سیلاب:شہروں کو بچانے کی کوششیں،دربدر متاثرین خوراک کے منتظر:لاہور،گوجرانوالہ،گجرات میں شدید بارشوں سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے:این ڈی ایم اے
لاہور(خبر نگار،اپنے کامرس رپورٹر سے ،اپنے سٹاف رپورٹر سے ، نمائندگان،اے پی)پنجاب کے تینوں بپھرے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج کی پنجاب بھر میں تباہ کاریاں جاری ہیں ،دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں زیر آب اور فصلیں برباد ہوگئیں، لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
جھنگ ،چنیوٹ،قصور ،ملتان سمیت شہروں کو بچانے کیلئے بندوں میں شگاف ڈالے جا رہے ہیں جبکہ گھروں سے دربدر ہونے والے سیلاب متاثرین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور عارضی کیمپوں میں خوراک کی فراہمی کے منتظر ہیں ،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض بھی تیزی سے پھیلنے لگے۔ادھر این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے لاہور،گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگلے 12تا18گھنٹوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے جس سے سیلابی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے کیونکہ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں غیر معمولی بلند پانی کا بہاؤ برقرار ہے ۔دوسری طرف بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب اس نے مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا جبکہ دریائے سندھ کی سطح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے کچے کے متعدد دیہات زیرآب آگئے ہیں ۔پنجاب میں اموات 28 ہوگئیں،سیالکوٹ میں ڈوبنے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستان کے مشرقی صوبہ پنجاب میں سیلاب کے باعث لاکھوں افراد محصور اور بے یارو مددگار ہیں جہاں حکومت اور ریسکیو ادارے متاثرین کو خوراک اور طبی سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
سیلاب کی یہ لہر پیر کے روز اس وقت شروع ہوئی جب غیرمعمولی بارشوں کے بعد بھارت کے ڈیموں سے دریائے ستلج، چناب اور راوی میں اچانک پانی چھوڑا گیا۔ حکام کے مطابق یہ چار دہائیوں میں پہلا اتنا بڑا سیلاب ہے جس نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لیا۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق اب تک تقریباً 3 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ ایک ملین سے زائد متاثر ہیں۔ صرف اس ہفتے پنجاب میں 20 ہلاکتیں ہوئیں جس سے جون کے اواخر سے اب تک ملک بھر میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 820 تک پہنچ گئی ہے ۔لاہور کے نواحی دیہات زیرآب آ گئے ہیں جس سے شہر میں بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ جمعہ کو حکام اور فوج نے دریائے چناب کے پشتوں میں متعدد مقامات پر کنٹرول بریک لگا کر دباؤ کم کرنے کی کوشش کی تاکہ بڑے شہروں کو بچایا جا سکے ۔متاثرین کا کہنا ہے حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ نارووال کے ایک کسان محمد سلیم نے بتایاہم بڑی مصیبت میں ہیں۔ نہ حکومت آئی ہے نہ کوئی اور ہماری خبر لینے آیا ۔
نارووال یونیورسٹی کے لیکچرار رانا حنان نے کہا ان کے علاقے میں 100 سے زائد گھر تباہ ہوئے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت جان بچانے پر مجبور ہوئے ۔کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ محفوظ جگہوں پر پہنچنے والے بھوک، جلدی امراض اور دست جیسے مسائل کا شکار ہیں۔متاثرہ کسانوں نے بتایا چارہ ختم ہونے سے مویشی بیمار ہو رہے ہیں جبکہ اجناس کے ذخائر بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ نرگس بی بی نے روتے ہوئے کہاسیلاب نے سب کچھ برباد کر دیا ہے ، بس ہماری جانیں باقی ہیں۔ادھر سندھ میں بھی ممکنہ نئے سیلاب کی اطلاعات نے خوف کی لہر دوڑا دی ہے ۔نارووال سے خبر نگار کے مطابق نارووال میں سیلاب سے ہزاروں ایکڑ دھان اور چارے کی فصل تباہ ہو گئی لوگوں کا کھانے پینے کا سامان سیلاب کی نذر ہو گیا ،لوگ بے یارومددگار اپنے مویشیوں کے ساتھ سڑکوں کے کنارے بیٹھے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی، ایک بریانی کا ڈبہ اور پانی کی بوتل دیتے ہیں ہمارے ساتھ تصاویر بناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں یہ سب فوٹو سیشن ہو رہا ہے ۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کی شدت کا الرٹ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیاہے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث لاہور سٹی اور رائیونڈ متاثر ہو سکتے ہیں، 30 اگست تا 3 ستمبر راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے ، بھارت کے تھین ڈیم سے بھی پانی کا اخراج متوقع ہے جبکہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے راوی کے بہا ؤمیں نمایاں اضافے کا امکان موجود ہے ۔دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت 1لاکھ62 ہزار کیوسک کا بہا ؤموجود ، 2سے 3 ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا جہاں 1لاکھ 50 ہزار کیوسک تک بہا ؤمتوقع ہے ، سدھنائی کے مقام پر یہ سیلابی ریلا شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے ، راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث قصور،پتوکی،اوکاڑہ،رینالا خورد، دیپالپور، گوگیرہ، تاندلیانوالہ، کمالیہ، پیرمحل، اڈا حکیم بھی متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں سیلاب گزشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔جمعہ کو این ڈی ایم اے سے جاری الرٹ میں کہا گیا گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہا ئو3لاکھ 85ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیاجو پچھلی 3 دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے ۔
