الیکٹرک وہیکل چارجنگ سیٹشنز کو53روپے یونٹ سبسڈی دینے کا فیصلہ

الیکٹرک وہیکل چارجنگ سیٹشنز کو53روپے یونٹ سبسڈی دینے  کا فیصلہ

چارجنگ سٹیشن کو فی یونٹ 92کے بجائے 39روپے کا ملے گا، مالکان کو قیمت صارفین سے وصول کرنے کا اختیار ہو گا 2030 تک 1ارب ڈالر تیل امپورٹ کی بچت ، آئی ایم ایف نے ای و ی پر ٹیکس وڈیوٹیز بڑھانے کا مطالبہ کیا:سیکرٹری صنعت پاکستان کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 10فیصد بڑھ کر 71فیصد تک پہنچ گیا ،وزارت خزانہ ماہرین کی خزانہ کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد (مدثر علی رانا)حکومت نے الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز کیلئے فی یونٹ 53 روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد چارجنگ سٹیشنز کو بجلی 92 کے بجائے 39 روپے فی یونٹ میں فراہم ہوگی۔ چارجنگ سٹیشن مالکان صارفین سے قیمت وصول کرنے کے مجاز ہوں گے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے بتایا کہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2026-30 پر آئی ایم ایف نے اتفاق کیا ہے ۔ پالیسی کے تحت 2030 تک ایک ارب ڈالر کی تیل درآمدات میں بچت ہوگی جبکہ عملدرآمد کیلئے آئی ایف سی سے 1.8 ملین ڈالر گرانٹ حاصل ہوگی۔ ایندھن کی کھپت میں کمی سے 45 کروڑ ڈالر مضر صحت بیماریوں سے بچت ممکن ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ 2024 تک ملک میں 76 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں موجود تھیں جبکہ 2030 تک ان کی فروخت کا ہدف 30 فیصد مقرر کیا گیا ہے ۔ اسی عرصے میں 3 ہزار چارجنگ سٹیشنز قائم کیے جائیں گے اور اڑھائی لاکھ روپے مالیت کی موٹر سائیکل پر 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔ تمام چارجنگ سٹیشنز نیکا کے تحت ریگولیٹ ہوں گے ۔چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس لگایا گیا لیکن دو یا تین پہیوں والی چھوٹی گاڑیوں کو چھوٹ دی گئی، فورم کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے ای وی گاڑیوں پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے ۔

ای وی گاڑیوں کی بیٹری سائز کی بجائے قیمت اور پچاس لاکھ کی بجائے 1 کروڑ ویلیو کی گاڑی پر ودہولڈنگ ٹیکس اکٹھے کرنے پر حکومتی تجویز سے آئی ایم ایف تاحال متفق نہ ہو سکا۔اجلاس میں وزارت خزانہ کے ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 10 فیصد بڑھ کر 71 فیصد تک پہنچ گیا ۔ بیرونی قرضہ 2016 میں 6 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 26 ٹریلین جبکہ اندرونی قرضہ 13.6 ٹریلین سے بڑھ کر 54.5 ٹریلین روپے ہوگیا ہے ۔ڈاکٹر وسیم کے مطابق قرضوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس آمدنی کا صرف 11 فیصد بچتا ہے جس سے دفاع، تنخواہیں، پنشن اور ترقیاتی اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ اگر مالی نظم برقرار نہ رکھا گیا تو 2035 تک قرضہ جی ڈی پی کے 85 فیصد تک پہنچ سکتا ہے ۔ماہرین نے تجویز دی کہ مالیاتی و مانیٹری پالیسیوں میں ہم آہنگی سے قرضوں کو پائیدار بنایا جا سکتا ہے ۔ اگر حکومت 1.5 فیصد بنیادی سرپلس برقرار رکھے تو قرضوں کا تناسب فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لِمٹیشن ایکٹ کے مطابق لایا جا سکتا ہے ۔ وزارت خزانہ کو سود کی شرحوں اور بانڈز کی پیداوار کی پیشگوئی کیلئے ماڈل تیار کرنے اور قرضوں کی ساخت بہتر بنانے کی سفارش کی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں