تازہ اسپیشل فیچر

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

لاہور: (محمد علی) ہر سال 7 جولائی کو دنیا بھر میں چاکلیٹ ڈے منایا جاتا ہے، یہ دن چاکلیٹ کی دلچسپ تاریخ، اس کی ثقافتی اہمیت، معاشی کردار اور دنیا بھر میں اس کی غیر معمولی مقبولیت کو اجاگر کرنے کیلئے مخصوص ہے۔

7 جولائی کو ورلڈ چاکلیٹ ڈے منانے کی روایت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن 1550ء میں چاکلیٹ یورپ میں متعارف ہوئی تھی، تاہم چاکلیٹ کے عالمی دن کا انعقاد 2009 سے شروع ہوا اور اب یہ دنیا کے متعدد ممالک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، چاکلیٹ صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ خوشی، محبت، دوستی اور جشن کی علامت بھی بن چکی ہے۔

قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک
چاکلیٹ کی کہانی ہزاروں سال پرانی ہے، اس کی ابتداء وسطی اور جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیبوں خصوصاً مایا اور ازٹیک اقوام سے ہوئی، ان تہذیبوں میں کوکو کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیجوں سے ایک مشروب تیار کیا جاتا تھا جو مذہبی رسومات، شاہی تقریبات اور خصوصی مواقع پر استعمال ہوتا تھا، ازٹیک حکمران کوکو کے بیجوں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہیں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپی مہم جو جب امریکہ پہنچے تو وہ کوکو کے بیج اپنے ساتھ یورپ لے گئے، ابتداء میں چاکلیٹ صرف شاہی خاندانوں اور امرا تک محدود تھی لیکن بعد میں اس میں چینی، دودھ اور مختلف ذائقے شامل کئے گئے جس سے یہ زیادہ خوش ذائقہ اور مقبول ہوگئی، انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے چاکلیٹ کی تیاری کو آسان، تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا جس کے بعد یہ عام لوگوں کی دسترس میں بھی آگئی، آج چاکلیٹ دنیا کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہے، بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں، سالگرہ، شادی، عید، کرسمس اور دیگر خوشی کے مواقع پر چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرنا ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔

کوکو کی پیداوار میں مغربی افریقہ کے ممالک خصوصاً آئیوری کوسٹ اور گھانا قابل ذکر ہیں، صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئیڈز فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور خون کی گردش کیلئے مفید ہوسکتے ہیں، تاہم چینی اور چکنائی سے بھرپور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دانتوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔

چاکلیٹ ڈے کی تقریبات اور مقبولیت
چاکلیٹ ڈے کے موقع پر مختلف ممالک میں چاکلیٹ فیسٹیول، نمائشیں، کوکنگ مقابلے اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں نئی مصنوعات متعارف کراتی ہیں اور صارفین کیلئے خصوصی رعایتوں کا اعلان بھی کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی پسندیدہ چاکلیٹس، گھریلو ترکیبیں اور تصاویر شیئر کر کے اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں، پاکستان میں بھی چاکلیٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے، مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات ہر بڑے شہر میں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ بیکریوں، کیفیز اور گھروں میں چاکلیٹ سے تیار کردہ کیک، براونیز، ڈیزرٹس اور دیگر اشیاء کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

خوشیوں کا عالمی ذائقہ
ورلڈ چاکلیٹ ڈے صرف ایک میٹھی چیز سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اس طویل سفر کی بھی یاد دلاتا ہے جو کوکو کے ایک چھوٹے سے بیج نے قدیم امریکی تہذیبوں سے شروع کیا اور آج پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے، یہ دن اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ذمہ دارانہ خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعتدال کے ساتھ اس لذیذ نعمت سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتا ہے۔

چاکلیٹ بلاشبہ ذائقے، خوشی، تہذیب اور انسانوں کو قریب لانے والی ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے دنیا بھر میں یکساں محبت سے سمجھا جاتا ہے۔