تازہ اسپیشل فیچر

28 ویں آئینی ترمیم کی بازگشت!

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) 28 ویں ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، شہر اقتدار میں کئی مہینوں بعد سیاسی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیشنز کے دوران سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے۔

عید کے فوری بعد بجٹ اجلاس بلایا جائے گا، اگرچہ بجٹ کی تاریخ ابھی طے ہونا باقی ہے مگر 5 یا 9 جون کی تاریخیں زیر غور ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 28 ویں ترمیم آرہی ہے؟ اگر آ رہی ہے تو کب؟

حکومت 28 ویں ترمیم کی خبروں کی تاحال تردید کر رہی ہے مگر یہ کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی وزراء ایسے ہی کہتے سنائی دیتے تھے، 26 ویں آئینی ترمیم ہو یا 27 ویں، دونوں کے آنے سے قبل وفاقی وزراء بڑے اعتماد سے یہی کہتے تھے کہ کوئی ترمیم نہ تو آرہی ہے نہ ہی اس کی تیاری ہو رہی ہے، مگر میڈیا مسلسل ترمیم آنے کی خبریں دیتا رہا اور دونوں ترامیم آ کر رہیں۔

28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے، اس مرتبہ بھی وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ اس کے کوئی آثار نہیں، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے دو روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی انہیں یہ ہدایات نہیں ملیں کہ اراکین پارلیمنٹ کی اسلام آباد میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی کوئی تیاری نہیں ہو رہی کیونکہ دو تہائی اکثریت پوری کرنے کیلئے اراکین تک پیغام رسانی کی ذمہ داری وفاقی وزیر پارلیمانی امور کی ہے۔

دوسری جانب لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 28 ویں ترمیم کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نئی آئینی ترمیم نہیں لا رہی، 28 ویں ترمیم اگر آنی ہے تو اس کیلئے سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، وزراء کے یہ بیانات بالکل ویسے ہی ہیں جو وہ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم سے قبل دیا کرتے تھے، مگر ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم پر کام شروع ہو چکا ہے اور امکان ہے کہ یہ بجٹ سیشن کے بعد آسکتی ہے۔

اگرچہ اس مرتبہ آئینی ترمیم میں معاشی اور انتظامی ریفارمز کا ایک بڑا پیکیج لانے کا پلان ہے مگر سب سے زیادہ سیاسی ہائپ ووٹر کی عمر 25 سال تک مقرر کرنے کی خبر کے باعث بنی، رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں ووٹر کی عمر 18 سے 25 سال کرنے کا اشارہ دیا، حکومتی اراکین کی جانب سے یہ توجیہ پیش کی گئی کہ اگر الیکشن لڑنے کیلئے 25 سال عمر کی کم از کم حد مقرر ہے تو ووٹ ڈالنے والے کی بھی یہی ہونی چاہئے مگر چند ہی گھنٹوں میں رانا ثناء اللہ سمیت کئی وفاقی وزراء نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔

اس وقت ملک میں تین کروڑ ایسے ووٹرز ہیں جن کی عمر 18 سے 25 سال تک ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹرز کی عمر کا ڈیٹا کئی ماہ سے جاری کرنا چھوڑ دیا ہے، اگر حکومت یہ فیصلہ کر لے کہ ووٹر کی عمر کم از کم 25 سال تک ہونی چاہیے تو پہلے سے موجود تین کروڑ ووٹرز کے ساتھ آئندہ دو برسوں میں مزید ایک کروڑ کے لگ بھگ اہل ووٹرز انتخابی عمل سے باہر ہو جائیں گے، اس معاملے پر سوشل میڈیا اور میڈیا میں کافی تنقید کی گئی ہے۔

ایک جانب جہاں حکومت نوجوانوں کیلئے بڑے بڑے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ایک سیاسی جماعت کے ساتھ نوجوانوں کی حمایت کے تاثر کو زائل کیا جا سکے دوسری جانب ایسی خبریں ان تین کروڑ سے زائد نوجوان ووٹرز میں بے چینی پیدا کر رہی ہے، ووٹر کی عمر کی یہ بحث چند ماہ پہلے بھی سامنے آئی تھی، الیکشن کمیشن نے بھی ووٹر لسٹوں کا ڈیٹا جاری کرنا ختم کر دیا، ایک مرتبہ پہلے توجیہات، وضاحتیں اور تردیدیں بتا رہی ہیں کہ کہیں اس معاملے پر بات چیت اور غور و خوض کیا گیا ہے، تاہم آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ سامنے آنے تک اسے فی الحال قیاس آرائی ہی کہا جا سکتا ہے۔

28 ویں آئینی ترمیم آنے کی صورت میں بڑی تبدیلیاں 18 ویں آئینی ترامیم کی کچھ شقوں کی واپسی اور قومی مالیاتی کمیشن کے سٹرکچر میں تبدیلی کی صورت میں ہوں گی، 18 ویں ترمیم کے ذریعے 2010ء میں صوبوں کو خودمختاری دیتے ہوئے صحت، تعلیم، آبادی اور کھیلوں سمیت کئی وزارتیں منتقل کر دی گئیں، مگر یہ اچھا تجربہ نہیں رہا بلکہ اس کے بہت سے شعبوں میں بھیانک نتائج سامنے آئے۔

ان وزارتوں میں پالیسیاں وفاق کی سطح پر ہونی چاہیں، یہ اختیارات صوبوں کے پاس جانے کے بعد تقریباً سبھی صوبے صحت، بہبودِ آبادی، تعلیم اورکھیلوں سمیت کئی شعبوں میں ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے جس سے ریاستی مسائل کے سا تھ ساتھ عام آدمی کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ این ایف سی سے متعلق موجودہ آئینی شقوں کے مطابق صوبوں کے کوٹے میں اضافہ تو کیا جا سکتا ہے کمی نہیں۔

ایک ایسا ملک جس کے مشرقی اور مغربی بارڈر پر مسلسل کشیدہ صورتحال جیسے چیلنجز ہیں اور اس کے اوپر قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کا بوجھ ہے، قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیاں کرنے کے بعد وفاق کے پاس مزید قرض لینے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتا، ٹیکس وصولیوں سے صوبوں کو ان کا حصہ منتقل کرنے کے بعد وفاق کے پاس بچ جانے والی رقم اخراجات سے کہیں کم ہوتی ہے اور مزید قرضے لے کر نظام چلایا جاتا ہے، ایسے میں پالیسی سازوں کے نزدیک ضروری ہو چکا ہے کہ این ایف سی کے سٹرکچر میں تبدیلی کی جائے۔

18 ویں ترمیم کی اہم شقوں کے رول بیک اور این ایف سی کے سٹرکچر میں تبدیلی کی سب سے بڑی مخالف پاکستان پیپلز پارٹی ہے، پیپلز پارٹی27 ویں ترمیم میں بھی این ایف سی میں تبدیلی کی مخالفت کر چکی ہے، اس مرتبہ پیپلزپارٹی کے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت سے متعلق لہجے میں تبدیلی بتا رہی ہے کہ وہ اس ترمیم میں بھی کچھ شقوں پر مزاحمت کرے گی مگر 27 ویں ترمیم کے برعکس اس مرتبہ صورتحال شاید مختلف ہو، یہی وجہ ہے کہ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے برعکس اس مرتبہ ہونے والی آئینی ترمیم کے دوران سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ دکھائی دے سکتا ہے۔