افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ سراٹھانے لگا:عالمی برادری طالبان پر دباؤ ڈالے: شہباز شریف

افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ سراٹھانے لگا:عالمی برادری طالبان پر دباؤ ڈالے: شہباز شریف

دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے کوششیں کی جار ہیں ،تنازعات کا پرامن حل پاکستانی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ، مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی ،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ضروری موسمیاتی تبدیلی، غربت ، عدم مساوات دنیا کیلئے بڑے چیلنجز ، عشق آباد عالمی فورم سے خطاب ،روس ، ترکیہ ،ایران ، تاجک ،کرغز صدور سے ملاقاتیں ، یادگار غیرجانبداری کا دورہ ،پھول چڑھائے

عشق آباد،اسلام آباد(اے پی پی،نامہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ سر اٹھانے لگا ہے ، خطرے سے نمٹنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ،عالمی برادری طالبان رجیم پر دبائو ڈالے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرائیں ۔پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق خوارادیت کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کو دنیا کیلئے بڑے چیلنجز قراردیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا جدید ٹیکنالوجی تک سب کیلئے منصفانہ اور بلا امتیاز رسائی ناگزیر ہے ،سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے ،موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے ، تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ،پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد ، عالمی دن برائے غیر جانبداری اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا اگرچہ یہ ترکمانستان کا میرا پہلا دورہ ہے لیکن میں اپنے آپ کو یہاں قطعا اجنبی محسوس نہیں کررہا،ترکمانستان کے قومی رہنما قربان گلی بردی محمدوف اور صدرسردار بردی محمدوف میرے لئے بھائیوں جیسے ہیں ،پاکستان اور ترکمانستان کی دوستی کو مضبوط بنانے میں ان کا اہم کردار ہے ۔وزیراعظم نے کہا ترکمانستان کی قیادت کو مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے اور 2025کو اقوام متحدہ کی طرف سے امن و اعتمادکا سال قرار دینے کی کامیاب کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان نے رواں سال سلامتی کونسل میں غیرمستقل رکن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں ۔

دہشت گرد ی کا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے ،عالمی برادری کو چاہئے وہ افغان طالبان رجیم پر زور دے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کرے اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو روکے ۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان مستقل جنگ بندی کیلئے قطر، ترکیہ ، سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور ایران کی پرخلوص کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے ،پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا جس کی بعد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی توثیق کی ،8 عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے رکن کی حیثیت سے ہمیں امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن کی کوششوں سے بے گناہ فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اورمستقل اور پائیدار جنگ بندی،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا اور غزہ کی تعمیر نو میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ضروری ہے ، پاکستان فلسطینی عوام اور بہادرکشمیریوں کے بنیادی حق، حق خوارادیت کیلئے تمام کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا،پائیدار امن کی خواہش پائیدار ترقی سے جڑی ہوئی ہے ۔ گلوبل وارمنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا پاکستان نے صاف اور سرسبزماحول کیلئے حل پیش کئے ہیں اور اس حوالے سے ہمارے اقدامات عالمی مثال ہیں ۔ انہوں نے کہا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات دنیا کیلئے بڑے چیلنجز ہیں، یہ ایک عالمی خطرہ ہیں جو مشترکہ ذمہ داری کے تحت عملی اقدامات کے متقاضی ہیں ۔وزیر اعظم شہباز شریف کی فورم کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے خوشگوار غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ، ترک صدر رجب طیب اردوان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمن اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں کے دوران خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

فورم کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ۔ شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی پالیسی کی علامت یادگار غیرجانبداری کا دورہ بھی کیا۔ وزیراعظم نے یادگارغیرجانبداری پر پھول چڑھائے ۔ اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترکمانستان کے صدر بردی محمدوف سمیت متعدد عالمی رہنما بھی موجود تھے جن سے وزیراعظم کا خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے توانائی، پٹرولیم اور معدنیات کے ترجیحی شعبوں میں ترکیہ کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے ۔ شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنمائوں نے ترکیہ اور پاکستان کے مابین تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم نے رواں برس پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قیادت کی سطح پر ہونے والے مسلسل روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ سیاسی، توانائی، اقتصادی، دفاع اور سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اہم شعبوں میں حال ہی میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیہ کے اس شعبے میں تجربے سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح کے تبادلے بہت جلد ہوں گے ۔

وزیراعظم نے علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیا جس میں اسلام آباد-تہران-استنبول ریل نیٹ ورک کی بحالی شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے میں ترکیہ کے تعمیری کردار کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ امن تب ہی ممکن ہو گا جب پاکستان کے سلامتی کے خدشات کو پوری طرح سے حل کیا جائے ۔ترک صدررجب طیب اردوان نے وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے باقاعدہ اعلیٰ سطح ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ۔ شہباز شریف نے فورم کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے دو طرفہ ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے ، سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے ، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اسلام آباد-بلوچستان ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فریقین کے مل کر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر پزشکیان نے کہا ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف ترکمانستان کا سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں