ریکارڈ بارش،لاہور میں سیلاب کا منظر،9جاں بحق:دریاؤں کے بپھرنے کا خدشہ،پنجاب میں الرٹ جاری

ریکارڈ بارش،لاہور  میں  سیلاب کا منظر،9جاں  بحق:دریاؤں  کے  بپھرنے  کا  خدشہ،پنجاب  میں  الرٹ  جاری

لاہور ،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر سے ،سٹی رپورٹر سے ،سیاسی رپورٹر سے ،سپیشل کرائم رپورٹر، سیاسی رپورٹر،نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارالحکومت لاہور میں موسلا دھار بارش کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، شہر سیلاب کا منظرپیش کرنے لگا۔

چھت گرنے ،کرنٹ اور دیگر واقعات میں 9افراد جاں بحق ہوگئے ،پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی بارش، قصور، شرقپور،لیہ 5، پختونخوا میں 3افراد جاں سے گئے ، شہری گھروں میں محصور، درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ، کئی فیڈر ٹرپ ،بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا، اگلے 3روز مزید بارشوں کی پیش گوئی، دریاؤں کے بپھرنے کا خدشہ ، پنجاب میں الرٹ جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے بیشتر علاقے شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہیں، اِس غیرمعمولی صورت حال کی وجہ بارشیں برسانے والے دوسسٹمز کا اشتراک بنا ہے جن میں سے ایک نظام بحیرہ عرب اور دوسرا سسٹم مغربی ہواؤں کے باعث بنا ہے ،ایسی صورت حال کے باعث موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ 8 جولائی تک جاری رہے گا جس کے باعث ملک کے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ برقرار رہے گا،دوسری طرف 8 سے 10جولائی کے دوران دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ بھی ظاہر کردیا گیا ہے ، دریائے ستلج اور دریائے راوی کے کیچ منٹ ایریاز میں بھی شدید بارشیں ہورہی ہیں جس کے باعث اِن سے ملحقہ سیلابی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے ، اوپر سے بھارت کی جانب سے بھی پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں ممکنہ سیلاب کا ہائی الرٹ جاری کر دیا،ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ 8 سے 10 جولائی کے دوران دریائے جہلم، ستلج، راوی اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے ، بھارت کی جانب سے راوی اور ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے ۔

پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنرز سمیت صوبائی محکمے فوری طور پر انتظامات مکمل کریں۔گزشتہ روز لاہور میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 10 گھنٹوں میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،شہر بھر کے درجن سے زائد علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی،سب سے زیادہ 291ملی میٹر بارش لکشمی چوک میں ریکارڈ کی گئی،شہر میں پہلا سپیل صبح 3:55 سے شروع ہوکر 8:50 تک اور دوسرا سپیل 9:20 سے شروع ہوکر 1:35 تک برستا رہا،سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا،شہر میں موسلادھار بارش کے باعث مختلف حادثات سے خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق، 3زخمی ہو گئے ۔مصری شاہ میں واقع گجا پیر دربار کے ساتھ کچی آبادی میں بارش کے دوران بوسیدہ گھر کی چھت گرنے کے نتیجے میں 45 سالہ نوازش اس کی بیوی 40 سالہ کلثوم بی بی اور8 سالہ بیٹا اسد علی ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے ،فیکٹری ایریا کے علاقے چونگی امر سدھو بوستان کالونی میں بجلی کے تار ٹوٹ کر گرنے سے موٹرسائیکل سوار 22سالہ عثمان جاں بحق ہوگیا، چونگی امرسدھو بازار میں نوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق جبکہ ایک نوجوان زخمی ہو گیا،کشمیری دروازہ سرکلر روڈ پر نامعلوم خاتون بارشی پانی سے گزرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئی،پاکستان منٹ باغبانپورہ میں 17 سالہ احتشام کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا،سنی پارک ٹھوکر نیاز بیگ میں 11 سالہ محمد ولی کھیلتے ہوئے بارشی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا،وحدت کالونی کے علاقے میں نجی ہسپتال کے باہر واٹر موٹر میں کرنٹ آنے سے مزمل نامی نوجوان جاں بحق ہوگیا،گوالمنڈی ریلوے روڈ کے علاقے میں دکان کی چھت گرنے سے 48 سالہ غلام علی 46 سالہ حفیظ زخمی ہوگئے ، ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے ،دو موریہ پل کے قریب مکان کی چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہوگئے ۔

