سوئی سدرن گیس چوری و ضیاع پر قابو پانے میں مکمل ناکام
ایس ایس جی سی کے نان آپریشنل اخراجات میں بھی کمی نہ ہوسکی،من پسند افراد کو نوازا جانے لگا ناکامی کا بوجھ عوام پرڈالنے کی تیاری،اوگرا کی نرخ میں185فیصدریکارڈاضافے کی سفارش
کراچی (رپورٹ:مظہر علی رضا) گیس چوری روکنے میں ناکام گیس کمپنیوں کی مالی مشکلات کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کے نرخوں میں 185فیصد تک ریکارڈ اضافے کی سفارشات تیار کر لی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی(ایس ایس جی سی)گیس چوری و ضیاع (یو ایف جی)کی شرح پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے ، جب کہ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سسٹم میں یو ایف جی کی شرح میں کسی حد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،سوئی سدرن گیس کمپنی سندھ و بلوچستان میں گیس کی ترسیل کی ذمہ دار ہے اور ایک اندازے کے مطابق ایس ایس جی سی کے سسٹم میں 1200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس موجود ہے ۔ تین نومبر 2017 ء کو قومی اسمبلی میں بتایا گیا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی یو ایف جی کی شرح جولائی2013 ء میں 8.3 فیصد تھی جو کہ جولائی 2017 ء میں بڑھ کر 13 فیصد سے زائد کی شرح پر جا پہنچی، جب کہ سوئی ناردرن گیس کمپنی کی یو ایف جی کی شرح جولائی2013 ء میں 11.17 فیصد تھی جو کہ جولائی 2017 ء میں تین فیصد کی کمی سے 8فیصد کی شرح پر آ پہنچی۔ سوئی سدرن گیس کمپنی اپنے نان آپریشنل اخراجات میں بھی کمی نہیں لا سکی ہے ۔ کمپنی ترجمان کے مطابق اس وقت ایس ایس جی سی میں یو ایف جی کی شرح 13.62 فیصد کی سطح پر ہے ، جب کہ اوگرا نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے لیے یو ایف جی کی شرح7فیصد مقرر کر رکھی ہے ۔ دنیا بھر میں گیس کمپنیوں میں یو ایف جی کی اوسط شرح محض4فیصد ہے ،تاہم پاکستان میں گیس کمپنیوں میں یو ایف جی کی شرح دُہرا ہندسہ عبور کر چکی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی سی کمپنی کے سی ایس آر فنڈز سے بھی من پسند افراد کو نوازا جا رہا ہے ، جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے ، جب کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹرز اور اعلیٰ افسران اب بھی کرپشن کے مقدمے بھگت رہے ہیں۔ گیس کمپنیاں اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے گیس کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کرتی ہیں، جب کہ گیس چوری و ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے ۔ سفارشات کے مطابق سب سے زیادہ اضافہ گھریلو صارفین کے لیے تجویز کیا گیا ہے ، جب کہ صنعتوں، کمرشل اور سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے ۔ دوسری جانب تاجروں و صنعت کاروں نے گیس کے نرخوں میں مجوزہ اضافے کی تجویز یکسرمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت بھی پیداواری لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے ، پاکستان میں اس وقت گیس کا ٹیرف 6.59 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے ، جب کہ بنگلہ دیش میں گیس کے نرخ3.22 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو اور بھارت میں 4.66ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہیں، اسی طرح پاکستان میں بجلی کے نرخ 0.10 ڈالر فی کلو واٹ ہیں، جب کہ بنگلہ دیش اور بھارت میں 0.09 ڈالرفی کلو واٹ ہیں، اسی طرح پاکستان میں پانی کے نرخ 0.50 ڈالر سے لے کر 2.00 ڈالر فی ہزار گیلن ہیں،پاکستان میں اس وقت لیبر کی اجرت123.45 ڈالر ماہانہ ہے ، جب کہ بنگلہ دیش میں لیبر کی اجرت 65ڈالر ماہانہ اور بھارت میں 140 ڈالر ماہانہ ہے ۔