دہشت گردی میں بھارتی کردار
اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ایک جانب بلوچستان اور کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے بھارت کی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے ثبوت سامنے رکھے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں نے بھی بھارتی نژاد گینگز، منشیات کی سمگلنگ، بھتہ خوری اور بیرون ملک ٹارگٹ کلنگ کے روابط پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ دونوں پیش رفتیں اگرچہ الگ نوعیت کی ہیں تاہم ان سے ایک وسیع تر سوال جنم لیتا ہے کہ کیا جنوبی ایشیا میں سرگرم منظم جرائم اور سرحد پار دہشت گردی کے نیٹ ورکس بین الاقوامی سلامتی کیلئے بھی بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جنہیں بھارت چلا رہا ہے؟
پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس بریفنگ میں کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے پیچھے فتنہ الہندوستان کے عناصر ملوث تھے، ان کے مطابق دہشت گردوں نے نہ صرف معصوم شہریوں بلکہ سکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ ریاست ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ منگی ڈیم ، کوئٹہ پمپنگ سٹیشن کے علاقے میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جبکہ زیارت میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے دوران کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے، گزشتہ روز کئے گئے دو آپریشنز میں 14 دہشت گرد مارے گئے یوں گزشتہ چند روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کئے جا چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ دہشت گردی کے تینوں حملوں میں وطن کا دفاع کرتے ہوئے مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے۔
میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے، افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان مخالف کارروائیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے اور بعض دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے یہ گروہ اپنی کارروائیوں میں تیزی لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان گروہوں کا مقصد صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، معدنی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور بلوچستان کی ترقی کو بھی متاثر کرنا ہے، یہ حملے داخلی شورش نہیں بلکہ سوچی سمجھی بیرونی سازش ہیں اور بھارت ان گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی استغاثہ کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت سے منسلک بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ امریکا اور یورپ میں ٹارگٹ کلنگ اور منشیات کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں، امریکی استغاثہ نے بھارتی گروہوں کے جرائم کی تفصیلات ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کیس میں فرد جرم عائد کرتے وقت دیں، اس میں بتایا گیا کہ آپریشن ہارڈ بال کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور یہ بات واضح کی کہ بھارت منظم ٹارگٹ کلنگ ، منشیات فروشی اور دہشت گردی کا عالمی اڈہ بن چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے اداروں نے تین بھارتی بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ 24 افراد کو گرفتار کیا، 11 گرفتاریاں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہوئیں جو امریکہ، کینیڈا اور سپین سے کی گئیں جبکہ 10 ملزمان اب بھی مفرور ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق آپریشن ہارڈ بال میں 37 ملزمان پر بھتہ خوری اسلحہ، منشیات اور قتل کے مقدمات قائم کئے گئے، امریکی حکام نے اپنی عدالتی دستاویزات میں بھارتی نژاد لارنس بشنوئی، گولڈی برار اور دیگر جرائم پیشہ گروہوں کا ذکر کیا جن پر کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی سازش سے متعلق تحقیقات ہوئیں۔
امریکی حکام نے بتایا کہ غیر ملکی سرزمین پر ٹارگٹ کلنگ، تارکین وطن کو قتل اور ہراساں کرنا اور جرائم پیشہ پراکسیز کا استعمال عالمی خود مختاری اور قانون کی حکمرانی کیلئے خطرہ ہے، بھارتی جیلوں سے چلنے والا جرائم پیشہ کمانڈ سسٹم مغربی ممالک کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔
اس پورے معاملے نے ایک اہم حقیقت نمایاں کی ہے کہ منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بیرون ملک دہشت گرد کارروائیاں اب کسی ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سلامتی کا مسئلہ بنتی جا رہی ہیں، ایسے نیٹ ورکس جدید مواصلاتی ذرائع، مالیاتی نظام، جعلی شناختوں، حوالہ ہنڈی، کرپٹو کرنسی اور سرحد پار روابط کا استعمال کرتے ہوئے کئی ممالک میں بیک وقت سرگرم ہو چکے ہیں۔
حالیہ امریکی کارروائیوں نے ایک اور پہلو بھی اجاگر کیا ہے کہ بعض جرائم پیشہ گروہ جو بظاہر مقامی گینگ معلوم ہوتے ہیں درحقیقت کئی براعظموں تک پھیلے ہوئے نیٹ ورکس رکھتے ہیں، اگر ایسے نیٹ ورکس کو سیاسی یا جغرافیائی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے تو وہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے اداروں کیلئے بھی بڑا چیلنج بن سکتے ہیں، امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک بھی بین الاقوامی منظم جرائم، بیرون ملک قتل کی سازشوں اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف تعاون بڑھا رہے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں سرحد پار جرائم اور سیاسی تشدد کے خلاف بین الاقوامی تعاون مزید اہمیت اختیار کرے گا، مجموعی طور پر حالیہ پیش رفتوں نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ اور بیرون ملک ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں، ان سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے نہ صرف مضبوط داخلی سکیورٹی حکمت عملی بلکہ بین الاقوامی عدالتی تعاون، شفاف تحقیقات اور قانون کی یکساں عملداری ناگزیر ہے۔