بارش نے لاہور میں اربن فلڈنگ کی صورت حال پیدا کر دی، اندرون شہر، شمالی لاہور، وسطی لاہور اور ملحقہ آبادیاں زیر آب آگئیں، کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں ڈوب گئیں اور چلنے سے انکار کر دیا،نظام زندگی مفلوج اور کاروبار شدید متاثر ہوئے ،ہسپتال بھی ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے ،لاہور جنرل ہسپتال ،سر گنگارام ،میو اورجناح ہسپتال میں بارش کے پانی کے باعث طبی سہولیات متاثر ہوئیں، آپریش تھیٹر تک پانی جانے سے آپریشن متاثر ہوئے جبکہ مختلف وارڈ بھی پانی سے بھر گئیں، سب سے زیادہ پانی لاہور جنرل ہسپتال میں داخل ہوا،بعد ازاں تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ نے دوپہر 3بجے تک تمام ہسپتالوں سے پانی نکال دیا۔رنگ محل،گمٹی بازار بھاٹی گیٹ اور دہلی دروازہ کے علاقے ڈوب گئے ،رنگ محل اور گمٹی بازار میں دو فٹ سے زیادہ بارشی پانی جمع ہوگیا،تاجروں نے دکانیں بند کردیں، گلبرگ کی سڑکیں بھی تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، نور جہاں روڈ، حسین چوک، ایم ایم عالم روڈ بھی ڈوب گئے ،واسا کا شادباغ ڈسپوزل سٹیشن خود ڈوب گیا ،اس کے کنوئیں پانی سے بھرگئے ،جس کے باعث شمالی لاہور کے علاقے عامر روڈ، چوک ناخدا ، لوہا مارکیٹ وغیرہ زیر آب آگئے ، ہربنس پورہ انڈر پاس کے قریب نہر کا پانی بھی اوورفلو ہو کر سڑک پر آگیا، جس کے ساتھ چھوٹی مچھلیاں بھی سڑکوں پر تیرنے لگیں، ننھی مچھلیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، اقبال ٹائون میں کھاڑک ڈرین بھی اوورفلو ہوگئی، نیلم بلاک، گلشن بلاک ،رچنا بلاک میں گندا پانی داخل ہوگیا،گلشن راوی پی این ٹی کالونی میں نالے بھرنے سے پانی باہر آگیا،سڑکیں گندے پانی میں ڈوبی رہیں، 26 جون کو ہونے والی بارش میں گلشن راوی کینٹ ڈرین اوور فلو ہونے سے آبادی کی دیوار ٹوٹ گئی تھی،جسے مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیرکیا اور جو گزشتہ روز کی بارش میں دوبارہ ٹوٹ گئی،جس سے پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔سمن آباد کے رہائشی علاقے بھی پانی میں ڈوبے رہے ،حاجی کیمپ بوہڑ والا چوک میں بھی پانی کھڑا رہا، جزوی طور پر تعمیر ہونے والی حاجی کیمپ ڈرین بھی نکاسی آب میں ناکام رہی، ریلوے ہیڈ کوارٹر کو جانے والے راستے پانی میں ڈوبے رہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں اور مون سون کی وجہ سے شہر لاہور بارش کی زد میں ہے ، اس سے قبل رواں سال لاہور میں زیادہ سے زیادہ 256 ملی میٹر بارش 26 جون کو ہوئی،گزشتہ سال لاہور میں 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی،اس سے قبل 2018 میں لاہور میں 288 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی،گزشتہ تیس سالوں میں لاہور میں اتنے کم وقت میں اتنی بارش نہیں ہوئی،گزشتہ روز جیل روڈ 145، ایئرپورٹ 127، گلبرگ 208 ، اپرمال 192 ، مغلپورہ 215, تاجپورہ 249 ،نشتر ٹاؤن 277 ، چوک ناخدا 205 ،پانی والا تالاب 268 ،فرخ آباد 237 ،گلشن راوی 268 ،علامہ اقبال ٹائون 232 ، سمن آباد 178 ، جوہر ٹاؤن 260 اور قرطبہ چوک میں 270 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔بارش میں لیسکو کے 170 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے ، فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر تکنیکی خرابی کی وجہ سے متعدد علاقوں میں 16گھنٹے تک بجلی غائب رہی جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

