بلٹ نہیں بیلٹ سے نظام مصطفیٰ نافذ کریں گے : متحدہ مجلس عمل
25جولائی کا الیکشن غیرت اور بے غیرتی، مسجد اور ڈانس ، کرپشن اور دیانت کے درمیان مقابلہ:فضل الرحمن،سراج الحق عوام ووٹ کے ذریعے ماضی کے حکمرانوں سے انتقام لیں، اویس نورانی، عبدالغفور حیدری، خالد سومرو و دیگر کا جلسے سے خطاب
کراچی(سٹاف رپورٹر)متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنائیں گے ،ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد جاری رہے گی ، حکومت ملی تو سودی نظام کا خاتمہ کریں گے ، ہم وہ نظام چاہتے ہیں جس میں چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کے بجائے قرآن ہو ، 2018کا الیکشن غیرت اور بے غیرتی، مسجد اور ڈانس ، کرپشن اور دیانت کے درمیان مقابلہ ہے ، جو کتاب کو ووٹ دے گا وہ نظام مصطفیؐ کو ووٹ دے گا۔انقلاب اور تبدیلی صرف کتاب ہی لاسکتی ہے ۔ اگر ایم ایم اے کے مینڈیٹ کو چور ی کیا گیا تو دمادم مست قلندرہوگا۔ان خیالا ت کا اظہار متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن ، سینئر نائب صدر سینیٹر سراج الحق ، مرکزی رہنما اویس نورانی ، عارف حسین واحدی،غفور حیدری اوردیگر نے اتوار کو باغ جناح میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کے دورن کیا ۔ اس موقع پرایم ایم اے کے قومی و صوبائی حلقوں سے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار اور دیگر رہنما ؤں نے بھی خطاب کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان 70برس سے مذہب بیزار طبقے کے قبضے میں ہے ، عوام کو ایک بار پھر موقع مل رہا ہے کہ وہ اپنی اور ملک کی بہتری کے لیے ایسی قیادت کو ووٹ دیں جو ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے اور عوام کو مسائل سے نجات دلائے ۔ ماضی میں ملک پر مسلط رہنے والے عوام کو کچھ نہیں د ے سکے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو کبھی منظور نہیں کیا گیا ۔ آج ملک میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ملک قرضوں میں جکڑا ہواہے ، ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے مطابق ہمارا بجٹ بنتا ہے ۔مجلس عمل کی جب خیبر پختونخوا میں حکمرانی تھی تو صوبے پر 80ارب روپے کا قرضہ تھا لیکن آج وہ صوبہ 350ارب کا مقروض ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں لسانیت ، علاقائیت اور قومیت کے نام پر عوام کو لڑایا گیا اور لوگوں کا قتل عام کیا گیا ۔ ملکی سیاست سے لسانیت، قومیت اور تعصبات کو ختم ہونا چاہئے ۔ مجلس عمل کے سینئر نائب صدراور امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم پاکستان کو اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں ، خون کے آخری قطرے تک ملک میں شریعت محمدی ؐ کے نفاذ کی جدوجہد جاری رہے گی ۔ ہمیں حکومت ملی تو شریعت نافذ کریں گے ، عشر وزکوٰۃ کا نظام لائیں گے ، سودی نظام کا خاتمہ کریں گے ۔آج ملک و قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امریکا اور مغرب کی طرف دیکھنے والی نہ ہو بلکہ مکہ اور مدینہ والی قیادت ہو، جو جرات مندی سے حالات کا مقابلہ کرسکے ۔عوام 25جولائی کو اپنے ووٹ کی طاقت سے ماضی کے حکمرانوں سے انتقام لیں اور ان کا احتساب کریں ۔حکمرانوں نے ملک و قوم کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا مقروض بنادیا ہے ۔قومی بجٹ کا بڑا حصہ سودی قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں جس کا نام پاناما لیکس میں ہو ، جو قرضے ہڑپ کرنے والے ہوں ۔ ہم دفاع کے بعد سب سے زیادہ تعلیم پرخرچ کریں گے ، تعلیم کو مفت اور عام کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کو عزت تب ملے گی جب شریعت کو عزت ملے گی، اسلام کو عزت ملے گی ،خواتین اور بچوں کو عزت ملے گی ۔ جب کراچی میں لاشیں گررہی تھیں تو یہ لوگ کہا ں تھے جو آج الیکشن لڑنے آگئے ہیں ۔ جبر و تشدد اور خوف و دہشت کے ماحول میں ہم ہی تھے جو امن و محبت کی بات کررہے تھے ۔جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ اور مجلس عمل کے نائب صدر علامہ صاحبزادہ اویس نورانی نے کہاکہ 26جولائی کا سورج مجلس عمل کی کامیابی کا پیغام لے کر طلوع ہوگا ۔جنرل پرویز مشرف نے امریکا کو پاکستان کے اندر کھلی آزادی دے کر ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ۔کراچی میں ایم کیوا یم کی سرپرستی کی گئی اور عوام کو دہشت گردوں ، بھتہ خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ۔ 26سال تک شہر کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ۔ وقت آگیا ہے کہ حالات تبدیل کریں، اب بلٹ سے نہیں بیلٹ سے فیصلہ ہوگا اور کراچی کے عوام کتاب کے نشان پر مہر لگاکر مجلس عمل کو کامیاب بنائیں گے ۔مرکزی سکریٹری جنرل اسلامی تحریک عارف حسین واحدی نے کہاکہ مجلس عمل کے آج جلسے نے سیکولر اور لبرل قوتوں کو مایوس اور ناامید کردیا ہے ،وطن عزیز کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے ۔ مجلس عمل کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ آج کراچی کے عوام نے مجلس عمل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کردیا ہے ۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ علی محمد ابو تراب نے کہا کہ ہمارا مقصد اور منشور ملک میں نظام مصطفی کا قیام ہے ، 25جولائی کا دن کتاب کی فتح کا دن ہوگا ، مجلس عمل سند ھ کے صدر مولانا راشد سومرو نے کہا کہ عوام 25جولائی کو کتاب کے نشان پر مہر لگاکر سندھ کو جاگیرداروں اور وڈیروں سے نجات دلائیں ۔ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے کہا کہ کراچی نے آج 25جولائی کا فیصلہ دے دیا ہے اور یہ فیصلہ کراچی کی تعمیر و ترقی کا فیصلہ ہے ۔متحدہ مجلس عمل کراچی کے صدر حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ملک میں خوف کی فضا کے باوجود تاریخی جلسے نے ثابت کردیا ہے کہ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنایاجائے گا ۔25جولائی کا دن شہر سے تاریکیوں کے خاتمے کا دن ثابت ہوگا ۔ہم ہی کراچی کے عوام کو بجلی ، پانی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر مسائل سے نجات دلائیں گے ۔اسلامی تحریک سندھ کے صدر اور مجلس عمل کے صوبائی جنرل سکریٹری مولانا ناظر عباس نقوی نے کہا کہ عوام بم دھماکوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے بلکہ 25جولائی کو سروں پر کفن باندھ کر گھروں سے نکلیں گے اور ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ کر کے دم لیں گے ۔ مجلس عمل عوام کی حقیقی ترجمان ہے ۔جلسے سے ڈاکٹر اسامہ رضی ، مولانا محمد یوسف قصوری ،اسد اللہ بھٹو و دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ دریں اثنا سینیٹرسراج الحق نے حیدرآباد میں جلسے اورریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باری باری حکومت کرنے والادورگیا،اب عوام راج کرینگے ۔پی پی اورایم کیوایم نے بارباراقتدارملنے کے باوجودعوام کوکچھ نہیں دیا۔ حیدرآبادکے لوگ آج بھی جوہڑ کاگندا پانی پینے پرمجبور اور 30سال سے یونی ورسٹی کامطالبہ کررہے ہیں ۔1983کاحیدرآبادآج کے حیدرآبادسے بہترتھا۔ اہل حیدرآبادنے محبتیں دے کر ثابت کردیاہے کہ یہاں سے متحدہ مجلس عمل کے نمائندے کامیاب ہونگے ۔