افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر فائرنگ سے 9 افراد شہید ہوئے، فہرست جاری

باجوڑ: (دنیا نیوز) ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے افغان طالبان کی جانب سے باجوڑ کی سول آبادی پر فائرنگ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے ناموں کی فہرست جاری کر دی۔

فہرست کے مطابق افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر فائرنگ سے 9 افراد شہید ہوئے جن میں 3 عورتیں اور 6 معصوم بچے شامل ہیں۔

مارچ اور اپریل 2026 کے دوران افغانستان کی جانب سے باجوڑ کے مختلف سرحدی علاقوں، بالخصوص ماموند اور سلارزئی میں مارٹر گولے فائر کئے گئے۔

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مکمل ناموں کے ساتھ فہرست کا جاری کرنا ، باجوڑ میں افغان طالبان کے فائر سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔

ہر واقعے کے بعد ان عورتوں اور بچوں کی مقامی افراد کی جانب سے جاری کردہ تصاویر پہلے ہی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی گولہ باری، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی

پاکستان کی بہادر فوج نے اس فائرنگ کے جواب میں پیشہ ورانہ مہارت سے صرف اور صرف افغان طالبان کی فوجی پوسٹوں اور گن پوزیشن کو نشانہ بنایا اور افغانستان کی سول آبادی کو کوئی نقصان پہنچنے نہیں دیا۔

افغان طالبان کی جانب سے عورتوں اور بچوں کو بار بار نشانہ بنانا ان کی بربریت کی نشان دہی کرتا ہے۔

غضب للحق کے تحت پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی بربریت کا مسلسل جواب دیا گیا جس نے نہ صرف افغان طالبان کی لیڈرشپ کو حواس باختہ کر دیا بلکہ ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔

باجوڑ کی مقامی آبادی نے افغان فورسز کی اس بلااشتعال گولہ باری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خیبر، کرم اور وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں