تازہ اسپیشل فیچر

24 مئی: مارخور کا عالمی دن

لاہور: (اظہر عبادت) دنیا بھر میں ہر سال 24 مئی کو مارخور کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس نایاب اور خوبصورت جنگلی جانور کے تحفظ کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے، اقوامِ متحدہ نے 2024ء میں پہلی مرتبہ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا، جس کے بعد یہ دن ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک اہم علامت بن چکا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ دن اس وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور اس کی بڑی تعداد ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے، مارخور اپنے خوبصورت بل کھاتے ہوئے سینگوں، مضبوط جسم اور پہاڑوں پر چڑھنے کی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے، یہ جانور زیادہ تر دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے اور فطرت کے حسن کی ایک جیتی جاگتی مثال سمجھا جاتا ہے۔

مارخور بنیادی طور پر جنگلی بکری کی ایک نایاب نسل ہے، اس کے سینگ پیچ دار ہوتے ہیں جو اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز بناتے ہیں، نر مارخور کے سینگ چار سے پانچ فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں جبکہ مادہ کے سینگ نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں، یہ جانور زیادہ تر پاکستان کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ افغانستان، تاجکستان اور بھارت کے بعض علاقوں میں بھی اس کی موجودگی دیکھی گئی ہے، مارخور نہایت پھرتیلا جانور ہے اور خطرناک چٹانوں پر آسانی سے چڑھ سکتا ہے، یہ زیادہ تر گھاس، جھاڑیوں اور پہاڑی پودوں پر گزارا کرتا ہے، سردیوں میں یہ نسبتاً نچلے علاقوں کی طرف آ جاتا ہے جبکہ گرمیوں میں بلند پہاڑوں کا رخ کرتا ہے۔

مارخور کے تحفظ کی کامیاب کوششیں

ایک وقت ایسا بھی تھا جب غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی ماحول کی تباہی کے باعث مارخور کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی تھی، ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو یہ خوبصورت جانور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا، پاکستان نے مارخور کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے، مختلف قومی پارکس، جنگلی حیات کے محفوظ علاقے اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن پروگرام شروع کیے گئے، مقامی آبادی کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا تاکہ لوگ جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھ سکیں، ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں مارخور کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت (IUCN) نے بھی پاکستان کی کامیاب حکمتِ عملی کو سراہا ہے، ایک اندازے کے مطابق اب پاکستان میں مارخور کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے، پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام بھی متعارف کرایا گیا جس کے تحت محدود اور قانونی شکار کی اجازت دے کر حاصل ہونے والی آمدنی مقامی کمیونٹیز کی فلاح اور جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ کی جاتی ہے، اس پروگرام نے مقامی لوگوں کو مارخور کے تحفظ کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ماحولیاتی توازن میں مارخور کا کردار

مارخور صرف ایک خوبصورت جانور ہی نہیں بلکہ پہاڑی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے، یہ مختلف پودوں اور جھاڑیوں کو کھا کر قدرتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ برفانی چیتے جیسے شکاری جانوروں کی خوراک کا بھی اہم ذریعہ ہے، اگر مارخور کی نسل ختم ہو جائے تو پورا پہاڑی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ جنگلی حیات اس کے تحفظ کو نہایت ضروری قرار دیتے ہیں، مارخور سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، دنیا بھر سے سیاح شمالی پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں میں اس نایاب جانور کو دیکھنے آتے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

عالمی دن منانے کا مقصد

مارخور کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد لوگوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور پیدا کرنا ہے، اس دن مختلف ممالک میں سیمینارز، آگاہی واکس، تعلیمی پروگرام اور میڈیا مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے،پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرتے ہیں، سکولوں اور جامعات میں طلبہ کو ماحولیات اور جنگلی جانوروں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل قدرتی وسائل کے تحفظ کی ذمہ داری محسوس کرے۔

ماہرین کے مطابق اگر انسان قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ پر توجہ نہ دے تو مستقبل میں کئی نایاب جانور ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں، مارخور کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فطرت کا حسن برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، مارخور پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، قومی شناخت اور جنگلی حیات کی علامت ہے، اس کے تحفظ میں پاکستان کی کامیاب کوششیں پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔

24 مئی کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگلی جانور صرف قدرت کا حصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور ماحول کے توازن کیلئے بھی ضروری ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، مقامی آبادی، تعلیمی ادارے اور عوام مل کر جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کام کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی مارخور جیسے خوبصورت اور نایاب جانور کو قدرتی ماحول میں دیکھ سکیں۔

اظہر عبادت روزنامہ دنیا کے ساتھ وابستہ ہیں، ان کی تحریریں نوجوان نسل کیلئے دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں۔