استعفی یا رخصت میرے ما تحت کا مجھے پیغام: نواز شریف
مشورہ نما دھمکیاں ملیں مشرف کا کچھ نہیں بگڑے گا آپکو مشکلات ہو نگی ‘زرداری نے نومبر 2007کے مارشل لا کی تو ثیق کی تجویز دی‘سر جھکا کر نوکری سے انکار پر نااہل قرار پایا ‘انٹیلی جنس سربراہ کے پیغام سے دکھ ہواعوامی حاکمیت کی بات کرنا میرا قصور ‘پاکستان کا بیٹا ‘حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا توہین سمجھتا ہوں، ’’مائنس ون‘‘ کا اصول طے پاجائے تو اقامہ جیسا بہانہ ہی کافی ہوتا :عدالت میں بیان ‘پر یس کانفرنس ‘ اٹک میں خطاب نوازشریف نے سرنہیں جھکایاتو پرویز رشید ، مشاہد اللہ کو کیوں نکالا،الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں ،پیپلز پارٹی،انکا بیانیہ سیاسی،مقصد جائیداد بچانا ، عمران کے وزیر اعظم بنتے ہی احتسابی عمل تیز ہوگا،پی ٹی آئی
کراچی ،اسلام آباد(اپنے پولیٹیکل رپورٹر سے ، مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز) سابق وزیر اعظم نوازشریف کی پریس کانفرنس پر اپنے ر دعمل میں پیپلزپارٹی کے مرکزی ترجمان مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ نواز شریف کے الزامات خطرناک ہیں، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ نوازشریف کو بھی ان الزامات کے بعد کئی سوالات کا جواب دینا پڑے گا۔ اگر نواز شریف نے سر جھکا کر نوکری نہیں کی تو پرویز رشید اور مشاہد اللہ خان کو وزارتوں سے کیوں نکالا۔ ان کا (صفحہ6بقیہ نمبر7) کہنا تھا میاں صاحب بتائیں انہوں نے مشرف کو باہر کیوں جانے دیا۔ نیب عدالت سے سزا کا خدشہ ہے اس لئے نواز شریف بول رہے ہیں۔مولابخش چانڈیو نے کہا کہ نوازشریف آج بھی خود کو بچانے کیلئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ادھر تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے اپنی جوابی پریس کانفرنس میں کہا کہ نوازشریف کا بیانیہ قانونی نہیں صرف سیاسی ہے ،انہیں اپنے کئے گئے اقدامات پر کوئی افسوس نہیں اور ان کا مقصد صرف اپنی جائیداد بچانا ہے ۔عمران خان وزیراعظم بنیں گے ، میاں صاحب کو یقین دلاتے ہیں عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی احتساب کا عمل تیز ہوگا رکے گانہیں۔نوازشریف نے ضیاالحق کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا، نوازشریف کونسلر کا الیکشن نہیں لڑپائے انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا د یا گیا۔ اگر بھٹو اور بے نظیرکی روحوں کو موقع ملے تو استغاثہ کے سب سے بڑے گواہ بھی بھٹو اوربے نظیر ہوں گے ، نوازشریف دوسرے کے لیے بہت برے جج ہیں اور اپنے لیے اچھے وکیل ہیں۔فواد چودھری کاکہنا تھاکہ نوازشریف کا شکوہ ہے کہ ان کے خلاف سکینڈل کی تحقیقات کیوں ہوئی؟پاناما لیکس کا معاملہ جرمنی میں سامنے آیا تھا، پاناما پیپرز پر آئس لینڈ کے وزیراعظم کوگھرجانا پڑا، پاناما کا معاملہ سامنے آیا تو منی لانڈرنگ کے خلاف پوری دنیا میں ایک مہم چلی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ نوازشریف کامقصد اپنی جائیداد بچانا ہے ، انہیں ملک سے محبت ہوتی تو 300 ارب روپے باہر نہ جاتے ، نوازشریف کہتے ہیں کہ ان کے بیٹوں پرپاکستانی قوانین لاگونہیں ہوتے ۔ سابق وزیر اعظم سازشی تھیوری مت ڈھونڈیں، وہ پاکستان کے سیاسی ماحول کوخراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے نزدیک صرف ان کی ذات کی اہمیت ہے اسلام آباد(سیاسی رپورٹر،خصوصی رپورٹر )سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہاہے کہ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ میر ا جرم بنا ،پیچھے نہ ہٹا تو عمران ، طاہرالقادری کو اکٹھا کیا گیا، دھرنوں کا طو فان اٹھا اور لشکرکشی ہو ئی ،دھرنوں کے دوران میرے ماتحت انٹیلی جنس سربراہ نے مجھے پیغام پہنچایا کہ استعفیٰ دے دیں یا طویل رخصت پر چلے جائیں۔عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کا مقصد مشرف کیخلاف اس مقدمہ کی کارروائی روکنا تھا۔ بدھ کی سہ پہرپنجاب ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوازشریف نے احتساب عدالت میں دیئے گئے بیان کو پڑھ کرسنایا،انہوں نے کہاکہ پاناما پیپرز کی بنیاد پر بنائے گئے کھوکھلے ریفرنسز کی لمبی داستان کو ایک طرف رکھتے ہوئے مختصراً یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے ان مقدمات میں الجھانے کا حقیقی پس منظر کیا ہے ؟ ان مقدموں، ان ریفرنسز، میری نااہلی اور پارٹی صدارت سے فراغت کے اسباب ومحرکات کو میں ہی نہیں پاکستانی قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، میرے نامہ اعمال کے اصلی جرائم کیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 کو پرویز مشرف نے آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ ہر دور کے آمروں کو خوش آمدید کہنے والے منصفوں نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ 8 سال بعد 3 نومبر2007 کو اس نے ایک بار پھر آئین توڑا، ایمرجنسی کے نام پر ایک بار پھر مارشل لا نافذ کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 کے لگ بھگ جج صاحبان کو اپنے گھروں میں قید کر دیا، دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی شرمناک واردات کی نظیر شاید ہی ملتی ہو۔انہوں نے کہاکہ ایک جمہوری جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کے بارے میں ایک واضح موقف اپنایا۔ 2013 کی انتخابی مہم میں اپنا یہ موقف عوام کے سامنے رکھتے ہوئے ہم نے واضح طور پر کہا کہ حکومت قائم ہونے کی صورت میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 کی روشنی میں مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے گا، عوام نے ہمارے موقف کی تائید کی۔حکومت قائم ہونے کے بعد توانائی کے بحران اور دہشت گردی پر قابو پانے کی اولین ترجیحات کے ساتھ ساتھ میری حکومت نے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کیلئے وکلا سے مشاورت کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مشورہ دیا گیا کہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کردوں۔ مجھے ایسے پیغامات بھی ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے اس کا تو شاید کچھ نہ بگڑے مگر آپ کے لیے بہت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ان مشورہ نما دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے میں اپنے ارادے پر قائم رہا۔نوازشریف نے کہاکہ اس سے بھی پہلے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں جناب آصف علی زرداری ایک اہم قومی سیاسی رہنما کے ہمراہ میرے پاس آئے اورکہاکہ ہمیں پارلیمنٹ کے ذریعے مشرف کے دوسرے مارشل لا یعنی نومبر2007 کے اقدام کی توثیق کردینی چاہیے ، زرداری صاحب نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے لیکن میں نے کہاکہ ہم 65 برس سے ایسی مصلحتوں سے کام لے رہے ہیں۔ انہی مصلحتوں نے جمہوریت کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ وہ سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آئین سے غداری کرنے والے ڈکٹیٹر کو INDEMNITY دینے یعنی اس کے غیر آئینی اقدام کی پارلیمانی توثیق کرنے کے بجائے اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔اس سے پوچھا جائے کہ اس نے اپنا حلف کیوں توڑا اور مسلح افواج کی طاقت کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے کیوں استعمال کیا؟سابق وزیر اعظم نے کہاکہ2013 کے اواخر میں غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ آئین اپنی جگہ، جمہوریت کے تقاضے اپنی جگہ، پارلیمنٹ کی بالادستی اپنی جگہ، قانون کی حکمرانی اپنی جگہ اور پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ اپنی جگہ لیکن ایک ڈکٹیٹر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں، شاید قانون وانصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کیلئے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کُند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ آپ کو وہ دن بھی یاد ہو گا جب جنوری 2014 میں غداری کا ملزم گاڑیوں کے جلوس میں عدالت پیشی کیلئے اپنے محل سے نکلا اور اچانک کسی طے شدہ پلان کے تحت وہ راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گیا جہاں وہ کسی پُراسرار بیماری کا بہانہ کرکے ہفتوں قانون اورعدالت کی دسترس سے دور بیٹھا رہا۔انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں اور وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے والوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا اور آج بھی ہو رہا ہے اس سے آپ بخوبی واقف ہیں لیکن کوئی قانون نہ تو غداری کے مرتکب ڈکٹیٹر کو ہتھکڑی ڈال سکا، نہ اسے ایک گھنٹے کیلئے جیل بھیج سکا، اس کی نوبت آئی بھی تو اس کے عالی شان محل نما فارم ہائوس کو سب جیل کا نام دیدیا گیا۔