تازہ اسپیشل فیچر

غزہ میں جنگ کے ایک ہزار دن

لاہور: (ویب ڈیسک) غزہ میں حالیہ جنگ کو ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہاں کے لاکھوں فلسطینیوں کے لیے ہر نیا دن ایک نئے امتحان کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، مسلسل بمباری، نقل مکانی، خوراک اور ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات کی تباہی نے غزہ کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل کر دیا ہے۔

اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کا 90 فیصد سے زائد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، غزہ کے تقریباً 80 فیصد علاقے پر اسرائیلی افواج نے زمینی کارروائیوں، فضائی حملوں اور جبری نقل مکانی کے احکامات کے ذریعے قبضہ کر لیا ہے۔

اسرائیل اب تک غزہ پر 2 لاکھ 23 ہزار ٹن دھماکا خیز مواد گرا چکا ہے، جو 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ کی جانب سے گرائے گئے ایٹم بم کی تباہ کن قوت سے 16 گنا زیادہ ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران غزہ میں کم از کم 73,066 فلسطینی جاں بحق جبکہ 173,514 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 9500 افراد لاپتا بھی ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مجموعی اعداد و شمار اور مختلف بین الاقوامی اداروں کے تجزیوں کے مطابق 20 ہزار 500 سے زائد فلسطینی بچے جنگ کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 1022 شیر خوار بچے ہیں، اگر صرف اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد کی مدت دیکھی جائے تو 200 سے زائد بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس عرصے کے دوران غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں 262 صحافی، 145 شہری دفاع کے اہلکار اور 928 فلسطینی کھلاڑی بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اکتوبر 2025 میں ہونے والی نام نہاد جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری میں کچھ کمی ضرور آئی، تاہم حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں، غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی 1,053 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 350 سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ 3,400 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ اور یونیسیف کے مطابق غزہ دنیا میں بچوں کے لیے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک بن چکا ہے، لاکھوں بچے بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں یتیم ہوئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد شدید ذہنی صدمے، غذائی قلت اور تعلیم سے محرومی کا شکار ہے۔

اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق غزہ کی بڑی آبادی بے گھر ہو چکی ہے، متعدد خاندان جنگ کے دوران کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ بہت سے لوگ آج بھی خیموں یا تباہ شدہ گھروں کے ملبے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ صاف پانی، بجلی، طبی سہولیات اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات شدید متاثر ہیں۔

صحت کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے، درجنوں ہسپتال تباہ یا جزوی طور پر غیر فعال ہیں، جس کے باعث زخمیوں، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو بروقت علاج میسر نہیں، طبی عملہ بھی ادویات، ایندھن اور آلات کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غذائی بحران بھی شدت اختیار کر چکا ہے، خوراک اور انسانی امداد کی محدود رسائی کے باعث لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ بچوں میں غذائی قلت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تعلیم کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، سینکڑوں سکول تباہ یا پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس سے ایک پوری نسل کی تعلیم متاثر ہوئی ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگ کے طویل اثرات بچوں کی ذہنی صحت، سماجی ترقی اور مستقبل پر بھی مرتب ہوں گے۔

معاشی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں، کاروبار بند، صنعتیں تباہ اور بے روزگاری انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کے باعث بیشتر خاندان امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم مستقل امن کا کوئی واضح راستہ ابھی سامنے نہیں آ سکا، اس دوران غزہ کے شہریوں کی مشکلات بدستور برقرار ہیں۔

ایک ہزار دن بعد بھی غزہ صرف ایک جنگ زدہ علاقہ نہیں بلکہ انسانی استقامت، بے بسی اور بقا کی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اس بحران کا پائیدار حل تلاش کر سکے گی، یا غزہ کے عوام مزید ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرتے رہیں گے۔