این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں و سیلاب سے نقصانات کی تفصیل بھی جاری کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ چو بیس گھنٹوں کے دوران مزید 23 افراد جان کی بازی ہار گئے ،جاں بحق افراد میں سے 22 کا تعلق پنجاب، ایک کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے ۔دریائے راوی میں تاریخ کی سب سے بلند ترین پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی۔ شاہدرہ میں دو لاکھ 20ہزار کیوسک پانی کا نکاس ہوا۔ سیلاب متاثرہ علاقوں سے 24 گھنٹوں کے دوران 20ہزار سے زائد افرادکا محفوظ انخلا مکمل کیا گیا۔لاہور میں تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال،فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی،نیو میٹرو سٹی اورچوہنگ ایریا سے سینکڑوں افراد کا محفوظ انخلا کیا گیا۔لاچیوالی سکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے چار بلاکس میں پانی داخل ہونے پر تمام رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔ بیشتر متاثرین چوہنگ ٹھوکر ریلیف کیمپ میں مقیم ہیں جہاں ا ن کو قیام و طعام کی بہترین سہولتیں دی جارہی ہیں۔دریائے راوی میں سیلاب سے بابو صابو اور شیرا کوٹ کے درمیان آبادیوں طلعت پارک، عامر پارک اور سو فٹی روڈ کے علاقہ میں بھی سیلابی پانی داخل ہوگیا ، انتظامیہ نے آبادیاں خالی کروا لیں۔
لوگوں کا قیمتی سامان پانی میں ڈوب گیا،سیلاب متاثرین کا کہنا تھا سیلاب نے سب کچھ بہا دیا بچیوں کا جہیز اور قیمتی سامان پانی کی نذر ہوگیا ۔انتظامیہ کا کہنا ہے بابو صابو کے مقام پر پانی میں کمی آرہی ہے ۔وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر انتظامیہ نے بروقت بندباندھ کر تحصیل فیروزوالہ اور شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچالیں۔ درجن بھر گائوں اور سینکڑوں مویشی، زرعی زمینیں اور لوگوں کا روزگار بچا لیا گیا۔ اعوان پار ک ، سنت پورہ اور دیگر ملحقہ آبادیاں حکومت کی جانب سے بنائے گئے بند کی وجہ سے سیلابی ریلے سے محفوظ رہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا اور ریلیف کمشنر پنجاب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا پنجاب کے تین دریاؤں کی صورتحال سنگین ہے ، سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28ہوگئی ،قصور شہر کو بچانے کے لیے ستلج کا آر آر اے ون بند توڑدیا گیا۔ستلج میں پانی کا بہائو چار لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا لاہور، شاہدرہ کو بچا لیا ، راوی کی صورتحال بہتر ہونے لگی ہمیں ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کا خطرہ درپیش ہوگا۔پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند جائے گا تو خطرہ ٹلے گا۔
بلوکی پہ پانی کی سطح اونچی ہوگی تو نالہ ڈیک پر مسائل پیدا ہوں گے ۔اوکاڑہ ،ساہیوال کو راوی میں سیلاب کے پیش نظر خطرہ ہوگا۔ تریمو میں پانی بڑھ رہا ہے ، کوئی نقصان نہیں ہوگا۔عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہر گھنٹے میں اعداد و شمار چینج ہورہے ہیں، ہمیں تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تباہی کا سامنا کرنا ہے ،اب تک 28 اموات ہوچکی ہیں،بیشتر اموات ڈوبنے سے ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے سیالکوٹ میں ڈوبنے والے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ایمرجنسی سروسز کے دوران سیالکوٹ کے مختلف علاقوں سے 2 خواتین اور ایک شیر خوار بچے سمیت 16 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جو لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔جاں بحق ہونے والوں میں ثاقب، عمران، ذیشان، منیب،عبداﷲ، مختاراں بی بی، فرحان، نور عمران، اریض، احسان علی، امانت علی، فضل عباس اور عدنان علی شامل ہیں۔لاہورسے سیاسی نمائندہ کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے کمیٹی روم میں اجلاس ہوا جس میں صوبے بھر میں جاری سیلابی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوری اور موثر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔
متاثرہ اضلاع میں اضافی انتظامی افسروں کی تعیناتی، غیر محفوظ علاقوں سے آبادی کے فوری انخلا، ٹینٹ ویلجز کے قیام، سیلاب زدہ علاقوں میں کلینک آن ویلز بھیجنے جیسے اہم فیصلے کیے گئے جبکہ سیلاب زدہ علاقوں میں تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند رکھنے کی تجویز پر غور بھی کیا گیا۔ اجلاس میں شریک تمام محکموں کو سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے اور فوری ردِعمل یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اجلاس کو بتایا مون سون کے نویں سپیل کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ڈی جی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ساہیوال میں بارشیں متوقع ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا راوی میں اس وقت 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک کا سیلابی بہاؤ موجود ہے تاہم آئندہ چند گھنٹوں میں بہاؤ میں کمی کی توقع ہے ۔ ادھربھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی بدستور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔دریاؤں کے آس پاس آباد دیہات، شہر اور گلی محلے دریا کا منظر پیش کرنے لگے ، لوگوں کے آشیانے اجڑ گئے اور راستے برباد ہوگئے ۔
کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد،کمالیہ ،منڈی بہاؤالدین،بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آگئے اور زمینی رابطہ کٹ گیا جبکہ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے ۔چناب میں پانی کا بڑا ریلا جھنگ میں داخل ہو گیا، پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا جس سے سڑک ڈوب گئی، چنیوٹ کے نواحی دیہات سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے ۔ جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے ریوازریلوے برج کے قریب دھماکا کرکے شگاف ڈال دیا گیا ، شگاف کے لیے بارودی مواد بچھایاگیا، شگاف سے پانی قریبی دیہات میں پھیلے گا اور تریموں ہیڈ ورکس پر دباؤکم ہوسکے گا، شگاف ڈالنے سے 5 کلو میٹر کا ریلوے ٹریک بھی متاثر ہو گا۔قصور کو بچانے کیلئے آر آر اے ون بند میں شگاف ڈالا گیا ہے ۔ دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے ، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کاروں، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر پانی کا بہائو 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک ریکارڈکیا گیا۔ 100 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں شدید متاثر ہوئیں ۔ چناب میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جھنگ کے مختلف دیہات میں سیلابی پانی نے تباہی مچا دی ۔سینکڑوں ایکڑ اراضی پر سبزیاں،مکئی،چارہ،دھان کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ۔ پاکپتن میں ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، درمیانے درجے سے اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاعات ہیں ۔دریائے ستلج میں بہاولپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے ۔اگلے 48 گھنٹوں میں پانی کا بڑا ریلا بہاولپور پہنچے گا انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔نارنگ منڈی کے سرحدی دیہات میں سیلاب کا پانی کم ہونا شروع ہوگیا ۔ 70 دیہات متاثر، 46 ہزار ایکڑ زرعی رقبے کو نقصان پہنچا۔علاوہ ازیں حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 14 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، پنجاب میں حالیہ سیلاب نے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچائی، جس کی وجہ سے اناج کی اہم فصلیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔
پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا مون سون کی طوفانی بارشوں اور پڑوسی ملک کی جانب سے اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑنے سے صوبے میں بہنے والے تین دریاؤں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوا، بعض جگہوں پر دریا کے کناروں کو توڑنا بھی پڑا جس کی وجہ سے 1692 سے زیادہ دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوا۔ہائی رسک علاقوں میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔ضلع شیخوپورہ میں فیض پور، دھمیکے ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے ۔ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے ، نتی خالص، لمبے جاگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دئیے جائیں گے ، اب تک 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ کیا ہے ۔دریائے راوی نے نارنگ منڈی میں بھی تباہی مچا دی، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی، مواصلات کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث کئی دیہات اور ڈیرہ جات کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔اس کے علاوہ نارووال کے کئی دیہات زیر آب آ گئے ،قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک سیلاب کی زد میں آگیا جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔
دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے ، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔کمالیہ میں دریائے راوی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے ، سیلابی پانی نے قریبی رہائشی آبادیوں میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے ، 26 دیہات میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے انخلا کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔چنیوٹ کی تحصیل لالیاں میں موضع کلری کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آنے کے بعد ہزاروں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ۔ساہیوال میں اورنگ آباد کے بند میں شگاف پڑنا شروع ہو گیا ہے ، بند سے ملحقہ آبادیاں پانی کی لپیٹ میں آ گئی ہیں ،انتظامیہ نے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی ہے ۔این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پانی کی سطح 1,751 فٹ تک پہنچنے پر جمعہ کی صبح 6 بجے راول ڈیم کے سپل وے گیٹ کھول دئیے گئے ۔کورنگ نالہ میں پانی کے بہاؤ کو قابو کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ بڑھنے سے حافظ آباد کی 75 بستیاں ڈوب گئیں۔ جھنگ کے ٹریموں ہیڈورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور چارے کی فراہمی جاری ہے ۔پاکپتن میں بے گھر افراد دریا کے پشتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، متاثرین کے مطابق انہیں خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ۔بہاولپور میں دریائے ستلج کے زمیندارہ بند میں شگاف پڑنے سے دیہات اور ہزاروں ایکڑ اراضی ڈوب گئی ہے ، ریسکیو حکام نے یوسف والا اور احمد والا بند کو شدید متاثرہ قرار دیا ہے ۔سیالکوٹ سے نمائندہ دنیا کے مطابق ریلوے حکام نے نارووال اور سیالکوٹ جانے والی ٹرینوں کو بند کر دیا۔مسافروں کیلئے نارووال اور سیالکوٹ ریلوے سٹیشن بھی مکمل طور پر بندکردیا گیا ہے ۔ لاہور سے راولپنڈی جانیوالی ٹرین کی روانگی منسوخ کردی گئی ۔سیالکوٹ پسرور، نارووال ریلوے ٹریک کی مرمت کے بعد ٹرینوں کی بحال کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا ۔ادھر بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا گیا۔
آزاد کشمیر کے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے )کے مطابق بھارتی مقبوضہ علاقے سے آزاد کشمیر میں دریائے جہلم میں پانی چھوڑا گیا ۔ بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا ریلا کنٹرول لائن چکوٹھی کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہوگیا۔ مظفرآباد میں دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ،چکوٹھی کے مقام سے پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مظفر آباد، ہٹیاں بالا اور نیچے کی طرف منگلا تک کے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے ۔این ڈی ایم اے نے تینوں مشرقی دریائوں میں موجود شدید سیلابی صورتحال کے باعث نشیبی دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کے خطرہ کا انتباہ جاری کیا ہے ۔نشیبی اور دریائی علاقے خطرے میں ہیں اوور فلو، بند ٹوٹنے اور علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے ،متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں۔جمعہ کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے ،ممکنہ نقصان کے خطرے کے پیش نظر بند توڑ کے بہائو کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25ہزار سے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے متوقع ہیں، گڈوبیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک ،سکھربیراج میں 6تا 7ستمبر کے دوران8لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک ،کوٹری بیراج میں 8 تا 9 ستمبر کے دوران 8لاکھ سے 10 لاکھ کیوسک بہا ئومتوقع ہے ۔این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ 12 تا 13 ستمبر تک ہائی الرٹ پر رہیں۔
پاک فوج کاسیالکوٹ،نارووال،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔پاک فوج کے جوان متاثرین کوہیلی کاپٹر،کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پرمنتقل کر رہے ہیں،جوانوں نے گوجرانوالہ اورہیڈخانکی میں بھی متاثرین سیلاب کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا،سیالکوٹ اور نارووال میں بھی سیلاب میں گھرے افراد کی محفوظ مقامات پرمنتقلی جاری ہے ۔پاک فوج نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریسکیواینڈریلیف کیمپس بھی قائم کیے ہیں۔ادھر تربیلا میں دریائے سندھ میں پانی کی آمد ایک لاکھ 88 ہزار 500 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 88 ہزار 100 کیوسک ہے ۔منگلا میں دریائے جہلم میں پانی کی آمد 28 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 8 ہزار کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 400 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 94 ہزار 300 کیوسک، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 22 ہزار 900 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 18 ہزار 900 کیوسک، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 32 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 32 ہزار 200 کیوسک ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں آئندہ چند روز کے دوران گرچ چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں اور بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر ہے ۔پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 سے 31 اگست کے دوران شدید بارشیں متوقع ہیں۔خیبرپختونخوا میں بھی 31 اگست تک شدید بارشیں جبکہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے ۔