امریکا اپنا رویہ بدلے، سفارتکاری کا راستہ دوبارہ اختیار کرنے کیلئے تیار ہیں: ایرانی صدر

تہران: (دنیا نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے رویے میں تبدیلی کے بعد تہران سفارتکاری کا راستہ دوبارہ اختیار کرنے کیلئے تیار ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آج جاپانی وزیراعظم سنائیتاکاایچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ خلیج میں عدم استحکام کی وجہ امریکہ اور اسرائیل ہیں، ایرانی جہازوں کے خلاف امریکی بحری قزاقی کو فوری طور پر روکا جائے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

اس سے قبل قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر روشن ہوگا، تہران اور خلیجی ہمسایہ ممالک کا مقدر مشترکہ ہے، خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

انہوں نے حریف ممالک کو خطے سے دور رکھنے کے فیصلے کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ ایران اس اسٹریٹجک سمندری راستے کی حفاظت کو اپنی قومی سلامتی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تہران بارہا اس مؤقف کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ خطے میں بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی یا کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے منافی ہے اور یہ ناکام ہوں گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد تقریباً حاصل کرچکے ہیں، ایران کی ناکہ بندی جینیئس فیصلہ ہے، ایران کو بس کہنا ہوگا کہ وہ ہار گئے ہیں، ایران کے ساتھ ٹیلیفون کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں