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے ایک انتہائی حساس تنازعے کو نہ صرف مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا گیا بلکہ اسے منطقی انجام تک لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس عمل کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی، اُن کے مطابق یہ ایک ہائی سٹیک، حساس اور کئی دہائیوں پر محیط تنازع تھا جس میں معمولی غلطی بھی خطے کو ایک تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے بطورِ ثالث اپنا کردار ادا کیا اور اس پورے عمل میں رازداری، اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی رابطوں کو ترجیح دی گئی۔
اس سارے عمل میں پاکستانی سفارتکاری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ وہ ہیڈ لائنز حاصل کرنے کے بجائے نتائج پر توجہ دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس عمل کے دوران پاکستان نے نہ تو غیر ضروری بیانات دیئے اور نہ ہی کسی قسم کی تشہیری مہم چلائی حالانکہ دونوں فریق یعنی ایران اور امریکہ کھل کر اس عمل پر بات کرتے رہے، پاکستان کی اصل توجہ صرف ایک مقصد پر مرکوز رہی اور وہ تھا خطے کو ایک نئی جنگ سے بچانا۔
بہت سے حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب پاکستان نے مذاکراتی عمل میں کلیدی اور سب سے بڑا کردار ادا کیا تو یہ تقریب پاکستان میں منعقد کیوں نہیں ہوئی؟ اس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال ایک بڑی رکاوٹ دکھائی دی، اس معاملے کو ڈی ریل کرنے کی خواہش رکھنے والے بھی صورتحال پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، سکیورٹی کی حساسیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ معاہدے کی تقریب کو پہلے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہاں سے بھی اسے سکیورٹی کے باعث دوسرے شہر، برگن سٹاک میں منتقل کیا گیا، سوئٹزر لینڈ کے اندر جنیوا سے اس تقریب کو دوسری جگہ منتقل کرنا بتا رہا ہے کہ معاملے کی حساسیت کیا ہے۔
اس تقریب کا اصل میزبان پاکستان ہی ہے مگر علاقائی صورتحال اور چیلنجز کے باعث اسے سوئٹزرلینڈ منتقل کرنا ایک بہتر فیصلہ دکھائی دیتا ہے، ادھرپاکستان میں ہر خاص و عام یہ سوال کرتا دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے سفارتی اور عالمی محاذ پر اتنی بڑی کامیابی سمیٹ لی تو اس کا فائدہ پاکستان اور اس کے عوام کو کب اور کیسے ملے گا؟ اس کا فائدہ پاکستان کی دنیا میں تاریخی اہمیت کی صورت میں تو مل چکا مگر پاکستان اور اس کے عوام کی معاشی مشکلات دور ہونے سے متعلق براہ راست فائد ہ تبھی پہنچے گا جب اندرونی معاشی ری سٹرکچرنگ اور بہتر فیصلے کئے جائیں گے۔
حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کھلنے کی صورت میں تیل کی قیمتیں گرنے کا مکمل فائدہ بھی فوری طور پر اس لئے نہیں پہنچ سکتا کیونکہ آئی ایم ایف کی شرائط پر پٹرولیم لیوی کی مد میں 1700 ارب روپے تک اکٹھے کئے جانے ہیں، البتہ ایران سے پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد پاکستان کو اپنے ہمسایہ دوست ملک کے ساتھ تجارت اور معاشی سرگرمیاں شروع کرنے میں بڑی مدد ملے گی جس کا فائدہ ایران اور پاکستان دونوں کو ہوگا۔
دوسری جانب شہرِ اقتدار میں سیاسی چہ میگوئیوں سے متعلق ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز حکومت اور مقتدرہ مکمل طور پر ایک پیج پر ہیں اور مستقبل میں کسی بھی نئے سیٹ اَپ کے بارے نہیں سوچا جا رہا اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔
یہ بات حقیقت اس لئے ہے کیونکہ شہباز شریف کے مقتدرہ کے ساتھ مثالی تعاون اور ون پیج کا فی الحال کوئی متبادل دکھائی نہیں دیتا، البتہ بجٹ منظوری کے بعد وفاقی کابینہ میں رد و بدل کا امکان ہے اور کچھ وزراء کی وزارتیں تبدیل ہوں گی جبکہ کئی وزراء گھر بھی جا سکتے ہیں، کابینہ میں ردو بدل کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا جس کے نتیجے میں کچھ بڑی تبدیلیاں ضرور ہو سکتی ہیں۔