ایس ٹی ڈی سی کی ہر غیر منظور شدہ ترقی و تقرر رد کرنے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ثقافت کی زیر صدارت23سال میںبورڈآف ڈائریکٹرز کا دوسرااجلاس ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، سیاحوں کیلئے زیر تکمیل منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی محکمہ سیاحت کے ذیلی ادارے سندھ ٹور ازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایس ٹی ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں تمام ارکان نے متفقہ طور پر بورڈ کی منظوری کے بغیر ماضی میں کیے گئے تمام تقرر اور پروموشنز غیر قانونی قرار دے کر رد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ فیصلہ محکمہ ثقافت و سیاحت و نوادر کے صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں بورڈ کے ارکان سیکریٹری ثقافت اکبر لغاری، سیکریٹری فنانس کے نمائندے اسپیشل سیکریٹری سید شہاب الدین، ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے امان اللہ، صنعت کار قاسم سومرو، ایم ڈی ایس ٹی ڈی سی روشن قناصرو اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی ایس ٹی ڈی سی نے بتایا کہ ایس ٹی ڈی سی 23 سال پہلے 1994 میں تشکیل دیا گیا تھا، لیکن بد قسمتی سے اس ادارے کو غیر فعال ہی رکھا گیا اور آج 23 برس میں یہ دوسرا اجلاس ہو رہا ہے ۔ پہلا اجلاس 2008 میں ہوا تھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ پہلے اجلاس کے وقت موجودہ ڈائریکٹرز میں سے کوئی بھی اس اجلاس کا حصہ نہیں تھا، لہٰذا پہلے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق نہیں کی جاسکتی۔ ایم ڈی ایس ٹی ڈی سی نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ ایس ٹی ڈی سی کے پاس 16 ادارے ہیں جن میں کینجھر ریزورٹ ٹھٹھہ، ہالیجی موٹیل ٹھٹھہ، شاہجہاں ریسٹورنٹ ٹھٹھہ، لعل شہباز موٹیل سیہون، کائی موٹیل سیہون، لکی شاہ صدر موٹیل سیہون، ہوٹل سمبارا ان لاڑکانہ، موئن جو دڑو موٹیل، گڑھی خدا بخش موٹیل، پیرا ڈائز پوائنٹ موٹیل کراچی، مارئی موٹیل مٹھی، روپلو کولھی ریزورٹ نگر پارکر، حیدر آباد، میرپور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی میں ٹورسٹ انفارمیشن سینٹر شامل ہیں۔ مزید 6 ادارے زیر تعمیر ہیں جن میں منچھر جھیل موٹیل، جام شورو میں پکنک پوائنٹ، بدین میں نریڑی جھیل موٹیل، سانگھڑ میں کلانگر جھیل، رنی کوٹ ریزورٹ جام شورو اور نگر پارکر میں کارونجھر پر سار دھڑو پکنک پوائنٹ شامل ہیں۔ سید سردار علی شاہ نے ، جو ایس ٹی ڈی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی ہیں۔