ادھر پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی بارشوں سے تباہی ہوئی،قصور کے علاقہ پھولنگر میں بجلی کا تار ٹوٹ کر پانی میں گرنے کے باعث کرنٹ لگ کر نامعلوم موٹرسائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہوگیا،قصور کے ہی سرحدی گائوں سہجرا کا نوجوان محبوب آسمانی بجلی گرنے سے جاں بحق ہوگیا ،شرقپور شریف میں بارش ہوئی، گاؤں چک نمبر 19 کے گھر کی پانی کی موٹر میں کرنٹ آگیا جس سے 7 سالہ انصر کو کرنٹ لگا اسے بچاتے ہوئے 75سالہ دادابھی لپیٹ میں آگیا اور دونوں جاں بحق ہوگئے ۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق لیہ میں شدید بارشوں کے بعد ایک نوجوان ڈوبنے سے چل بسا۔ننکانہ صاحب میں بارش کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا ، منڈی بہائوالدین میں بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی،شکرگڑھ،نورکوٹ،کرتارپوراورگردونواح میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا،ادھرگجرات میں بارش کے باعث خنکی بڑھ گئی،متعدد فیڈر بند ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ،شرقپور شریف میں بھی بارش کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، چونیاں شہر اور اس کے مضافات میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی جبکہ شیخوپورہ شہر اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی۔ بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث چنیوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے دریا کنارے آباد دیہات اور بستیوں کے مکین پریشان ہو گئے ،کئی جگہ پر پانی فصلوں میں داخل ہوگیا، مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت احتیاطی تدابیر اپنانا شروع کردیں، ترجمان این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی مشینری و عملے کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردیں اور کہا ضلعی انتظامیہ ایمرجنسی میڈیکل عملہ کی موجودگی یقینی بنائے جبکہ سیاح و مسافر سفر سے قبل موسمی حالات سے با خبر رہیں،کسان و مویشی مالکان موسمی حالات کے پیش نظر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور متعلقہ ادارے سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقہ مکینوں کو پیشگی اطلاع فراہم کریں،دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل ہیں۔فیڈرل فلڈ کمیشن (ایف ایف سی) نے کہا ہے کہ دریائے چناب اور راوی کے نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے ۔رپورٹ کے مطابق 7 جولائی تک ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑی نالوں اور شمالی بلوچستان کے مقامی نالوں سمیت بنوں، کوہاٹ اور ڈی آئی خان ڈویژن میں چھوٹے دریائوں میں اچانک سیلاب کا امکان ہے ۔

بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون کی تیز لہریں 7000 فٹ کی بلندی تک پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں جو جاری رہنے کا امکان ہے ۔علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش اور درخت گرنے کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوگئے ،پی ڈی ایم اے پختونخوا کے مطابق 2 افراد کی اموات شانگلہ جبکہ ایک خاتون کی موت کرک میں ہوئی، بارش اور آندھی میں 8 افراد زخمی ہوئے اور 6 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مون سون کی گزشتہ شام اور رات کے وقت ہونے والی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش کا سلسلہ آئندہ 5 روز تک جاری رہنے کا امکان ہے ، شدید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کیں،محکمہ مو سمیات کے مطابق آئندہ تین روز کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا امکان ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے علاوہ ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ، 8 جولائی تک موسلادھار بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، گوجرانوالہ ،لاہور ، قصور، اوکاڑہ، کوہاٹ، پشاور، بنوں ، کرک اورڈی آئی خان کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈ نگ جبکہ مری،گلیات،کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے ۔ 6 سے 8 جولائی کے دوران موسلادھاربارش کے باعث ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی، بارکھان،ژوب ، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اورموسیٰ خیل کے پہاڑی علاقوں اور ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ جمعرات کے روز کشمیر، گلگت بلتستان ،خیبر پختونخوا ،اسلام آباد،خطہ پوٹھوہار ، پنجاب اورمشرقی/شما ل مشرقی بلوچستان میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ۔اس دوران پنجاب، اسلام آباد، کشمیر، خیبر پختونخوا اور شمال مشرقی بلوچستان میں چند مقامات پر موسلا دھار بارش کی توقع ہے ۔گزشتہ روز قصور 81، گوجرانولہ79،جہلم 53، سیالکوٹ (سٹی 45، ائیرپورٹ 37)، منگلا 42، چکوال 40، منڈی بہائوالدین39 ، نورپورتھل38، گجرات32، نارووال 31، کوٹ اددو26، حافظ آباد 18، مری 17، فیصل آباد10،راولپنڈی (شمس آباد 07، چکلالہ 01)، بھکر 06، جوہر آباد، سرگودھا 04،خانیوال 02،خیبر پختونخوا میں کاکول 33، مالم جبہ 28، ڈی آئی خان (سٹی 25 ائیر پورٹ 05)بالاکوٹ 20، دیر (لوئر 19، بالائی 04)، سیدو شریف 10، پارہ چنار 07، پٹن 06، کشمیر: مظفرآباد(سٹی 26،ائیر پورٹ21) ، گڑھی دوپٹہ 12،راولاکوٹ 08، گلگت بلتستان میں بگروٹ 07، گلگت ، ہنزہ 03 اور استور میں 01 ملی میٹر بار ش ریکارڈ کی گئی۔اس دوران ملک میں زیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت تربت 46 اور سبی میں 45ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔

