ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، جب تک تہران براہِ راست امریکی فوجیوں کو ہلاک نہ کرے۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ تنازع کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدر محدود نوعیت کے واقعات اور کشیدگی کو برداشت کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تصادم سے بچا جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد کے سب سے سنگین فوجی واقعات پیش آئے ہیں، ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جن حملوں میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر جاری تنازع نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے باعث توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی بحری تجارت متاثر ہوئی ہے، ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اقدامات کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تازہ فوجی کارروائیوں کو دفاعی ردِعمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل جنگ کی واپسی کی علامت نہیں ہیں۔
انہوں نے کانگریس کی ایک سماعت میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایرانی اقدامات کے جواب میں کی جا رہی ہیں، اگر وہ ان جہازوں پر فائرنگ نہیں کرتے تو ہم بھی فائرنگ نہیں کرتے، لیکن ہمیں جواب دینا پڑتا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بار بار ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے متعدد بار اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ قریب ہے، جس کا مقصد مستقل امن کا قیام، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔
پاکستان کا جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ
دوسری جانب پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فریق جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اسے برقرار رکھیں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں اور نئے تصادم تنازع کے پرامن حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان بطور سہولت کار اور ثالث اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے گا تاکہ امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