نوازشریف نے کہاکہ میں اس حوالے سے پوری تفصیل بتانے سے قاصر ہوں کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے اور اس کارروائی کو آگے بڑھانے پر قائم رہنے کی وجہ سے مجھے کس کس طرح کے دبائو کا نشانہ بننا پڑا۔اس کے باوجود جب میرے عزم میں کوئی کمزوری نہ آئی تو 2014 کے وسط میں، انتخابات میں نام نہاد دھاندلی کا طوفان پوری شدت سے اُٹھ کھڑا ہوا۔مصدقہ رپورٹس کے مطابق اس طوفان کے پیچھے بھی یہی محرک چھپا تھا کہ مشرف کے معاملے میں مجھے دبائو میں لایا جائے ۔ میں دھرنوں سے صرف دو ماہ قبل مارچ 2014 میں اپنے دو رفقا کے ہمراہ بنی گالہ میں عمران خان سے ملا تھا۔یہ ایک خوشگوار ملاقات تھی۔انہوں نے دھاندلی کے موضوع پر کوئی بات کی نہ ہی کسی احتجاجی تحریک کا اشارہ دیا لیکن اُدھر پرویز مشرف کے مقدمے میں تیزی آئی اور ادھر اچانک لندن میں طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کے بعد بظاہر دھاندلی کو موضوع بناکر اسلام آباد میں دھرنوں کا فیصلہ کرلیا گیا۔ 14 اگست 2014 سے شروع ہونے والے یہ دھرنے چار ماہ جاری رہے ۔ان دھرنوں کے دوران جو کچھ ہوا وہ سب اس قوم کے سامنے ہے ۔ طاہرالقادری اور عمران خان کا مشترکہ مطالبہ صرف یہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائے ۔ان دھرنوں کا منصوبہ کیسے بنا، طاہرالقادری اور عمران خان کیسے یکجا ہوئے ، کس نے اُن کے منہ میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ ڈالا اور کون چار ماہ تک مسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔یہ باتیں اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں ۔ عمران خان خود کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے کہ بس امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے ۔ کون تھا وہ امپائر؟ وہ جو کوئی بھی تھا، اُس کی مکمل پشت پناہی ان دھرنوں کو حاصل تھی۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ دھرنوں کے دوران پارلیمنٹ ہائوس، ایوان صدر ، وزیراعظم ہائوس، پی ٹی وی غرض کچھ بھی فسادی عناصر سے محفوظ نہ تھا۔ اس تماشے نے ملک وقوم کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اصل مقصد ایک ہی تھا کہ مجھے وزیراعظم ہائوس سے نکال دیا جائے تاکہ مشرف کیخلاف مقدمے کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکے ۔منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ اس شدید اور طویل یلغار سے میرے اعصاب جواب دے جائیں گے اور میں خود کو بچانے کیلئے ہر طرح کے سمجھوتے پر آمادہ ہو جائوں گا۔بلاشبہ یہ ایک سوچا سمجھا اور نہایت ہی سخت حملہ تھا ایسے دن بھی آئے کہ وزیراعظم ہائوس میں داخل ہونے اور باہر جانے والے راستوں پر شرپسندوں نے قبضہ کرلیا۔ اعلان کئے گئے کہ وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے لیکن میں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹا رہا۔دھرنوں کے ذریعے مجھ پر لشکرکشی کرکے مجھے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے ۔اُنہی دنوں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ تک پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جائوں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلا جائوں۔اس پیغام سے بے حد دکھ پہنچا۔ مجھے رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے ، عوام کی منتخب حکومت اور اس کے وزیراعظم کی بس اتنی ہی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم، اپنے وزیراعظم کو مستعفی ہونے یا چھٹی پرچلے جانے کا پیغام بھجوا رہا ہے ۔شاید ہی تیسری دنیا کے کسی ملک میں اتنی افسوسناک صورتحال ہو۔ میرے مستعفی ہونے یا طویل رخصت پر چلے جانے کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نوازشریف کو راستے سے ہٹا دیا گیا تو مشرف کیخلاف مقدمے کو لپیٹنا بھی مشکل نہیں رہے گا۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے اقتدار اور اپنی ذات کو خطرے میں ڈال کر کیوں بضد تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کو اپنے کئے کی سزا ضرور ملنی چاہئے ۔ صرف اس لئے کہ آمر وں نے پاکستان کے وجود پر بڑے گہرے زخم لگائے ہیں۔آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو تین جرنیل کرتے ہیں۔اقتدار کی لذتیں بھی صرف مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت مسلح افواج کے پورے ادارے کو ادا کرنا پڑتی ہے ۔میں اپنی مسلح افواج کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ فوج کی کمزوری کا مطلب ملکی دفاع کی کمزوری ہے ،قابل تحسین ہیں ہمارے وہ بہادر سپوت جو مادر وطن کے دفاع کیلئے ہر وقت سینہ سپر رہتے اور وقت آنے پر اس پاک سرزمین کیلئے اپنے خون کا نذرانہ تک پیش کردیتے ہیں۔اس فوج کی اصل آبرو بہادر مائوں کے وہی فرزند ہیں جو اقتدار کی بارگاہوں کے بجائے سرحدی مورچوں میں بیٹھتے اور حکمرانی کی لذتیں سمیٹنے کے بجائے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔میں نے فوج کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کو ہمیشہ اہمیت دی۔میرے دور میں دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ہی 1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا دوٹوک اور ٹھوس جواب دینے کا فیصلہ کرنے میں، میں نے چند گھنٹوں کی تاخیر بھی نہیں کی تھی۔مجھے پختہ یقین تھا کہ اگر ہم نے اپنی ایٹمی قوت کا کھلا اظہار نہ کیا تو شاید آئندہ کبھی اس کا موقع نہ ملے ۔مجھے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے نہ کئے تو خطے میں شدید عدم توازن قائم ہو جائے گا بھارت کی عسکری بالادستی قائم ہو جائے گی اور پاکستان سر اٹھا کر کھڑا نہ ہو سکے گا۔ میں اس وقت پاکستان سے باہر قازقستان کے دورے پر تھا۔ میں نے اسی دن وہیں سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جوابی ایٹمی دھماکوں کی تیاری شروع کردیں۔میں نے یہ بھی ہدایت کی سارا کام کم سے کم درکار وقت یعنی 17دن کے اندر اندر مکمل کرلیا جائے ، مجھے عالمی طاقتوں کی طرف سے نصف درجن فون آئے ، 5 ارب ڈالر کا لالچ دیا گیا لیکن میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو سربلند دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے وہی کیا جو پاکستان کے مفاد میں تھا، مجھے پاکستان کی سربلندی، پاکستان کا وقار، پاکستان کا افتخار اور پاکستان کی عزت وعظمت، اربوں کھربوں ڈالر سے کہیں زیادہ عزیز تھی۔نوازشریف نے کہاکہ آئین شکنی کرنے اور اپنا مقدس حلف توڑ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے ڈکٹیٹر کا محاسبہ کرنا، آئین اور جمہوریت ہی کا نہیں خود فوج کے وقار وتقدس کا بھی تقاضا ہے ۔ جب ایک یا دو چار جرنیل، جمہوری حکومت کا تختہ الٹتے ، آئین توڑتے اور خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو فوج کے ادارے کی آبرو پر بھی آنچ آتی ہے ۔ اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، عوامی سطح پر اس کے احترام پر منفی اثر پڑتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی ساکھ مجروح ہوتی ہے ۔انہی محرکات کے پیش نظر پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانا ضروری خیال کیا گیا۔اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف جھوٹے ، بے بنیاد، من گھڑت اور خودساختہ مقدمات کی وجہ یہ ہے کہ میں نے سر جھکا کے نوکری کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے مشرف کے خلاف مقدمہ نہ بنانے سے انکار کر دیا۔ میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا۔ میں نے خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی،میں اس سب کچھ کو اپنے منصب کا دستوری تقاضا سمجھتا تھا لیکن اس سے غالباً یہ تاثر لیا گیاکہ میرا وجود کچھ معاملات میں رکاوٹ بن رہا ہے ، اس لئے مجھے منصب سے ہٹانا، پارٹی سے ہٹانا، عمر بھر کیلئے نااہل قرار دے ڈالنا اور سیاست کے عمل سے خارج کر دینا ہی واحد حل سمجھا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب تک ریفرنسز کی حقیقت آپ پر کھل چکی ہو گی۔ استغا ثہ کا کوئی گواہ میرے خلاف اپنے الزامات کا کوئی اد نیٰ سا ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ استغاثہ کے گواہوں نے بھی عملاً میرے موقف کی تصدیق کی ہے ۔ پاناما پیپرز میں دنیا کے کئی ممالک کے ہزاروں افراد کے نام آئے ہیں۔ان میں حکمران بھی تھے اور سیاسی لیڈر بھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ساری دنیا میں ان پیپرز کی بنیاد پر کتنے افراد کے خلاف مقدمے بنے ، کتنے افراد کو سزائیں ملیں، کتنے وزرائے اعظم یا صدور کو معزول کیا گیا اور کتنے عمر بھر کیلئے نااہل قرار پائے ۔ پاناما کے نام پر یہ سب کچھ صرف ایک ایسے شخص کیخلاف ہوا جس کا پاناما میں نام تک نہ تھا۔اس شخص کا نام نوازشریف ہے چونکہ پاکستان کے عوام اس سے محبت کرتے ہیں، اسے بار بار ووٹ دیتے ہیں، اسے پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاتے ہیں اس لئے وہ ایک نامطلوب شخص قرار پایا۔اسے کبھی اپنی آئینی میعاد پوری نہیں کرنے دی گئی اسے سبق سکھانے کیلئے قید کیا گیا۔ کال کوٹھڑیوں میں ڈالا گیا، اُسے ہائی جیکر قرار دے کر عمر قید کی سزا دی گئی، خطرناک مجرموں کی طرح اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا۔اس کی ہرممکن تذلیل کی گئی پھراس ملک کو اس کے شر سے بچانے کیلئے جلاوطن کردیا گیا۔ اس کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں۔ اس کے موروثی گھروں پر قبضہ جما لیا گیا، وہ ساری پابندیاں توڑ کر وطن آیا تو ہوائی اڈے ہی سے ایک بار پھر ملک بدر کر دیا گیا۔نوازشریف نے کہا کہ کیا آج سے 19 سال قبل یہ سب کچھ ’’پاناما‘‘ کی وجہ سے ہو رہا تھا؟ کیا میرے ساتھ یہ سلوک لندن فلیٹس کی وجہ سے کیا جارہا تھا؟ نہیں ،انیس بیس سال پہلے بھی میرا قصور وہی تھا جو آج ہے ۔ نہ اس وقت کسی پاناما کا وجود تھا نہ آج کسی پاناما کا وجود ہے ۔اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق حقیقی جمہوریت کی بات کررہا تھا، آج بھی یہی کررہا ہوں۔ اس وقت بھی میرا کہنا یہ تھا کہ داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ ڈور منتخب عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے ، آج بھی میں یہی کہتا ہوں کہ فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ہائی جیکر کہیں یا کچھ اور، سسیلین مافیا کہیں یا گاڈفادر، وطن دشمن کہیں یا غدار، مجھے کسی نام، کسی لقب سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ میری صداقت اور امانت پر سوال اٹھائیں، مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا۔میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور اس مٹی کا ایک ایک ذرّہ مجھے اپنی جان سے بھی پیارا ہے ۔میرے بزرگوں نے اس پاکستان کیلئے ہجرت کی اور لاکھوں دوسرے مسلمانوں کی طرح اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے ۔کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا میں اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں۔ میں نے عوام کے اعتماد کو ہمیشہ ایک اعزاز بھی سمجھا اور بہت بڑا امتحان بھی۔میں نے اس ملک اور عوام کی حالت بدلنے کیلئے جو کچھ کیا،اسے اللہ کی خصوصی عنایت سمجھتا ہوں۔ آج پاکستان میں موٹرویز اور شاہرا ہو ں کا جال بچھا ہے ، پشاور سے کراچی تک موٹروے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے میں اللہ کے حضور احساس تشکر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ 5 سال میں ہماری حکومت نے جتنے کام کئے ان کی مثال گزشتہ 65 سالوں میں نہیں ملتی، سی پیک کا منصوبہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ایک ابھرتے ہوئے پاکستان کی نوید بن رہے ہیں۔شورش زدہ بلوچستان کو ہم نے امن دیا، بوری بند لاشوں، بھتوں اور ہڑتالوں والے کراچی کو بدامنی سے نکال کر روشنیوں اور رونقوں کی طرف واپس لائے ، 19 سال بعد اس ملک میں مردم شماری کرائی، فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اصلاحات کیں۔زراعت پیشہ لوگوں کو مثالی مراعات دیں، نوجوانوں کیلئے خودروزگاری کے مواقع عام کئے ،اعلیٰ تعلیم کیلئے بھاری وظائف کی سکیمیں شروع کیں،صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولتوں تک رسائی دی،بجلی کی پیداوار میں 10ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا، دہشتگردی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور اس پر کاری ضرب لگائی۔خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی،اقوام متحدہ میں کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کیخلاف بھرپور آواز اٹھائی،پاکستان کے بارے میں اس کے جارحانہ اور سخت گیر رویے سے عالمی رہنمائوں کو آگاہ کیا،افغانستان سے معاملات بہتر بنانے کی کوشش کی،عالمی طاقتوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی،میں اللہ کے فضل وکرم سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں نے اپنی قوم کو وہ پاکستان دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں 2013 کے پاکستان سے زیادہ روشن، زیادہ مستحکم اور زیادہ توانا تھا۔نوازشریف نے پریس کانفرنس میں کہاکہ یہ اس ملک کے دانشوروں اور مبصرین نے دیکھنا ہے کہ 28 جولائی 2017 کے فیصلے نے اس پاکستان کو کیا دیا؟ اس ملک کے عوام کو کیا دیا؟ معیشت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کتنا نقصان پہنچا؟ جمہوری عمل اور حکومتی کارکردگی پر کیا اثرات ڈالے ۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کو کتنی ہوا دی؟ اُن عوام کے دلوں کو کس قدر زخمی کیا جو کئی برس بعد ایک ابھرتا ہوا، ترقی کرتا ہوا اور آگے بڑھتا ہوا پاکستان دیکھ رہے تھے ، ممکن ہے مجھے حکومت سے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے سے کچھ لوگوں کی تسکین ہو گئی ہو، لیکن کوئی بتا سکتا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت، پاکستان کے آئینی نظام اور پاکستان کے احترام و وقار کو کیا ملا؟ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کتنی بہتر ہوئی اور سب سے بڑا سوال یہ کہ اس فیصلے سے خود پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کے نظام قانون وانصاف کو کیا ملا؟جس طرح 2013 کے پاکستان اور جولائی 2017 تک کے پاکستان کا موازنہ کیا جانا چاہئے اسی طرح 28 جولائی 2017 یعنی عدالتی فیصلے کے دن اور اس کے بعد کے 10 مہینوں کا جائزہ بھی ضرور لینا چاہیے ، یقینا ًان 10 مہینوں نے نہ صرف آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے قدموں میں زنجیریں ڈال دیں بلکہ کئی شعبوں میں اسے پیچھے بھی دھکیل دیا۔ان 10 مہینوں میں پیدا ہونے والے ماحول سے فائدہ اٹھاکر بلوچستان میں حکومت کا تختہ الٹ کر ’’حقیقی جمہوریت‘‘ قائم کی گئی اور پھر پارلیمنٹ کے منظور کردہ ایک قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مجھے پارٹی سربراہی سے فارغ کردیا گیا۔اسی فیصلے کی آڑ لے کر پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کیلئے ہمارے امیدواروں کو شیر کے نشان سے محروم کرکے بے چہرہ کردیا گیا۔ کیا پاکستان ہی نہیں،دنیا کی تاریخ میں بھی کوئی ایسی نظیر ملتی ہے ؟ اسی فیصلے کی بنیاد پر آپ کی عدالت میں یہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ میں ان ریفرنسز میں 70 سے زائد پیشیاں بھگت چکا ہوں۔ کیا پاکستان میں بڑے سے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے والا کوئی ایک بھی ایسا شخص ہے جس نے اتنی پیشیاں بھگتی ہوں؟نواز شریف نے کہا کہ 28 جولائی، 2017 کے فیصلے پر عوامی ردِعمل بھی آچکا ہے ، ماہرین قانون کی رائے بھی اور عالمی مبصرین کے تبصرے بھی۔ مجھے اس پر کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن میں صرف ریکارڈ پر لانے کی خاطر ایسے چند سوالات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں جو میں نے اگست 2017 میں آل پاکستان لائرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اٹھائے تھے ۔ سوال یہ تھے کہ: 1۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جس پٹیشن یا درخواست کو دوبار لغو، فضول اور ناکارہ قرار دیا گیا ہو وہ اچانک معتبر ہو جائے ؟2۔کیا کبھی اس طرح کے معاملات کی چھان بین کیلئے جے آئی ٹی بنی ہے ؟3۔کیا کبھی اس طرح کے معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیز کو جے آئی ٹی کا حصہ بنایا گیا؟4۔ کیا کبھی جے آئی ٹی کے ارکان کے انتخاب کیلئے خفیہ طورپر واٹس ایپ کالز کی گئیں اور مخصوص افراد کو اس میں ڈالنے کیلئے دبائو ڈالا گیا؟5۔ کیا آج تک سپریم کورٹ کے کسی بینچ نے جے آئی ٹی کے کام کی نگرانی کی ہے ؟6۔کیا کسی بھی پٹیشنر نے اپنی پٹیشن میں کسی دبئی کمپنی اور میرے اقامے کی بنیاد پر مجھے نااہل قرار دینے کی درخواست کی تھی؟7۔کیا کوئی عدالت ملک کے واضح قانون اور ضابطوں کی موجودگی اور کسی لفظ کی قانونی تشریح ہوتے ہوئے اس لفظ کی من مانی تعبیر کیلئے کسی گمنام ڈکشنری کا سہارا لے سکتی ہے ؟8۔کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی مقدمے میں کبھی دو، کبھی تین اور کبھی پانچ ججوں کے کئی فیصلے سامنے آئیں؟