امریکا، ایران محاذ آرائی کا نیا مرحلہ
اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) امریکہ اور ایران کے مابین جون کے وسط میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ جولائی کے آغاز ہی میں اس وقت کھٹائی میں پڑ گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر فائرنگ کا نشانہ بنا ڈالا۔
اس پر امریکہ کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب کوئی معاہدہ رہا ہے اور نہ کوئی مفاہمتی یادداشت۔ پھر امریکہ کی جانب سے ایرانی سرزمین میں مختلف اہداف پر بمباری کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ہنوز جاری ہے، دوسری جانب ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں میں تنصیبات کے نقصان اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
امریکہ اور ایران میں عارضی جنگ بندی کا محض ڈیڑھ سے دو ہفتوں ہی میں ٹوٹ جانا فریقین کے مابین اعتماد سازی کے شدید فقدان کی نشاندہی کر ا ہے، ایران کا شروع ہی سے یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتا اور کئی بار مذاکرات کے دوران ہی جارحیت کا مرتکب ہو کر بات چیت کے عمل کو نقصان پہنچا چکا ہے، امریکہ بھی ایرانی قیادت پر عدم اعتماد کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس بار بھی کچھ ایسی ہی صورتحال نظر آئی کہ فریقین کے مابین مکمل جنگ بندی کیلئے بات چیت کا ابتدائی مرحلہ ہی جاری ہی تھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات نے نہ صرف امن کے عمل کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے بلکہ لگ یوں رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر کھلی محاذ آرائی میں تبدیل ہو رہی ہے۔
یہ کشیدگی دونوں فریقین کی درمیان اس لئے بڑھ گئی کیونکہ دونوں ہی اس معاملے کو اپنی فتح قرار دینا چاہتے ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایرانی نگرانی کے بغیر گزرتے رہیں جبکہ ایران چاہتا ہے کہ ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے، جسے وہ مستقبل میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے۔
حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، اگرچہ امریکی حکام نے سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے حل کیلئے مذاکرات، سفارتکاری اور اختلافات کے پرامن تصفیے کیلئے تیار ہے، تاہم ان کے بقول ایران اس وقت سنجیدگی سے بات چیت نہیں کر رہا، مارکوروبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران سنجیدہ ہے تو ہم بھی سنجیدہ ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ہم اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، تاہم پاکستان کی قیادت اس صورتحال میں تمام تر بگاڑ کے باوجود مایوس نظر نہیں آئی اور ایک بار پھر ایک نئے عزم کے ساتھ فریقین کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے طے شدہ نکات کی جانب واپس لانے کیلئے سرگرم نظر آتی ہے؛چنانچہ اتوار کے روز ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور خطے میں قیام امن اور باہمی تجارت ،اقتصادی روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی۔
یہ دورہ ایران کے پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے، پاکستان پر یہ اعتماد امریکہ کی جانب سے بھی نظر آتا ہے جس سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ نہ صرف فریقین سے دو طرفہ رابطوں کے ذریعے ثالثی کا کلیدی کردار جاری رکھے گا بلکہ اس سے فریقین میں مفاہمت کیلئے ایک بار پھر مثبت پیش رفت کی توقع بھی کی جا رہی ہے، لیکن اس سب کیلئے یہ امر بھی ضروری نظر آتا ہے کہ کشیدگی کے بڑھنے کی بنیادی وجہ کو دور کرنے پر خصو صی توجہ مرکوز کی جائے اور پاکستان سمیت امن کے خواہاں تمام ممالک مل کر تنازعے کے فریقین میں اعتماد سازی کیلئے کردار ادا کریں۔
دنیا کے تیل کی پیداوار کے حوالے سے اہم ترین خطے میں کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی شدت سے ظاہر ہو رہے ہیں اور خطے میں جاری تنازعے کے طول پکڑنے سے تیسری دنیا کے ممالک کی معیشتیں شدید متاثر نظر آتی ہیں، ادھر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جہاز رانی کے ادارے کپلر کے مطابق پیر کے روز صرف چار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
دوسری طرف حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد بحیرہ احمر میں آئل ٹینکروں کا رخ موڑ دیا گیا، یہ ٹینکر اب نہر سویز کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب میں نقل و حمل مزید متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، اس صورتحال میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گئی ہیں اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تنازع برقرار رہا توخام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔
ادھر حکومت پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، اس طرح تیل کی قیمتوں کے تعین پر بظاہر حکومتی اثر ختم کرنے اور اوگرا کی جانب سے روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اعلان کیا گیا ہے تاہم پٹرولیم لیوی اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کی شرح پر اب بھی حکومت کا ہی اختیار ہوگا یوں اسے مکمل ڈی ریگولیٹ کرنا نہیں کہا جا سکتا۔
حکومت کے اس اقدام کا مقصد پٹرولیم کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی صورت میں بھاری اضافہ کی صورت میں سیاسی بدنامی سے بچنا ہے، دیکھا جائے تو اس کا فائدہ عوام کو زیادہ جبکہ پٹرولیم سیکٹر سے جڑے فریقین کو کم ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں ریلیف فوری طور پر عوام کو منتقل ہوگا۔
آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان کیا تھا، ان کے بنیادی خدشات یہ تھے کہ وہ ایک روز پہلے مہنگا پٹرول خرید چکے ہوں اور اگلے روز قیمت کم ہوجائے تو انہیں نقصان ہوگا، تاہم گزشتہ روز وفاقی وزیر پٹرولیم اور ایسوسی ایشن کے مابین ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے ڈیلر مارجن کے معاملے کو حل کرنے کیلئے دو ہفتوں کا وقت مانگا ہے جس کے بعد پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام آزمائشی ہے جس سے لگتا یہی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے روزانہ تعین کا معاملہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ بحران کے حل تک کیلئے ہوگا بصورت دیگر حکومت کو پٹرول پمپس کا مارجن بڑھانے کے حوالے سے اقدامات کرنے ہوں گا تاہم ایسا ہوا تو یہ بوجھ بھی صارفین پر پڑے گا۔