تازہ اسپیشل فیچر

سرخ سیارے پر زندگی؟

لاہور: (محمد ارشد لئیق) کیا کائنات میں زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے صدیوں سے سائنس دانوں، فلسفیوں اور عام انسانوں کے تجسس کو زندہ رکھا ہوا ہے، جب بھی خلا سے موصول ہونے والی کوئی نئی تصویر یا غیرمعمولی ساخت منظر عام پر آتی ہے تو یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر لیتی ہے۔

حال ہی میں ناسا کی جانب سے مریخ کی سطح سے لی گئی ایک تصویر نے دنیا بھر میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، اس تصویر میں نظر آنے والی ایک پراسرار چٹانی ساخت کو بعض افراد مصنوعی تعمیر یا کسی ذہین مخلوق کے آثار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین ارضیات اور خلائی سائنس دان اسے قدرتی ارضیاتی عمل کا نتیجہ بتا رہے ہیں، حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سرخ سیارے پر ممکنہ حیات، خلائی مخلوق اور کائنات کے ان گنت رازوں کے بارے میں عالمی دلچسپی کو نئی مہمیز دے دی ہے۔

مریخ کی سطح پر موجود ایک عجیب و غریب شکل کے حامل جسم کی تصویر نے ایک بار پھر سرخ سیارے پر خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق حیران کن نظریات کو ہوا دے دی ہے، یہ تصویر ناسا کے   اپرچیونٹی (Opportunity) روور‘‘ نے 2014ء میں لی تھی، تاہم حال ہی میں سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہوگئی، جہاں متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ تصویر میں نظر آنے والی شے کسی ’’خلائی مخلوق کی بندوق‘‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔

ویب سائٹ   UFO Sighting Daily‘‘ سے وابستہ مریخ پر تحقیق کرنے والے اسکاٹ سی وارنگ (Scott C Waring)نے دعویٰ کیا کہ یہ مبینہ   بندوق‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناسا نے مریخ پر روور بھیجنے کا مقصد وہاں موجود خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی حاصل کرنا تھا، وارنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا:   مریخ پر خلائی مخلوق کی بندوق کی تصاویر میں سے اب صرف ایک باقی رہ گئی ہے، جبکہ دیگر تصاویر ناسا نے حذف کر دی ہیں‘‘، اس سے قبل بھی وارنگ نے اپنے ایک بلاگ میں اس تصویر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مبینہ ہتھیار کی لمبائی تقریباً ایک فٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ واقعی حیران کن ہے، اس بندوق کی درست جگہ   ایس او ایل 3773‘‘ پر ہے، جو ماؤنٹ ایجکمب (Mt Edgecumbe) اور وڈوویاک رج (Wdowiak Ridge)کے درمیان واقع ہے، دوسری جانب ناسا کے مطابق اپرچیونٹی روور نے 25 جنوری 2004ء کو مریخ پر کامیاب لینڈنگ کی تھی، یہ روور مریڈیانی پلانم (Meridiani Planum) کے علاقے میں واقع ایک چھوٹے تصادمی گڑھے، ایگل کریٹر (Eagle Crater) میں اترا تھا۔

تاہم جون 2018ء میں پورے مریخ کو اپنی لپیٹ میں لینے والے شدید گردوغبار کے طوفان کے باعث سورج کی روشنی روور کے سولر پینلز تک نہ پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں اس کا رابطہ منقطع ہوگیا، کئی ماہ تک رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود ناسا نے فروری 2019ء میں باضابطہ طور پر اس تاریخی مشن کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ ناسا نے اس تصویر کو کبھی بھی خلائی مخلوق یا کسی مصنوعی ہتھیار کا ثبوت قرار نہیں دیا، ماہرین کے مطابق مریخ پر نظر آنے والی ایسی بیشتر اشکال قدرتی چٹانی ساختیں ہیں، جنہیں انسانی دماغ بعض اوقات مانوس اشیاء کی شکل میں دیکھتا ہے، جسے نفسیات میں پیریڈولیا (Pareidolia) کہا جاتا ہے۔ تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یو ایف او کے محققین کے یہ دعوے محض   پیریڈولیا‘‘ کا ایک نمونہ ہیں، یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسانی دماغ بے ترتیب اشکال، چٹانوں یا سائے میں چہروں، جانوروں یا روزمرہ استعمال کی مانوس اشیاء کی شکلیں دیکھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہاں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔

دوسری جانب ناسا مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ اب تک اسے خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی مریخ پر موجودہ یا ماضی کی کسی بھی قسم کی حیات کے واضح شواہد دریافت ہوئے ہیں، اگرچہ اسکاٹ سی وارنگ کو یقین ہے کہ اپرچیونٹی روور نے مریخ کی سطح پر ایک بندوق نما شے کی تصویر محفوظ کی ہے، لیکن بہت سے لوگ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’’میں کوئی ماہر نہیں ہوں، لیکن میرے خیال میں یہ محض ایک چٹان ہے، جبکہ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا: اگر یہ واقعی خلائی مخلوق کی بندوق ہے تو پھر اسے انسانی ہاتھوں اور انگلیوں کے مطابق کیوں بنایا گیا ہوگا؟

اسکاٹ سی وارنگ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مریخ پر موجود غیر معمولی شکل و صورت رکھنے والی چٹانوں کو خلائی مخلوق سے جوڑتے رہے ہیں، 2016ء میں بھی انہوں نے ایک چٹان کو جوتا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کسی قدیم مخلوق کی باقیات کا ثبوت ہوسکتی ہے، انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا: مریخ کے روور کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے ایک گڑھے کے کنارے ایک تنہا جوتا دکھائی دیا۔

مزید انہوں نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے یہ کسی ایسی مخلوق کا جوتا ہو جو بہت پہلے کسی جنگ میں شامل رہی ہو، اور یہ جوتا ہی اس بات کا واحد ثبوت ہو کہ وہ مخلوق کبھی موجود تھی، وارنگ کے مطابق یہ مبینہ دریافت 24 اگست 2016ء کو سامنے آئی، تاہم جس اصل تصویر کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا، وہ اپرچیونٹی روور نے 2013ء میں مریخ کی سطح سے کھینچی تھی۔