9۔کیا اُن دو ججوں کو اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ ہونا چاہئے تھا جو پہلے ہی میرے خلاف فیصلہ دے چکے تھے ؟10۔کیا پوری عدالتی تاریخ میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو کسی مخصوص مقدمے میں نیب کورٹ کا مانیٹر بنایا گیا ہے ؟ اور جج بھی وہ جو میرے خلاف فیصلہ دے چکا ہے ۔نوازشریف نے کہاکہ یہ وہ چند سوالات جو میں نے اٹھائے تھے ۔ مجھے آج تک ان کا جواب نہیں ملا۔یقیناً آپ کے پاس بھی ان کا کوئی جواب نہیں، لیکن میں یہ سوالات اس لئے دوہرا رہا ہوں کہ آپ ان پر غور ضرور کریں اور سوچیں کہ یہ پُراسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے ۔جب فیصلے پہلے ہو جائیں اور اُن کے جواز کیلئے حیلے بہانے بعد میں تراشے جائیں تو ایسی ہی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ مائنس ون کا اصول طے پاجائے تو اقامہ جیسا بہانہ ہی کافی ہوتا ہے ۔میں اس فیصلے کے حوالے سے مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن اپنی یہ بات ضرور تاریخ کے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس کا شمار بھی ہماری عدالتی تاریخ کے انہی فیصلوں میں ہو رہا ہے جو نہ پاکستان کیلئے باعث فخر ہیں، نہ ہمارے نظام قانون وانصاف کیلئے ، نہ عدلیہ کی عزت ووقار کیلئے اور نہ اُن منصفوں کیلئے جنہوں نے نظریہ ضرورت ہی کی بنیاد پر نہ جانے کس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ایک خیالی تنخواہ کو اثاثہ قرار دینے کا عجوبہ روزگار نظریہ ایجاد کر لیا۔ اس فیصلے میں شروع سے آخر تک بدعنوانی تو کسی کو نظر نہیں آئی، ناانصافی ہر ایک کو نظر آرہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں اور بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے ان مقدمات میں کیوں الجھایا گیا لیکن قوم وملک کا مفاد مجھے اس سے زیادہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دے رہا۔آپ اگر پاکستان کی تاریخ سے واقف ہیں تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ ایسے مقدمات کیوں بنتے ہیں؟ کن لوگوں پر بنتے ہیں؟ اور ان لوگوں کا اصل گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نواز شریف نے کہا کہ ان کا اصل گناہ صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت اُنہیں چاہتی ہے ، اُن پر اعتماد کرتی ہے انہیں قیادت کے منصب پر بٹھاتی ہے ، وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ آئین اور قانون کے تحت عوام کی حاکمیت قائم کرنا چاہتے ہیں وہ ملکی پالیسیاں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ میں بھی اسی راستے کا ایک مسافر ہوں۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ عوام کی مرضی کا احترام کیا جائے ان کے ووٹ کی عزت کی جائے ، ان کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے ، آئین کا احترام کیا جائے ، تمام ادارے اپنی طے کردہ حدود میں رہیں، پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندے ترتیب دیں کیونکہ انہی کو عوام کی عدالت میں جانا اور احتساب کیلئے پیش ہونا ہوتا ہے ۔نواز شریف نے کہا کہ یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ۔ اس طرح کے جرائم اور اس طرح کے مجرم ہماری تاریخ میں جابجا ملتے ہیں۔ کاش ایسا ممکن ہوتا کہ آپ نوابزادہ لیاقت علی خان کی روح کو بلاکر یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کو کیوں شہید کردیا گیا؟ کاش آپ ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو طلب کرکے یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کو کیوں پھانسی پر چڑھا دیا گیا؟ کاش آپ بے نظیر بھٹو کی روح کو اس عدالت میں بلاکر پوچھ سکتے کہ بی بی آپ کو کیوں قتل کردیا گیا؟ کاش آپ مقبول منتخب وزرائے اعظم کو بلاکر یہ سوال پوچھ سکتے کہ آپ میں سے کوئی ایک بھی اپنی آئینی مدت کیوں پوری نہیں کر سکا؟ کاش آپ اس دنیا سے گزر جانے والے اورایک زندہ جرنیل سے بھی پوچھ سکتے کہ آپ میں ایسی کیا خوبی تھی کہ آپ نے دس دس سال حکمرانی کی؟ اور کاش آپ اپنے سینئر جج صاحبان کو بھی بلا کے پوچھ سکتے کہ آپ نے ہر آئین شکنی اور ہر غداری کو جواز کیوں بخشا؟ اپنے حلف سے بے وفائی کرکے آمروں کے ہاتھ پر بیعت کیوں کی؟ میں نے اپنی داستان کا مختصر سا حصہ آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اُن باتوں کا تذکرہ کردیا ہے جنہیں میرے مخالفین میرا جرم خیال کرتے ہیں اور جنہیں میں پاکستان کی سلامتی،عوام کی فلاح وبہبود اور اپنی حب الوطنی کا تقاضا سمجھتا ہوں۔ آپ اب تک جان چکے ہیں کہ کسی بھی کمپنی، جائیداد یا فیکٹری سے میرا ذرہ بھر تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ میں ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دوہراتا ہوں کہ مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات لغو اور بے بنیاد ہیں۔ میں ریفرنسز کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔بلاشبہ مجھے اور ہم میں سے ہر ایک انسان کو ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے جہاں کوئی جھوٹ چلے گا نہ فریب۔سب سے بڑی عدالت اللہ ہی کی ہے ۔ میں نے پوری سچائی اور دیانت کے ساتھ اپنا مقدمہ آپکی عدالت میں پیش کر دیا ہے اور انصاف کا منتظر ہوں۔مجھے یقین ہے کہ مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں گے کہ آپ کو بھی ایک دن اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کرنا ہے ۔ ادھربدھ کی شام اٹک میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ آج اٹک پنجاب کا بہترین ضلع بن گیا ہے ۔ نیا کے پی بنانے والو اٹک کو تو دیکھ لو ۔ پنجاب کی ترقی دیکھو ۔ تم نے کے پی میں لوگوں کو دھوکہ دیا ۔ یہ کہتے تھے کہ نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالیں گے تویہ ختم ہوجائے گا، یہ کہتے تھے کہ نوازشریف کو تاحیات نااہل کریں گے تو یہ زیرو ہوجائے گا، ختم ہوجائے گا،مجھے عہدے سے نکال کر پاکستان کی ترقی کو روکا گیا، ان لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا جو 20،20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کرکے چلے گئے ۔ہم بجلی بھی لے کر آئے اور سستی بجلی لائے ۔ آج لوڈ شیدنگ کہاں ہے ،سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اٹک جیل میں مجھے بند کر دیا گیا ۔ اٹک والوں سے میرا جیل کے دور کا رشتہ ہے ۔اٹک قلعے اور کراچی جیل میں 14 ماہ تک بند کر دیا گیا ۔ مجھ پر الزام ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس لیے نکال دو ۔ میں عوام کی خدمت کر رہا تھا ۔ نواز شریف نے پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کیا ۔ آج بھی مجھ پر کوئی کرپشن کا الزام نہیں ۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ اگر آپ چاہتے ہو کہ میری نااہلی ختم ہو تو تم مجھے آئندہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیں تاکہ پارلیمان کے ذریعے میری نااہلی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ، خطاب کے دوران نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی لگوائے ۔اس سے قبل اپنے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے آج مجھے کیوں نکالا کا جواب دے دیا، ان کیخلاف ایک پائی کی کرپشن اور منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہو سکی۔ آپ ووٹ دیتے ہیں کچھ لوگ سازش کر کے نکال دیتے ہیں۔ نواز شریف نے آج بتا دیا کیوں نکالا اور کس نے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا پاناما میں نام نہیں اور 70 سے زائد پیشیاں بھگت چکے ہیں، جن کا پاناما میں نام آیا ان کو کسی نے عدالت میں نہیں بلایا۔ نواز شریف کیخلاف کرپشن کی ایک پائی اور منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہوئی لیکن سابق وزیرِاعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں عہدے سے نکالنے کے بعد پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا۔ آج میں اٹھارہ سال بعد اٹک آئی ہوں۔ اٹک قلعے میں مشرف نے نواز شریف کو قید کیا ہوا تھا جہاں ہمیں ان سے ملاقات کیلئے دو، دو گھنٹے انتظار کرایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اٹھارہ سال پہلے عوام سے محبت کرنے کی سزا بھگت رہا تھا لیکن تب بھی ووٹ کی پرچی کو پاؤں تلے روندنے نہیں دیا۔ انہیں عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔این اے 120 میں اللہ نے نواز شریف کو ہر مخالفت کے باوجود فتح دی ۔ این اے 120 میں 40 لوگ میری والدہ کے خلاف کھڑے کر دئیے گئے ۔ پولنگ کے وقت جو ن لیگ کی پر چی لے کر آتا اسے چکر لگوائے جاتے ۔