تازہ اسپیشل فیچر

قرض کے بدلے تعلیم

لاہور: (محمد علی) دنیا اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف تعلیم جیسے بنیادی شعبے کیلئے مالی وسائل مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کی تازہ رپورٹ:Turning debt into education investment اسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک قابلِ عمل حل پیش کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے جزوی نجات دے کر وہی وسائل تعلیم کے شعبے میں منتقل کئے جائیں تاکہ مستقبل کی انسانی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے، یونیسکو کے مطابق تعلیم پر خرچ ہونے والی ہر رقم درحقیقت کسی ملک کی معاشی، سماجی اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہوتی ہے، نہ کہ محض ایک سرکاری خرچ۔

بڑھتا ہوا قرض، سکڑتا ہوا تعلیمی بجٹ

گزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی معیشت کو کووڈ19 ، مہنگائی، توانائی کے بحران، موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ان عوامل نے ترقی پذیر ممالک کی مالی حالت کو مزید کمزور کر دیا، بہت سے ممالک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس کے باعث تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں کیلئے وسائل محدود ہو گئے ہیں۔

یونیسکو کے مطابق کئی کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں قرضوں کی ادائیگی پر ہونے والے اخراجات تعلیم کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہیں، اس کا براہِ راست اثر دسیوں لاکھ بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے، متعدد علاقوں میں نئے سکول تعمیر نہیں ہو پا رہے، موجودہ تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات ناکافی ہیں، اساتذہ کی کمی ہے اور جدید تدریسی وسائل کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

یہ صورتِ حال اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف یعنی سب کیلئے معیاری اور مساوی تعلیم، کے حصول کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، اگر یہی رجحان برقرار رہا تو عالمی سطح پر تعلیمی عدم مساوات مزید گہری ہوگی اور غربت کے خاتمے کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔

تعلیم کیلئے عالمی امداد میں کمی

رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیم کیلئے بین الاقوامی ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے، یونیسکو کے مطابق 2023ء سے 2027ء کے درمیان کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کو تعلیم کیلئے ملنے والی بین الاقوامی امداد میں تقریباً 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید برآں، 2025ء میں امریکہ نے اپنی مجموعی غیر ملکی امداد میں 57 فیصد، یورپی یونین نے 14 فیصد اور جاپان نے 6 فیصد کمی کی، ان فیصلوں کے اثرات ان ممالک پر سب سے زیادہ مرتب ہوئے جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار تھے، ایسے حالات میں ترقی پذیر ممالک کیلئے متبادل مالی ذرائع تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

قرض کے بدلے تعلیم

یونیسکو کی رپورٹ کا مرکزی نکتہ Debt for education swaps ہے، یعنی قرض کے بدلے تعلیم۔ اس نظام کے تحت قرض دینے والا ملک یا مالیاتی ادارہ قرض لینے والے ملک کا کچھ حصہ معاف کر دیتا ہے یا اس کی ادائیگی کی شرائط آسان بنا دیتا ہے، اس کے بدلے متعلقہ حکومت اتنی ہی رقم اپنے قومی تعلیمی منصوبوں پر خرچ کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

یوں ایک طرف قرضوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور دوسری طرف تعلیم کے شعبے کو اضافی وسائل میسر آ جاتے ہیں، یہ ماڈل محض نظریاتی تجویز نہیں بلکہ کئی ممالک میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے، پیرو، مصر اور آئیوری کوسٹ سمیت مختلف ممالک نے قرضوں کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں نئے سکول تعمیر کئے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بہتر بنائی، تعلیمی سہولیات میں اضافہ کیا اور محروم طبقات کے بچوں تک تعلیم کی رسائی کو وسیع کیا۔

تاہم یونیسکو اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ایسے پروگرام صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام موجود ہو، وزارتِ خزانہ، وزارتِ تعلیم، قرض دہندگان، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون اس ماڈل کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

ترقی پذیر ممالک کیلئے سبق

پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ قرض کے بدلے تعلیم کا ماڈل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان ہر سال اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے جبکہ تعلیم پر اخراجات عالمی معیار سے کم ہیں، اس کے نتیجے میں قریب ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اساتذہ کی کمی سمیت متعدد مسائل برقرار ہیں۔

اگر پاکستان مستقبل میں قرض دہندگان اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ایسے معاہدوں کی جانب پیش رفت کرے جن کے تحت قرضوں کی جزوی معافی کے بدلے تعلیم میں سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، حقیقت یہی ہے کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ مستقبل میں زیادہ پیداواری معیشت، بہتر روزگار، کم غربت، سماجی استحکام اور مضبوط جمہوری اداروں کی صورت میں کئی گنا منافع دیتا ہے۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو صرف مزید قرض فراہم کرنے کے بجائے ایسے مالیاتی ماڈلز اختیار کرے جو انسانی ترقی کو ترجیح دیں، اسی طرح ترقی پذیر ممالک کو بھی تعلیم کو اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اپنے بجٹ میں اس کا حصہ بڑھانا ہوگا، اگر قرضوں کے بوجھ کو کم کر کے تعلیم میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف معیاری تعلیم کا خواب حقیقت بن سکتا ہے بلکہ غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کا حصول بھی زیادہ تیزی سے ممکن ہوگا۔