لاہور،اسلام آباد(سیاسی رپوررٹر سے ،سیاسی رپورٹر)وزیراعظم شہبازشریف نے بارش کے دوران بجلی کے تارٹوٹنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات پر انکوائری کا حکم دے دیا اور مزید بارشوں کی پیشگوئی پر فوری اقدامات اورمحکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی، نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے 5گھنٹے لاہور شہر کے ڈوبے علاقوں کا دورہ کر کے نکاسی آب کی نگرانی کی اور انتظامیہ کو موقع پر ہدایات دیتے رہے ۔  تفصیلات کے مطابق موسلا دھار بارش ہونے پر وزیراعظم نے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کو امدادی ٹیموں کو فوری متحرک کرنے کی ہدایت کی ،ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے ، میونسپل اور متعلقہ اداروں کے اشتراک عمل کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات کیے جائیں،انہوں نے ضرورت پڑنے پر نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )اور وفاقی اداروں کو پنجاب حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی، انہوں نے کہا شہریوں کو خبردار کرنے ، ٹریفک کے متبادل انتظامات اور نکاسی آب کیلئے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے ،دیہی علاقوں میں شہریوں کی بروقت محفوظ مقامات پر منتقلی، مال مویشیوں کو بچانے اور اربن فلڈنگ سے بچا ئو کیلئے فوری اور ضروری اقدامات تیز کیے جائیں،شہباز شریف نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا سمیت تمام پہاڑی علاقوں کی انتظامیہ کو بھی متحرک کرنے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم نے لاہور میں لیسکو کے بجلی کے تارٹوٹنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا، وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین بریگیڈئیر (ر)مظفر علی رانجھا واقعے کی تحقیقات کریں گے ۔شہبازشریف نے خیبرپختونخوا میں آندھی و بارش اور درخت گرنے سے 3 افراد کے جاں بحق ہونے پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ دریں اثنا نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے شدید بارش میں لاہور شہر کے مختلف علاقوں کا 5گھنٹے تک ہنگامی دورہ کیا،اپنی تمام سرکاری مصروفیات ترک کرکے موسلا دھار بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جا ئزہ لیا اورنکاسی آب کے لئے موقع پر ہی کمشنر لاہورڈویژن اورایم ڈی واسا کو ہدایات دیں،محسن نقوی نے قذافی سٹیڈیم، گلبرگ، لبرٹی، کلمہ چوک انڈر پاس، گارڈن ٹاؤن، فیروز پور روڈ، قرطبہ چوک، ہربنس پورہ انڈرپاس،لکشمی چوک، ریلوے اسٹیشن، سرکلر روڈ، اردو بازار، اسلام پورہ،ملتان روڈ،سمن آباد،گلشن راوی،بند روڈ،یتیم خانہ چوک،علامہ اقبال ٹاؤن میں بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔ محسن نقوی نے ہربنس پورہ انڈر پاس میں پانی کی جلد نکاسی کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنی جلد ہو سکے ، ہربنس پورہ انڈر پاس کو کلیئر کیا جائے ،نگران وزیراعلیٰ نے لکشمی چوک میں پانی کی نکاسی کا کام جلدمکمل کئے جانے پر انتظامیہ اور واسا کی کارکردگی کو سراہا۔ محسن نقوی نے اردو بازار کے سامنے روڈ اور اسلام پورہ میں مزید مشینری کے ذریعے کھڑے پانی کی نکاسی کے لئے ہدایات دیں۔ محسن نقوی نے اسلام پورہ میں دکانداروں اور رہائشیوں سے ملاقات کی اور نکاسی آب کے کام کے حوالے سے پوچھا۔

اسلام پورہ میں شہریوں نے نکاسی آب کے کام میں سست روی کی شکایات کیں جس پر وزیراعلیٰ محسن نقوی نے نکاسی آب کے کام کو جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی،محسن نقوی نے گارڈن ٹاؤن،گلبرگ اورسی بی ڈی مین بلیووارڈ انڈرپاس کابھی دورہ کیا،محسن نقوی نے سی بی ڈی مین بلیووارڈ انڈر پاس سے پانی کی نکاسی کیلئے گلبرگ میں پمپنگ سٹیشن کا بھی معائنہ کیااورکلمہ چوک سے لبرٹی کی جانب انڈر پاس میں پانی کی نکاسی کے کام میں سست روی پر برہمی کا اظہار کیا۔محسن نقوی نے سی بی ڈی مین بلیووارڈمیں پانی کی نکاسی کا کام سی بی ڈی سے واپس لینے کا حکم دیا اور نکاسی آب کا کام واسا کے حوالے کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے کہا کہ لاہور کے تمام پراجیکٹس کی کلیئرنس آئندہ سے واساکی سرٹیفکیشن سے مشروط ہوگی،پورے شہر میں پانی کی کی نکاسی کا کام تسلی بخش ہے تاہم اس انڈر پاس میں پانی کا کھڑا ہونا غفلت کے زمرے میں آتاہے ،محسن نقوی نے چیف ٹریفک آفیسر لاہور کو تمام شفٹ کو فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک رواں دواں رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں،مختلف علاقوں کے دورے کے بعد لکشمی چوک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا لاہور میں ریکارڈ موسلا دھار بارش ہوئی ہے جس کی توقع نہیں تھی، نہر اوور فلوہونے سے گارڈن ٹاؤن،گلبرگ،مسلم ٹاؤن اوردیگر ملحقہ آبادیوں میں زیادہ پانی آیا ہے ،لیکن پنجاب حکومت کی ٹیموں نے کافی حد تک پانی کو نکال دیا ہے ،اگر مزید بارش ہوتی ہے تو اس کے لئے بھی ہماری تیار ی ہے ،مجموعی طورپر واسا کے 134 پمپس نکاسی آب کررہے ہیں اورجہاں زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہاں پر مزید پمپس لگادیئے جاتے ہیں۔ لاہور کے سیوریج کا ایشو بہت پرانا ہے لیکن اس مسئلے کا حل لانگ ٹرم منصوبہ بندی میں ہے ۔جو بھی منتخب حکومت آئے گی وہ اس مسئلے کو حل کرے گی۔ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم شہریوں کی مشکلات کا ازالہ کریں اورانہیں ریلیف فراہم کریں۔ٹیم اچھی ہوتو نتائج بھی اچھے ملتے ہیں بلاشبہ ہماری ٹیم بہترین ہے اورسارے لوگ محنت کررہے ہیں۔ان شاء اللہ لاہور کے تمام علاقے کلیئر کرائیں گے ۔ محسن نقوی نے لاہور سمیت دیگر شہروں میں شدید بارشوں کے باعث فوری نکاسی آب کے لئے ہدایات جاری کیں اورصوبائی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے ، ریسکیو1122 اور واسا کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نکاسی آب کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، انہوں نے بتایا کہ کرنٹ لگنے ،چھتیں گرنے اوردیگر حا دثات میں تقریباً7افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ایک بچہ پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہواہے ، بجلی کے تار گرنے سے بھی اموات پر تحقیقات کیلئے چیئرمین انسپکشن ٹیم کو مقرر کر دیا ہے اوروہ اگلے تین روزکے اندر رپورٹ پیش کریں گے ،اگر لیسکو کی غفلت سامنے آئی توذمہ داروں کے خلاف لازماً کارروائی ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں